570

اسلام میں عورت کا مقام اور حقوق

﴿لِّلَّذِیْنَ یُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِہِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْہُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْم، وَإِنْ عَزَمُواْ الطَّلاَقَ فَإِنَّ اللّہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴾․ (سورہ بقرہ، آیت:226-225)
جو لوگ قسم کھا لیتے ہیں اپنی عورتوں کے پاس جانے سے ان کے لیے مہلت ہے چار مہینے کی، پھر اگر باہم مل گئے تو الله بخشنے والا ،مہربان ہے اوراگر ٹھہرا لیا ہے چھوڑ دینے کو تو بے شک الله سننے والا، جاننے والا ہے

تفسیر:بیوی کے پاس نہ آنے کی قسم کھانے کا حکم
اہل عرب میں یہ ظالمانہ دستور تھا کہ لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ آنے کی قسم کھا کر انہیں مستقل اذیت میں مبتلا کر دیتے ، نہ طلاق ملتی کہ دوسری شادی کر لیں، نہ بیوی جیسے حقوق ملتے۔ ایسی قسم اٹھانے کو اصطلاح شریعت میں ”ایلاء“ کہتے ہیں ۔ ایلاء کا معنی بھی قسم اٹھانا ہے ۔ (احکام القرآن للجصّاص: البقرہ تحت آیة رقم:226)

الله تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں واضح کر دیا ہے کہ ایسے لوگوں کو صرف چار مہینے کی مہلت ہے ،اگر وہ ازدواجی تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں ،تو قسم توڑ کر ازدواجی تعلقات بحال کریں اور قسم کا کفارہ دیں او راگر چار مہینے تک ازدواجی تعلقات بحال نہیں کیے تو بیوی کو خود بخود طلاق بائن پڑ جائے گی۔

إیلاء کے متعلق فقہی مسائل
1..اگر قسم نہیں کھائی، لیکن بیوی سے صحبت کرنے سے چار مہینے تک رکا رہا توإیلاء نہ ہو گا۔
2..خدا کی قسم نہیں کھائی، بلکہ یوں کہا کہ” تجھ سے صحبت کروں تو تجھ کو طلاق“ اس سے بھی إیلاء ہو جائے گا۔ (تبیین الحقائق:3/177)
3..کسی مدّت متعینہ کو ذکر کیے بغیر اگر یوں کہہ دیا کہ ”خداکی قسم! تجھ سے صحبت نہیں کروں گا“ اگر اسی طرح چار مہینے بغیر رجوع کیے گزر گئے تو إیلاء ہو جائے گااور بیوی کو طلاق بائن پڑ جائے گی۔ (ایضاً)
4..اگر قسم میں چار مہینے کی مدّت متعین کر دے ،تب بھی إیلاء ہو جائے گا۔
5..اگر چار مہینے سے زائد عرصے کی مدت ذکر کر دے تو بھی ایلاء ہو جائے گا۔ ( تبیین الحقائق:3/175)
6..اگر چار مہینے سے کم کی مدت متعین کر دے تو إیلاء نہ ہو گا، البتہ قسم ہو جائے گی، اگر اس عرصے میں بیوی سے صحبت کر لی تو قسم کا کفارہ دینا ہو گا اگر قسم پوری کر لی تو گناہ بھی نہ ہو گا، نہ کفارہ واجب ہو گا، نہ نکاح پر کوئی اثر پڑے گا۔

﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوَء ٍ وَلاَ یَحِلُّ لَہُنَّ أَن یَکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّہُ فِیْ أَرْحَامِہِنَّ إِن کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُہُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ فِیْ ذَلِکَ إِنْ أَرَادُواْ إِصْلاَحاً وَلَہُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْْہِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْْہِنَّ دَرَجَةٌ وَاللّہُ عَزِیْزٌ حَکُیْم﴾․ (سورہ بقرہ، آیت:228)
اور طلاق والی عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو تین حیض تک او ران کو حلال نہیں کہ چھپا رکھیں جو پیدا کیا الله نے ان کے پیٹ میں اگر وہ ایمان رکھتی ہیں الله پر او رپچھلے دن پر اور ان کے خاوند حق رکھتے ہیں ان کے لوٹا لینے کا اس مدت میں اگر چاہیں سلوک سے رہنا اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ مردوں کا ان پر حق ہے دستور کے موافق او رمردوں کو عورت پر فضیلت ہے اور الله زبردست ہے، تدبیر والا

ربط آیات: چوں کہ گزشتہ آیات میں زندگی کے انفرادی اور اجتماعی احکام بیان کیے جار ہے ہیں ،اب میاں بیوی کے معاشرتی احکام بیان کیے جارہے ہیں۔

