217

اور تجھے کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟۔

شب قدر ہزار مہینوں سے بہترہے۔ اس میں روح الامین اور فرشنے اپنے رب کے حکم سے (خیر و برکت کے) ہر امر کے ساتھ اترتے ہیں۔ یہ رات طلوع صبح تک کے لے سلامتی ہے۔ ( سور ۃالقدر)
کیسا حسین اور وجد میں لانے والا منظر قرآن پیش کرتا ہے کہ فرشتوں کے جھرمٹ میں روح الامین زمین کی جانب رواں دواںہیں اہل زمین کے لئے سوغات ،کائنات کا سب سے عظیم تحفہ لے کر ۔۔۔آسمان سے زمین تک ہر طرف نور ہے اور پوری کائنات سراپا نور ہے ۔نہ صرف یہ رات سلامتی ہے طلوع صبح تک بلکہ یہ رات جو عظیم پیغام لے کر آتی ہے رہتی انسانیت تک کے لئے سلامتی کا پیغام ہے۔
اس رات نے درحقیقت پوری کائنات کو ایک خوشی اور سر شاری سے ہمکنار کر دیا یہ رات عرش و زمین کے باہمی اتصال کی بہت خوبصورت اور بہت حیرت انگیز رات ہے۔ ایسی رات جس کا زمین و آسمان نے آج تک مشاہدہ نہ کیا تھا ۔انسانی فہم و ادراک جتنی بھی ترقی کر جائے وہ اس عظیم رات کی عظمت و ادراک کرنے سے قاصر رہے گاکہ ۔۔۔تجھے کیا معلوم کہ لیلۃ القدر کیا ہے؟
یہ رات رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے
حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں کو(۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹) میں شب قدر کو تلاش کرو۔
صحیح بخاری
یہ قدر والی رات ہے کیونکہ وہ عظیم الشان فیصلہ اور تدبیر جو اس رات میں کی گئی اس نے واقعی بنی نوع انسان کی تقدیر بدل کر رکھ دی ۔قرآن کی شکل میں جو عقیدہ قانون ،جو آئین اورجو اصول و ضوابط وضع کئے گئے ا نہوں نے انسانیت کو نئی قدروں سے روشناس کرایا ۔ صدیوں سے رائج دور جاہلیت کی سب قدریں سب پیمانے کل تہذیب اور تمدن سب کو اس رات میں مسترد کر دیا گیا ۔اور انسانیت کو عظیم قدریں اور نئے پیمانے دئے گئے ۔لہذا رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیاکہ وہ ہر سال اس عظیم رات کے شایان شان اس کا استقبال کریں اس رات کو آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کریں ۔
رسول ﷺ نے فرمایا:جس کسی نے شب قدر میں اللہ کی عبادت ایمان اور احتساب کی حالت میں کی اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔(صحیحین)
اس امت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے کم کاموں پر اور کم وقت میں اتنا اجر اور برکت رکھ دی ہے جو دوسری امتوں کے حصے میں نہیں آئی۔
ایک روایت کے مطابق جب نبی کریم ﷺ نے پہلی امتوں کے اعمال دیکھے تو وہ طویل عمر ہونے کی بناء پر بہت زیادہ تھے اس پر حضور ﷺنے سوچا کہ میرے امتیوں کی عمر یں تو بہت کم ہیں یہ اپنے اجر میں ان تک کیسے پہنچ پائیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے لیلتہ القدر جیسی عظیم نعمت عطا کی ۔
آج پھر شب قدر ان محرمیوں کی تلافی کے لئے ہمیں پکار رہی ہے۔ یہ نورانی رات مایوسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہمیں پھر اس نور کی طرف دعوت دے رہی ہے جس نے چودہ سو سال قبل انسانیت کی روح کو چمکایا تھا ۔
یہ رات محض ایک رسم اور وظائف کے لئے مقرر نہیں کی گئی بلکہ اس رات کو ہمیں ایمان و احتساب کے ساتھ گزارنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ہم اپنے دل کو بیدار کریں اللہ سے اور قرآن سے اپنا حقیقی تعلق قائم کریں ہمارے دل کی دنیا اس قدر بدل جائے کہ ہمارے عمل سے اس کے اثرات ظاہر ہوں گے ۔اپنے گزرے ہوئے روز و شب کا رات کی تنہائی میں جائزہ لیں ۔جو رعایتیں ہم نے اپنے نفس کو دے کر گناہوں کا خوگر بنایا ہے اس رات میں اس کا احتساب کریں آج روز و شب نہ معلوم کتنے کلمہ گو مسلمانوں کا لہو اس مٹی میں جذب ہو رہا ہے۔ اپنوں اور غیروں کے ہاتھوں کو ن کونسی آزمائش ہے جس کی بھٹی میں ہم سلگ رہے ہیں۔ہم اللہ کی حدوں کو توڑتے ہیں اس کی نعمتوں سے محروم ہیں شب قدر سے ملنے والی سعادت کی ہم نے قدر نہ کی اسی لئے آج نہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں نہ گھر نہ قومی حمیت باقی ہے نہ انسانی جان کی کوئی قیمت ہے ۔یہ سلامتی والی رات یاد دہانی ہے ہمارے لئے کہ حقیقی سلامتی ہمارے معاشرے کی سلامتی ،ایمان کی سلامتی،کردار کی سلامتی، ہمارے گھروں کی سلامتی،ہمارے دلوں کا سکون سب اللہ سے تعلق اور قرآن پر عمل میں مضمر ہے۔ یہ مغفرت اور رحمتوں کی رات ہے۔حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول ﷺ سے دریافت کیا یا رسول ﷺاللہ اگر مجھے یہ معلوم ہوجائے کہ شب قدر کونسی رات ہے تو اس میں کیاپڑھوں تو آپ ﷺ نے جواب دیا
اللَّھمَّ انَّکَ عَفو تحِب العَفْوَ فاعْف َعنِّی
اے اللہ تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے تو مجھے معاف فرما۔
معافی مانگئے اور خود بھی معاف کرنا سیکھئے ان لمحات میں ۔۔۔۔شب قدر کی یہ ساعتیں چند روز بعد ہمیں بھی حاصل ہونے والی ہیں۔ اللہ سے دعاہے کہ وہ ہمیں شبِ قدر کی اس کے شایان شان قدر دانی کرنے والا بنا دے۔آمین

راشدہ نیاز، جامعۃ المحصنات سنجھورو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.