545

تصور حلال و حرام اصول اور مثالیں

حلال و حرام سے متعلق ایک اصول ’’غلبہ ظن‘‘ کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس چیز یا صورت کے بارے میں حلال یا حرام ہونے کے لحاظ سے اشتباہ ہو، اگر اس چیز کے ظاہری حالات سے اس کی حلت یا حرمت میں سے کسی ایک جانب کا غالب گمان ہوتا ہو تو مبتلابِہٖ شخص کے لیے اپنے غالب گمان کے مطابق فیصلہ کر کے عمل کرنا جائز ہے۔ اس اصول کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنے کے لیے چند مثالیں حسب ذیل ہیں:

پہلی مثال:

غالب گمان اور ظاہر حال پر عمل کے اس اصول کی ایک مثال فقہاء کرام رحمہم اللہ کا ذکر کردہ یہ جزئیہ ہے کہ اگر عام گزرگاہ کے کنارے میں ایسی جگہ کوئی حلال جانور ذبح شدہ حالت میں پڑا ہوا ملے جو پڑاؤ کی جگہ نہ ہو اور گزرنے والوں کو اس بات کا غالب گمان ہوتا ہو کہ ذبح کرنے والے نے اس کو عام گزرنے والوں کے لیے مباح کر دیا ہے، تو ایسی صورت میں اس جانور کے گوشت کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ (محیط برہانی)

دوسری مثال:

مذکورہ اصول کی دوسری مثال سے قبل یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگرچہ عام حالات میں کسی چیز یا صورت سے متعلق مبتلا شخص کا غالب گمان شرعاً معتبر ہے، تاہم ایسی صورت میں یہ ضروری ہے کہ اس طرح کسی چیز سے متعلق غالب گمان کسی ظاہری دلیل پر مبنی ہو، ظاہری دلیل اور قرائن خواہ کچھ بھی ہوں، مثلاً: اگر حلال و حرام چیزیں مخلوط ہو گئی ہوں اور یہ پتہ نہ چل رہا ہو کہ ان مخلوط چیزوں میں سے متعین طور پر کون سی چیز حلال ہے اور کونسی چیز حرام ہے؟ تو فقہاء کرام ؒ فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں غلبے اور اکثریت کو بنیاد بنا کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے، جیسے اگر مذبوحہ اور مردار جانوروں کا گوشت اس طور پر مل گیا ہو کہ حلال اور حرام گوشت میں امتیاز مشکل ہو۔ مگر اتنی بات معلوم ہو کہ اس مجموعہ میں حلال اور مذبوحہ جانوروں کا گوشت غالب ہے تو ایسی صورت میں اگر اس مجموعہ سے متعین طور پر کسی گوشت کے بارہ میں یہ غالب گمان ہو کہ یہ حلال ہے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر یہ معلوم ہو کہ گوشت کے کسی مجموعہ میں حرام اور مردار جانوروں کا گوشت غالب اور زیادہ ہے تو ایسی صورت میں اس مجموعہ میں سے اگر کسی متعین گوشت کے بارہ میں یہ گمان بھی ہو کہ وہ حلال ہے تو بھی اس کا استعمال جائز نہیں ہو گا۔ کیونکہ ایسی صورت میں اس گمان کی تائید ظاہر حال سے نہیں ہو گی۔ (البحرالرائق)

تیسری مثال:

اسی اصول کے مطابق فقہائے کرام ؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے بازاروں میں جو چیزیں فروخت ہوتی ہیں، ان کے بارہ میں بھی اگرچہ یہ امکان ہوتا ہے کہ ان میں تھوڑی بہت مقدار ایسے اموال کی ہو جو چوری یا غصب وغیرہ حرام ذرائع سے حاصل کیے گئے ہوں، البتہ مسلمانوں کے اس ظاہری حال سے کہ وہ عموماً حلال چیزیں ہی بیچتے اور خریدتے ہیں اور حرام چیزوں کے لین دین سے اجتناب کرتے ہیں، مسلم اکثریتی آبادی کے بازاروں میں بکنے والی اشیاء کے بارہ میں غالب گمان یہی ہوتا ہے کہ وہ حلال ہیں۔ لہذا اس غالب گمان کے مطابق مسلمانوں کے بازاروں میںعام حالات میں اشیاء کی خرید و فروخت بلا تحقیق بھی جائز ہے۔

چوتھی مثال:

اسی اصول کے مطابق فقہاء کرامؒ کی کتابوں میں گوشت کے بارہ میں بھی یہی تفصیل درج ہے کہ اس کے باوجود کہ گوشت میں اصل حکم حرام ہونا ہے، اگر گوشت مسلم اکثریتی آبادی کے بازار میں بک رہا ہے تو اس کو خریدنا اور استعمال کرنا جائز ہے، اس لیے کہ غالب آبادی کے قرینے سے غالب گمان اسی کا ہوگا کہ وہ گوشت حلال ہے (الا یہ کہ اس کے خلاف پر کوئی دلیل قائم ہو جائے۔)

پانچویں مثال:

سابقہ مثال کے برعکس جہاں غالب آبادی ایسے مشرک اور بُت پرست لوگوں کی ہو جن کا ذبیحہ حلال نہیں، تو وہاں بکنے والے گوشت کو خریدنا اور استعمال کرنا مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہو گا۔ کیونکہ اس کے بارہ میں غالب آبادی کے قرینے سے غالب گمان یہی ہو گا کہ وہ گوشت حرام ہے۔

اس تفصیل بالخصوص گوشت کے بارہ میں فقہاء کرامؒ کی ذکر فرمودہ امثلہ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ غالب گمان کے اس اصول پر عمل اصل حکم پر عمل کے اس اصول سے مقدم ہے، جس کا ذکر ہم آئندہ اصل نمبر تین کے ذیل میں کریں گے۔ مطلب یہ ہے کہ اس طرح کسی چیز سے متعلق غالب گمان خواہ اس چیز کے اصل حکم کے مطابق ہو یا اس کے خلاف ہو، بہر حال اگر غالب گمان کی ظاہر حال وغیرہ کسی خارجی قرینے سے تائید ہوتی ہو تو اس پر عمل اصل حکم پر عمل سے مقدم ہے۔ چنانچہ گوشت سے متعلقہ گزشتہ مثال میں اصل حکم اگرچہ حرمت کا ہے، لیکن فقہاء کرام ؒ فرماتے ہیں کہ اگر گوشت مسلمانوں کے بازارمیں بک رہا ہے تو غالب گمان کے مطابق وہ حلال ہے۔ اسی طرح اس کی ایک مثال ’’الکحل‘‘ کے بارہ میں ہمارے ماضی قریب کے اکابرؒ کا فتویٰ بھی ہے کہ باوجود اس کے کہ شراب میں اصل حرام اور ناپاک ہونا ہے، لیکن ہمارے اکابرؒ نے فرمایا کہ ہمارے زمانے میں چونکہ ’’الکحل‘‘ عام طور پر مصنوعی ذرائع سے تیار ہوتا ہے، اس لیے خوشبوؤں وغیرہ میں استعمال ہونے والے ’’الکحل‘‘ کے بارہ میں یہی کہا جائے گا کہ وہ ناپاک نہیں اور داخلی استعمال کی ایسی جامد مصنوعات کو بھی حرام نہ کہا جائے گا جن میں الکحل استعمال ہوا ہو، مگر وہ کسی بھی درجہ میں نشہ آور نہ ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.