تفسیر: میاں بیوی کے باہمی حقوق
مذکورہ آیت میں ایک حق تو بتایا جارہا ہے کہ اگر مزاج میں عدم موافقت کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی ہو گئی ہے تو عورت کو چاہیے عدت گزارتے ہوئے اگر اس کے پیٹ میں حمل ہے تو ظاہر کر دے۔ چوں کہ حمل کی وجہ سے عدت کی مدت بڑھ جاتی ہے۔ اور عدت سے گزرنے اور جلدی دوسری جگہ شادی کرنے کے شوق میں حمل کو چھپا کر نہ بیٹھے اور عدت میں بھی پہلے شوہر کو زیادہ حق حاصل ہے، اگر وہ حسن معاشرت کے ساتھ بیوی رکھنے پر آمادہ ہے تو وہ رجوع کر لے، کیوں کہ عورتوں کے بھی کچھ حقوق ہیں، آگے ان حقوق پر روشنی ڈالتے ہیں۔

یورپ کی تحریک آزادی نسواں کا سرسری جائزہ
اسلام نے عورت کو انفرادی او رمعاشرتی طور پر کیا مقام دیا ہے ؟ اس پر تفصیلی گفتگو کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ایک نظر یورپ کی تحریک آزادی نسواں پر ڈال لیں ،کیوں کہ ہمارے ارد گرد اٹھنے والی حقوق نسواں کی علم بردار تحریکوں کا فکر ی ماخذ یہی تحریک ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ زمانہ قدیم میں عورتوں کا کوئی معاشرتی مقام نہ تھا ، روم ویونان کے فلاسفہ اسے نحوست کی علامت قراردیتے تھے ، بلکہ یورپی مفکرین ایک عرصے تک اس موضوع پر سر کھپاتے رہے کہ عورت میں روح ہوتی ہے یا نہیں؟ اگر ہوتی ہے تو حیوانی ہے یا انسانی؟ اگر انسانی ہے تو مرد کے مقابلے میں اس کا معاشرتی مقام کیا ہے ؟ وہ مرد کی پیدائشی غلام ہے یا اس کا مرتبہ غلاموں سے ابتر ہے؟ اگر کسی عورت کو مقام ومرتبہ ملتا تو فقط اس لیے کہ وہ ان کی معاشرتی تقریبات کی روح رواں بن کر عیاش طبقے کے لیے سامان تفریح پیدا کرتی ہے،اس کی عزت کا سارا انحصار اسی پر تھا،کہ وہ مرد کے لیے کہاں تک سامان عیش مہیاکر سکتی ہے ، یورپ میں جب تک جاگیرداری نظام قائم تھا ،عورت کی حیثیت زرعی غلام کی سی تھی، تاہم اس کی کفالت اور نان ونفقہ کی ذمے داری مرد ہی اٹھاتا تھا۔ لیکن عورتیں گھریلو صنعتوں میں کام کرکے مرد کی کفالت کا معاوضہ بھی چکا دیتی تھیں، جب جاگیرداری نظام کی جگہ صنعتی انقلاب نے لی، تو لوگ دیہاتوں کو چھوڑ کر شہروں میں آبسے، پھر یورپ کا مزاج بخل اور سنگ دلی اور خود غرضی سے مرکب ہے ، ہر شخص کی زندگی کا محور اس کی ذات ہے ، کوئی کسی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار نہیں ، مرد نے عورت کا مالی سہارا بننے سے انکار کر دیا، خواہ ماں ہو یا بیوی۔ جس نے بے راہ روی کو جنم دیا۔ جنسی جذبات کی تسکین کے لیے اخلاق ومذہب کے تمام بندھن ٹوٹ گئے ، اب عورت کی عزت وعصمت بھی گئی اور مزید یہ کہ معاشی ذمے داری بھی خو دانہیں کے کمزور کندھوں پر آپڑی، خاندانی نظام بگڑ گیا اور عورت کو نفسیاتی اور مالی تحفظ ملنے والے سارے ذرائع ختم ہو گئے ، رہی سہی کسر پہلی جنگ عظیم نے نکال دی، جس میں یورپ کے لاکھوں آدمی مر گئے ، کئی مستقل معذور ہو گئے ، اپنے پیچھے لاکھوں عورتیں اور بچے بے سہارا چھوڑ گئے، مردوں کی تعداد کم ہو گئی ، تعدد ازدواج ناجائز تھا، کارخانوں میں عورتوں سے مزدوری کے علاوہ جنسی تسکین بھی حاصل کی جاتی ، انہیں معاوضہ بھی مردوں کی بنسبت کم دیا جاتا ، ان حالات میں عورتوں کو اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے تحریک چلانا پڑی ، ہڑتالیں ہوئیں، جلسے ہوئے ، ملکی قانون سازی میں حق رائے دہی کا مطالبہ کیا گیا، تاکہ وہاں جاکر عورتوں کے حقوق وضع کیے جائیں، پھر پارلیمنٹ سے پاس کرا کر ملکی قوانین بناکر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیے جائیں، اس پوری جدوجہد میں کئی کھٹن راستے آئے ، جہاں عورتوں کو اپنی جانوں سے بھی ہاتھ دھونے پڑے ، بہرحال مطالبے منظور ہوئے، ملکی قوانین بن گئے ، عورت پارلیمنٹ میں پہنچ گئی، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟
1..اب بھی عورت کو بحیثیت عورت کوئی مقام نہیں ملا، بلکہ جس قدر مرد کا دل لبھانے کے فن سے واقف ہو گی اسی قدر عزت ملے گی۔
2..اب بھی اس کے نازک کندھوں پر معاشی ذمے داری کا فریضہ قائم ہے، شوہر مالی سہارا بننے کے لیے تیار نہیں ۔
3..اب بھی اسے ذاتی تشخص اور آزادی نصیب نہیں ہوئی، اپنے تعارف کے لیے باپ اور شوہر کا سہارا لینا پڑتا ہے ، اپنی جائیداد پر تصرف کے لیے باپ یا شوہر کا واسطہ ضرور ی ہے۔
4..اب بھی اس کی ذات تجارتی مارکیٹنگ کے لیے” ایک وسیلہ“ ہے۔ (مُلخص شبہات حول الاسلام، ص:171)

