492

جھوٹے نبی (متنبی) کا انجام

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امکانِ نبوت پر روشنی ڈالئے اور بتائیے کہ جھوٹے نبی کا انجام کیا ہوتا ہے؟ مرزا قادیانی کا انجام کیا ہوگا؟

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا حصول ممکن نہیں، جھوٹے نبی کا انجام مرزا غلام احمد قادیانی جیسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں ذلیل کرتا ہے، چنانچہ تمام جھوٹے مدعیانِ نبوت کو اللہ تعالیٰ نے ذلیل کیا، خود مرزا قادیانی منہ مانگی ہیضے کی موت مرا اور دم واپسیں دونوں راستوں سے نجاست خارج ہو رہی تھی۔

مسلمان اور قادیانی کے کلمہ اور ایمان میں بنیادی فرق

س… انگریزی دان طبقہ اور وہ حضرات جو دین کا زیادہ علم نہیں رکھتے لیکن مسلمانوں کے آپس کے افتراق سے بیزار ہیں، قادیانیوں کے سلسلہ میں بڑے گومگو میں ہیں، ایک طرف وہ جانتے ہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر نہیں کہنا چاہئے، جبکہ قادیانیوں کو کلمہ کا بیج لگانے کی بھی اجازت نہیں ہے، دوسری طرف وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٴ نبوت کیا تھا، برائے مہربانی آپ بتائیے کہ قادیانی جو مسلمانوں کا کلمہ پڑھتے ہیں کیونکر کافر ہیں؟

ج… قادیانیوں سے یہ سوال کیا گیا تھا کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی نبی ہیں، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے، تو پھر آپ لوگ مرزا صاحب کا کلمہ کیوں نہیں پڑھتے؟ مرزا صاحب کے صاحب زادے مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے اپنے رسالہ “کلمة الفصل” میں اس سوال کے دو جواب دئیے ہیں۔ ان دونوں جوابوں سے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں کیا فرق ہے؟ اور یہ کہ قادیانی صاحبان “محمد رسول اللہ” کا مفہوم کیا لیتے ہیں؟

مرزا بشیر احمد صاحب کا پہلا جواب یہ ہے کہ:

“محمد رسول اللہ کا نام کلمہ میں اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ نبیوں کے سرتاج اور خاتم النبیین ہیں، اور آپ کا نام لینے سے باقی سب نبی خود اندر آجاتے ہیں، ہر ایک کا علیحدہ نام لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہاں! حضرت مسیح موعود (مرزا صاحب) کے آنے سے ایک فرق ضرور پیدا ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت سے پہلے تو محمد رسول اللہ کے مفہوم میں صرف آپ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء شامل تھے، مگر مسیح موعود (مرزا صاحب) کی بعثت کے بعد “محمد رسول اللہ” کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی۔

غرض اب بھی اسلام میں داخل ہونے کے لئے یہی کلمہ ہے صرف فرق اتنا ہے کہ مسیح موعود (مرزا صاحب) کی آمد نے محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک رسول کی زیادتی کردی ہے اور بس۔”

یہ تو ہوا مسلمانوں اور قادیانی غیرمسلم اقلیت کے کلمے میں پہلا فرق! جس کا حاصل یہ ہے کہ قادیانیوں کے کلمہ کے مفہوم میں مرزا قادیانی بھی شامل ہے، اور مسلمانوں کا کلمہ اس نئے نبی کی “زیادتی” سے پاک ہے، اب دوسرا فرق سنئے! مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے لکھتے ہیں:

“علاوہ اس کے اگر ہم بفرض محال یہ بات مان بھی لیں کہ کلمہ شریف میں نبی کریم کا اسم مبارک اس لئے رکھا گیا ہے کہ آپ آخری نبی ہیں تو تب بھی کوئی حرج واقع نہیں ہوتا، اور ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی، کیونکہ مسیح موعود (مرزا صاحب) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے۔ جیسا کہ وہ (یعنی مرزا صاحب) خود فرماتا ہے: “صار وجودی وجودہ” (یعنی میرا وجود محمد رسول اللہ ہی کا وجود بن گیا ہے۔ از ناقل) نیز “من فرق بینی وبین المصطفیٰ فما عرفنی وما رأیٰ” (یعنی جس نے مجھ کو اور مصطفی کو الگ الگ سمجھا، اس نے مجھے نہ پہچانا، نہ دیکھا۔ ناقل) اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا (نعوذ باللہ! ناقل) جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے۔

