512

تخلیق کائنات اور اس کا مقصد حیات

مفتی محمد وقاص رفیع

اس جہان رنگ و بو کی پیدائش کا حقیقی اور اصلی مقصدبنی نوع انسان کے دل و دماغ کی کائنات اور اس کی روح وجاں کی دنیاکی رونقوں اور نیرنگیوں کوآداب وشاداب رکھنے کے علاوہ اورکچھ نہیں ہے ،اسی میں اس کی راحت وآرام ،آرائس وآسائش کا مکمل سامان ودیعت رکھاگیا ہے، یہ نیلگوں آسماں،زمین کا یہ خوب صورت فرش،دن رات کا آناجانا،سورج اور چاند کی تسخیر کایہ قدرتی نظام،دھوپ چھاؤں کا یہ دلربا کھیل، بہارو خزاں کے یہ ادلتے بدلتے مواسم،سبزہ وسمن میں ملبوس زمین کے یہ نشیب وفراز،دلکش بلندیاں، دلربا گہرایاں ، رنگ برنگی بستیاں ،خوبصورت کہساروں کی حسین اونچایاں،یہ چڑھتے سمندر، یہ بہتے دریا،یہ اُبلتے فوارے ،یہ چھلکتے آبشارے، یہ پھوٹتے چشمے ،فراز کوہ سے گرتی ہوئی یہ بہشت گوش نغمات گاتی ندیاں،چھٹتی بدلیوں سے نچھرتا پانی ، یہ لہلہاتے کھیت،یہ جھومتے درخت، یہ ٹھندی ہوائیں، یہ خو ش گوار فضائیں، یہ دلبہار قدرت کے حسین مناظر،نسیم سحرکے یہ جھونکے، بادصباء کا پھولوں سے ٹکراٹکرا کے گزرنا،یہ ننھے ننھے غنچے،یہ مہکتے مہکتے پھول،یہ نرم نرم پنکھڑیاں،یہ چٹکتی چٹکتی کلیاں، یہ دلکش نظارے،یہ گلشن کی جلوہ آرائی،یہ مہکتے مہکتے گلوں کی رعنائی ،یہ بکھرتے لالہ زاروں کی دلربائی، یہ نکھرتے مرغزاروں کی زیبائی ، لچکتی شاخوں پرطیور چمنستانی کی یہ چہچہاہٹ، بلبل کی یہ نغمہ سرائی، پرندوں کی یہ دلآویز صدائیں، آسمان پرستاروں کی یہمجلس شبینہ،چاندنی کی یہ حسن افروزیاں،یہ سب کچھ اس لئے نہیں کہ من کی دنیا پر کیف طاری کرنے والی یہ دلکش کائنات اپنی ذات میں حسین ہے،بلکہ جہان کی یہ سب رونقیں، یہ تمام جلوہ آ رائیاں ،یہ ساری نیرنگیاں، اس لئے اور صرف اس لئے ہیں تاکہ اس ضعیف البنیان بنی نوع انسان کی جان اور مشام روح ان سے معطر ہوتی رہے اورتاکہ ان سے اس کے د ل ودماغ کی دنیا اور اس کے جسم وروح کی یہ کل کائنات شاداب رہے آباد رہے ،یہی ان کی پیدائش کی غرض ہے اور یہی ان کی تخلیق کامقصد ہے،اس کے علاوہ نہ کوئی ان کی غرض ہے اور نہ کوئی مقصد۔
عین اسی طرح انسان کی تخلیق کا مقصد اصلی اور غرض ا وّلی اس کے سوااور کچھ بھی نہیں کہ وہ ہمہ تن اپنی تمام تر توجہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف مرکوز کرکے اس کی عبادت میں مشغول ہوجائے اور اس کی ذات کی معرفت حاصل کرے اور اپنی زندگی اسلامی نظام اور قرآنی تعلیمات کے سانچے میں ڈھال دے،اسی میں اس کی کامیابی اور کامرانی کاراز مضمر ہے ۔
اس کی روشن اور واضح مثال نبی کریم ا اور حضرات صحابہ کرام ثکابے مثال عہد زرّیں ہے، جس کی مثال عالم انسانی کی تاریخ پیش کرنے سے عاجز ہے قاصر ہے اور مکمل قاصر ہے، کیوں؟ اس لئے کہ ان حضرات کی زندگی کا فلسفہ،اس کا مقصد،اس کے وجود کا ہدف،اور اس کا نصب العین، اس مادی فلسفہء حیات کے خیالات اور اس کے عزائم سے کہیں زیادہ بلندوبالا تھا، انہوں نے اپنی زندگی اپنے پیارے محبوب اکی زندگی کے سانچے میں ڈھال رکھی تھی ،اپنی خواہشات کواللہ تعالیٰ کی خواہشات پرقربان کردیاتھا، خدا اور اس کے رسول اکے حکم کے سامنے ہروقت سر تسلیم خم کئے رکھتے ،ان کی زندگی کا مقصد احیائے دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے علاوہ کچھ اور نہ تھا،انہیں اپنی زندگی کے اس اعلیٰ وارفع مقصد کے حصول کے لئے زندگی کا نذرانہ پیش کرنے کی ضرورت ہوتی تو اپنی سب سے عزیز متاعزندگی کی قربانی کووہ اپنے لئے سعادت سمجھتے،انہیں ایک کیاکئی زندگیا ں عطا ہوتیں تووہ اپنے اس بلند مقصد کے حصول کے لئے وہ سب کی سب قربان کردینے کواپنے لئے خوش بختی تصور کرتے،ان کے نزدیک کبھی جان اور کبھی تسلیم جان تھی زندگی۔
وہ ہمدم رسول صحابہ کرام ثکہ جن کا دل بے نیازہردوجہاں سے غنی ،جن کی امیدیں قلیل،جن کے مقاصد جلیل،جن کی ادائیں دلفریب،جن کی نگاہیں دلنواز،جونرم دم گفتگو،جوگرم دم جستجو،جوسراپاگفتار، جوسراپا کردار،جولڑتے لڑتے مرتے ،جومرتے مرتے لڑتے،جن کے زمانے عجیب،جن کے افسانے غریب،جن کی فضائیں د ل فروز،جن کی نوائیں دلسوز،جن کی جن کی ۔۔۔آہ کہاں سے لائیں ان کی شجاعت و بہادری ، شرافت وصداقت اور ان کے تقویٰ وطہارت کو بیان کرنے کے لئے الفاظ؟معانی ہیں پر الفاظ ختم، دماغ ہیں پرسوچ وبچار کرنے سے عاجز، زبانیں ہیں مگر ان میں طاقت گفتا رہی نہیں،ابھی ان کی بے نظیر اور لازوال زندگی کی داستانیں اور اس کے افسانے تشنۂ لب ہیں ، کہاں کہاں سے لائے جائیں ان کوبیان کرنے کے لئے جداجدا الفاظ؟ صداقت و سچائی میں سب سے اعلیٰ،عدل وانصاف میں سب سے ارفع،شرم وحیاء میں بے مثال، شجاعت وبہادری میں باکمال اور وہ کہ ؂
جن کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے تھے
منہ کے بل گرکے ’’ہو اللہ احد ‘‘کہتے تھے
جن کا شجر فطرت حیا ء سے نمناک ،جوشجاعت وبہادری میں فوق الادراک ،جن کی صداقت بے باک ،جن کاعدل لوث مراعات سے پاک، جن کادم تقریر قوی ، جن کا غم دیں جلی ،جو باطل کی رگ رگ کے لئے نشتر،جن کی آئینۂ ہستی میں عمل کا جوہرنمایاں،جوکافروں کے مقابلہ میں سخت اور آپس میں ایک دوسرے پر انتہائی شفقت ومہربانی کرنے والے اوروہ کہ جن کی تعریف خود قرآن نے کی ہے ( أشدّآء علی الکفّاررحماء بینہم )جس کی ترجمانی اقبالؒ نے کی ہے ؂
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مؤمن
جو یہاں آئے تو فطرت کے پوشیدہ رازوں کی گتھیاں سلجھ گئے،جوہردوجہاں کے راز فطرت پاگئے ، ان کی فضاؤں پربرس گئے چھاگئے ؂
جو یہاں پر راز فطرت پا گئے
وہ فضائے دوجہاں پر چھا گئے
خدا اور رسول اکے ایک ایک اشارے پر مرمٹنے والے ،شمع رسالت کے پروانے، شاہ لولاک اکی عقیدت ومحبت میں سرگرداں پھرنے والے جاں نثار صحابہ کرا م ث کہ جنہوں نے دونوں جہانوں میں رفعت وعظمت کی وہ بلندیاں طے کیں کہ جس کی مثال پیش کرنے سے انسانیت کی تاریخ آج گنگ ہے خاموش ہے،انہیں اس دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری اور اپنی رضا’’رضی اللہ عنہم‘‘کاعظیم مژدہ سناد یا تھا ۔ اقبال ؒ نے کیا ہی خوب کہا ہے ؂
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.