اسلام میں عورت کا مقام
اسلام نے عورت کو چودہ سو سال پہلے سے ایسے حقوق دیے ہیں جن سے یورپ کی عورت آج بھی محروم ہے اور بغیر کسی مطالبے کے دیے۔
1..شرفِ انسانیت:اسلام نے عورت کو شرف انسانیت سے نواز کر اسے کائنات کی اشرف المخلوقات کا جز قرار دیا:﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالاً کَثِیْراً وَنِسَاء ﴾․ ( النساء:1) ( اے لوگو! ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیداکیا اس کا جوڑا اورپھیلائے ان دونوں سے بہت مرداور عورتیں۔
2..عزت نفس کا احترام:اسلام مرد وعورت کی عزت وناموس اور مقام ومرتبہ میں کوئی تفریق روا نہیں رکھتا:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا یَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَی أَن یَکُونُوا خَیْْراً مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَی أَن یَکُنَّ خَیْْراً مِّنْہُن﴾․(الحجرات:11)(اے ایمان والو! ٹھٹھا نہ کریں ایک لوگ دوسروں سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے، شاید وہ بہتر ہوں ان سے)
3..مساوی اجر وثواب:اسی طرح آخرت میں اجر وثواب کے لحاظ سے مرد وعورت دونوں کو مساوی قرار دیا ہے:﴿أَنِّیْ لاَ أُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنکُم مِّن ذَکَرٍ أَوْ أُنثَی﴾․ (آل عمران:195) ( میں ضائع نہیں کرتا محنت کسی محنت کرنے والے کی تم میں سے، مرد ہو یا عورت)
4..حصول علم:اسلام نے عورت کے لیے دینی تعلیم کا حصول لازمی قرار دیا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے حقوق ، شوہر کے حقوق ، علاوہ معاشرتی حقوق اور حلال وحرام کا امتیاز کر سکے ، دنیاوی علوم، جو مباح ہیں، شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان کے سیکھنے پر بھی کوئی رکاوٹ نہیں۔
5..خود مختاری:عورت اپنے معاملات میں جو شرعی حدود سے باہر نہ ہوں، مکمل خود مختار ہے، بلکہ نکاح جیسے اہم اور بنیادی مسائل اس کی رضا مندی کے بغیر منعقد ہی نہیں ہو سکتے اور اپنی جائیداد کے تصرف میں کسی واسطے کی محتاج نہیں، اس کا شوہر اس کے مہر میں سے بھی کچھ واپس نہیں لے سکتا۔
6..علیحدگی کا حق:اگر شوہر ظالم ہے او راس کے ساتھ رہنا مشکل ہے تو حق خلع استعمال کرکے علیحدگی اختیار کر سکتی ہے۔
7..معاشی کفالت:شادی سے پہلے تعلیم وتربیت، نان نفقہ کا انتظام، بلوغت کے بعد اچھے رشتے کی تلاش اور پھر باعزت رخصتی کرانا والدین کا شرعی فریضہ ہے ، شادی کے بعد نان ونفقہ کی تمام تر ذمے داری شوہر پر عائد ہو جاتی ہے۔یوں اس کے نازک کندھوں پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا۔
8..حق وراثت:عزیز واقارب کے فوت ہونے کے بعد ان کے ترکہ میں عورتوں کا حصہ بھی مقرر ہے اور وہ پنے مال میں مکمل خود مختار ہوتی ہیں، جہاں چاہیں صرف کریں۔
یہاں پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ عورتوں کا حصہ مردوں کے حصے کے مقابلے میں آدھا کیوں ہوتا ہے؟ یاد رہے مرد پر معاشی بوجھ زیادہ ہوتا ہے، والدین کا نفقہ، بیوی کا نفقہ، اولاد کا نفقہ، بعض اوقات ”ولی“ ہونے کی حیثیت سے بہنوں اور قریبی اعزہ کا نفقہ بھی لازم ہو جاتا ہے، اس کے مقابلے میں عورت پر کوئی معاشی بوجھ نہیں ہوتا، بیٹی کی حیثیت سے اس کا نفقہ باپ پر ہے ، بیوی کی حیثیت سے اس کا نفقہ شوہر پر ہے، ماں ہونے کی حیثیت سے اس کا نفقہ اولاد پر ہے ۔ اس کی وجہ سے عورت کا حصہ مرد کے مقابلے میں آدھارکھا گیا ہے، جو اس کا جیب خرچ ہے، مرد کا دگنا حصہ اس کے افضل ہونے کی وجہ سے نہیں، اگر افضل ہونے کی وجہ سے حصہ دگنا ہوتا تو پھر نیک، صالح، عالم کا حصہ، جاہل کے حصے سے زیادہ ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔
9..قرآن کریم مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے ۔ ﴿وَعَاشِرُوْہُنَّ بِالَمْعُرْوْفِ﴾اور گزران کرو عورتوں کے ساتھ اچھی طرح) اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے سب سے اچھا وہ ہے جو اپنے گھرو الوں کے ساتھ اچھا ہو ۔(جامع الترمذی، المناقب، رقم الحدیث:3895)
10..دوسرے نکاح پر کڑی شرط:اگر شوہر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے یہ سوچنا ہو گا کہ وہ دونوں بیویوں میں عدل، انصاف کے وہ تمام تقاضے پورے کر سکے گا جو شریعت مطہرہ نے شوہر پر عائد کیے ہیں؟ مثلاً نان ونفقہ میں برابری، ساتھ رہنے میں برابری ، اگر وہ اس انصاف پر قادر ہے توفبہا، بصورت دیگراسے دوسری شادی کی اجازت نہیں، تاکہ پہلی بیوی کے حقوق ضائع نہ ہوں، اسی طرح بیوی پر بھی کچھ حقوق ہیں، اطاعت شعار ہو ، نیکی میں رغبت رکھنے والی ہو، قناعت پسند ہو ، شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت ومال کی محافظ ہو ، جب شوہر بستر پر بلائے تو بلاعذر شرعی انکار نہ کرے۔