پس مسیح موعود (مرزا صاحب) خود محمد رسول اللہ ہے، جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی․․․․․ فتدبروا۔”

(کلمة الفصل ص:۱۵۸، مندرجہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز جلد:۱۴، نمبر:۳، ۴ بابت ماہ مارچ و اپریل ۱۹۱۵ء)

یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہوا کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور قادیانی جب “محمد رسول اللہ” کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔

مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے جو لکھا ہے کہ: “مرزا صاحب خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دنیا میں دوبارہ تشریف لائے ہیں” یہ قادیانیوں کا بروزی فلسفہ ہے، جس کی مختصر سی وضاحت یہ ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا میں دو بار آنا تھا، چنانچہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دوسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرزا غلام احمد کی بروزی شکل میں ․․․ معاذ اللہ!․․․ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر میں جنم لیا۔ مرزا صاحب نے تحفہ گولڑویہ، خطبہ الہامیہ اور دیگر بہت سی کتابوں میں اس مضمون کو بار بار دہرایا ہے۔

(دیکھئے خطبہ الہامیہ ص:۱۷۱، ۱۸۰)

اس نظریہ کے مطابق قادیانی امت مرزا صاحب کو “عین محمد” سمجھتی ہے، اس کا عقیدہ ہے کہ نام، کام، مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے مرزا صاحب اور محمد رسول اللہ کے درمیان کوئی دوئی اور مغائرت نہیں ہے، نہ وہ دونوں علیحدہ وجود ہیں، بلکہ دونوں ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ، ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ چنانچہ قادیانی․․․ غیرمسلم اقلیت․․․ مرزا غلام احمد کو وہ تمام اوصاف و القاب اور مرتبہ و مقام دیتی ہے جو اہل اسلام کے نزدیک صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے۔ قادیانیوں کے نزدیک مرزا صاحب بعینہ محمد رسول اللہ، محمد مصطفی ہیں، احمد مجتبیٰ ہیں، خاتم الانبیاء ہیں، امام الرسل ہیں، رحمة للعالمین ہیں، صاحبِ کوثر ہیں، صاحبِ معراج ہیں، صاحبِ مقامِ محمود ہیں، صاحبِ فتح مبین ہیں، زمین و زمان اور کون و مکان صرف مرزا صاحب کی خاطر پیدا کئے گئے، وغیرہ وغیرہ۔

اسی پر بس نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر بقول ان کے مرزا صاحب کی “بروزی بعثت” آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل بعثت سے روحانیت میں اعلیٰ و اکمل ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی ابتداء کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ ان ترقیات کی انتہا کا، وہ صرف تائیدات اور دفع بلیات کا زمانہ تھا اور مرزا صاحب کا زمانہ برکات کا زمانہ ہے، اس وقت اسلام پہلی رات کے چاند کی مانند تھا (جس کی کوئی روشنی نہیں ہوتی) اور مرزا صاحب کا زمانہ چودہویں رات کے بدرِ کامل کے مشابہ ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ہزار معجزات دئیے گئے تھے اور مرزا صاحب کو دس لاکھ، بلکہ دس کروڑ، بلکہ بے شمار۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذہنی ارتقاء وہاں تک نہیں پہنچا جہاں تک مرزا صاحب نے ذہنی ترقی کی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت سے وہ رموز و اسرار نہیں کھلے جو مرزا صاحب پر کھلے۔

مرزا صاحب کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت و برتری کو دیکھ کر ․․․ قادیانیوں کے بقول ․․․ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں سے عہد لیا کہ وہ مرزا صاحب پر ایمان لائیں اور ان کی بیعت و نصرت کریں۔ خلاصہ یہ کہ قادیانیوں کے نزدیک نہ صرف مرزا صاحب کی شکل میں محمد رسول اللہ خود دوبارہ تشریف لائے ہیں، بلکہ مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر پیدا ہونے والا قادیانی “محمد رسول اللہ” اصلی محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنی شان میں بڑھ کر ہے، نعوذ باللہ! استغفر اللہ!