اسلام نے عورت کو جو مقام دیا ہے اسے دیکھ کر سمجھ میں نہیں آتا کہ حقوق نسواں کی تنظیموں نے مسلمان خواتین کو کیوں ہدف بنا رکھا ہے؟ ان کے طریقہ واردات اورچیخ وپکار سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اصل مقصد پردہ نشین اور باحیا خواتین کو گھروں او رپردوں سے نکال کر بے حیائی کو فروغ دینا ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیمیں مسلمان ممالک میں کام کرنے کے باوجود عورتوں کو دیے گئے اسلامی حقوق کا مطالبہ اسلام ( مذہب) کا حوالہ دے کر نہیں کرتیں، کیوں کہ اس سے ان کے مقاصد پر زد پڑتی ہے، مثلاً :بے حیائی کو فروغ دینا ،خاندانی نظام کو تباہ کرنا ، اگر ان کا واقعی یہی مقصد ہے تو معاف کیجیے اسلام اس چھچھورے پن کی اجازت نہیں دیتا ،بلکہ ایسی سرگرمیوں کو عزت وشرف کے منافی سمجھتا ہے ، ان تنظیموں کو واپس یورپ لوٹ جانا چاہیے، جہاں کی مظلوم عورت اس ”آزادی“ سے تنگ آکر اسلام کے سایہ عاطفت میں پناہ لے رہی ہے۔ ( مُلخص: شبہات حول الاسلام: الاسلام والمرأة:171)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.