چنانچہ مرزا صاحب کے ایک مرید (یا قادیانی اصطلاح میں مرزا صاحب کے “صحابی”) قاضی ظہور الدین اکمل نے مرزا صاحب کی شان میں ایک “نعت” لکھی، جسے خوش خط لکھواکر اور خوبصورت فریم بنواکر قادیان کی “بارگاہِ رسالت” میں پیش کیا، مرزا صاحب اپنے نعت خواں سے بہت خوش ہوئے اور اسے بڑی دعائیں دیں۔ بعد میں وہ قصیدہٴ نعتیہ مرزا صاحب کے ترجمان اخبار بدر جلد:۲ نمبر:۴۳ میں شائع ہوا، وہ پرچہ راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے، اس کے چار اشعار ملاحظہ ہوں:

امام اپنا عزیزو! اس جہاں میں

غلام احمد ہوا دار الاماں میں

غلام احمد ہے عرش رب اکبر

مکاں اس کا ہے گویا لامکاں میں

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں!

اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں

محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل#

غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

(اخبار بدر قادیان ۲۵/اکتوبر ۱۹۰۶ء)

مرزا صاحب کا ایک اور نعت خواں، قادیان کے “بروزی محمد رسول اللہ” کو ہدیہٴ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے:

صدی چودہویں کا ہوا سر مبارک

کہ جس پر وہ بدر الدّجٰی بن کے آیا

محمد پئے چارہ سازیٴ امت

ہے اب “احمد مجتبیٰ” بن کے آیا

حقیقت کھلی بعثتِ ثانی کی ہم پر

کہ جب مصطفی میرزا بن کے آیا

(الفضل قادیان ۲۸/مئی ۱۹۲۸ء)

یہ ہے قادیانیوں کا “محمد رسول اللہ” جس کا وہ کلمہ پڑھتے ہیں۔

چونکہ مسلمان، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین اور آخری نبی مانتے ہیں، اس لئے کسی مسلمان کی غیرت ایک لمحہ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کرسکتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پیدا ہونے والے کسی بڑے سے بڑے شخص کو بھی منصبِ نبوت پر قدم رکھنے کی اجازت دی جائے۔ کجا کہ ایک “غلامِ اسود” کو ․․․ نعوذ باللہ!․․․ “محمد رسول اللہ” بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اعلیٰ و افضل بنا ڈالا جائے۔ بنابریں قادیان کی شریعت مسلمانوں پر کفر کا فتویٰ دیتی ہے، مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:

“اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے، کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ وہی ہے۔”

“اور اگر مسیح موعود کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو، مگر دوسری بعثت (قادیان کی بروزی بعثت ․․․ناقل) میں جس میں بقول مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے ․․․․․․ آپ کا انکار کفر نہ ہو۔”

(کلمة الفصل ص:۱۴۷)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

“ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔” (ص:۱۱۰)

ان کے بڑے بھائی مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:

“کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا غلام احمد) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔”

(آئینہ صداقت ص:۳۵)

ظاہر ہے کہ اگر قادیانی بھی اسی محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں جن کا کلمہ مسلمان پڑھتے ہیں تو قادیانی شریعت میں یہ “کفر کا فتویٰ” نازل نہ ہوتا، اس لئے مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ کے الفاظ گو ایک ہی ہیں مگر ان کے مفہوم میں زمین و آسمان اور کفر و ایمان کا فرق ہے۔

کلمہ شہادت اور قادیانی

س… اخبار جنگ “آپ کے مسائل اور ان کا حل” کے عنوان کے تحت آنجناب نے ایک سائل کے جواب میں کہ کسی غیرمسلم کو مسلم بنانے کا طریقہ کیا ہے؟ فرمایا ہے کہ:

“غیرمسلم کو کلمہ شہادت پڑھا دیجئے، مسلمان ہوجائے گا۔”

اگر مسلمان ہونے کے لئے صرف کلمہ شہادت پڑھ لینا کافی ہے تو پھر قادیانیوں کو باوجود کلمہ شہادت پڑھنے کے غیرمسلم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے؟ ازراہ کرم اپنے جواب پر نظر ثانی فرمائیں، آپ نے تو اس جواب سے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا ہے۔ قادیانی اس جواب کو اپنی مسلمانی کے لئے بطورِ سند پیش کرکے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کریں گے اور آپ کو بھی خدا کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا۔

ج… مسلمان ہونے کے لئے کلمہ شہادت کے ساتھ خلافِ اسلام مذاہب سے بیزار ہونا اور ان کو چھوڑنے کا عزم کرنا بھی شرط ہے، یہ شرط میں نے اس لئے نہیں لکھی تھی کہ جو شخص اسلام لانے کے لئے آئے گا ظاہر ہے کہ وہ اپنے سابقہ عقائد کو چھوڑنے کا عزم لے کر ہی آئے گا۔ باقی قادیانی حضرات اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے، کیونکہ ان کے نزدیک کلمہ شہادت پڑھنے سے آدمی مسلمان نہیں ہوتا بلکہ مرزا صاحب کی پیروی کرنے اور ان کی بیعت کرنے میں شامل ہونے سے مسلمان ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے کہ خدا نے انہیں یہ الہام کیا ہے کہ:

“جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔” (تذکرہ طبع جدید ص:۳۳۶)

نیز مرزا قادیانی اپنا یہ الہام بھی سناتا ہے کہ:

“خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔” (مرزا کا خط بنام ڈاکٹر عبدالحکیم)

مرزا صاحب کے بڑے صاحب زادے مرزا محمود احمد صاحب لکھتے ہیں:

“کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔” (آئینہ صداقت ص:۳۵)

مرزا صاحب کے منجھلے لڑکے مرزا بشیر احمد ایم اے لکھتے ہیں:

“ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا، یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد کو نہیں مانتا، یا محمد کو مانتا ہے مگر مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر، بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔” (کلمة الفصل ص:۱۱۰)

قادیانیوں سے کہئے کہ ذرا اس آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ کر بات کیا کریں۔

مرزا قادیانی کا کلمہ پڑھنے پر سزا کا گمراہ کن پروپیگنڈا

س… میرے ساتھ ایک عیسائی لڑکی پڑھتی ہے وہ اسلام میں دلچسپی رکھتی ہے، میں اسے اسلام کے متعلق بتاتی ہوں لیکن جب میں نے اسے اسلام قبول کرنے کو کہا تو وہ کہنے لگی تمہارے یہاں تو کلمہ پڑھنے پر سخت سزا دی جاتی ہے، اخبار میں بھی آیا تھا۔ برائے مہربانی مجھے بتائیں میں اسے کیا جواب دوں؟

ج… اسے یہ جواب دیجئے کہ اسلام قبول کرکے کلمہ پڑھنے سے منع نہیں کرتے نہ اس پر سزا دی جاتی ہے، البتہ وہ غیرمسلم جو منافقانہ طور پر اسلام کا کلمہ پڑھ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں ان کو سزا دی جاتی ہے۔

قادیانی عقیدہ کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی ہی (نعوذ باللہ) محمد رسول اللہ ہیں

س… اخبار جنگ میں “آپ کے مسائل اور ان کا حل” کے زیر عنوان آپ نے مسلمان اور قادیانی کے کلمہ میں کیا فرق ہے، مرزا بشیر احمد صاحب کی تحریر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ:

“یہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے کلمہ میں دوسرا فرق ہے کہ مسلمانوں کے کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں اور قادیانی جب محمد رسول اللہ کہتے ہیں تو اس سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد ہوتے ہیں۔”

مکرم جناب مولانا صاحب! میں خدا کے فضل سے احمدی ہوں اور اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جان کر حلفیہ کہتا ہوں کہ میں جب کلمہ شریف میں محمد رسول اللہ پڑھتا ہوں تو اس سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہوتے ہیں۔ “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں ہوتے۔ اگر میں اس معاملہ میں جھوٹ بولتا ہوں تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی طرف سے مجھ پر ہزار بار لعنت ہو اور اسی یقین کے ساتھ یہ بھی کہتا ہوں کہ کوئی احمدی کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد بجائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے “مرزا غلام احمد قادیانی” نہیں لیتا، اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو اسی طرح حلفیہ بیان اخبار جنگ میں شائع کروائیں کہ درحقیقت احمدی لوگ (یا آپ کے قول کے مطابق قادیانی) کلمہ شریف میں “محمد رسول اللہ” سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی لیتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا حلف شائع کروادیا تو سمجھا جائے گا کہ آپ اپنے بیان میں مخلص ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ فیصلہ کردے گا کہ کون اپنے دعوے یا بیان میں سچا اور کون جھوٹا ہے؟ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو ظاہر ہوجائے گا کہ آپ کے بیان کی بنیاد، خلوص، دیانت اور تقویٰ پر نہیں بلکہ یہ محض ایک کلمہ گو جماعت پر افتراء اور اتہام ہوگا جو ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔

نوٹ:…اگر آپ اپنا حلف شائع نہ کرسکیں تو میرا یہ خط شائع کردیں تاکہ قارئین کو حقیقت معلوم ہوسکے۔

ج… نامہ کرم موصول ہوکر موجب سرفرازی ہوا۔ جناب نے جو کچھ لکھا میری توقع کے عین مطابق لکھا ہے۔ مجھے یہی توقع تھی کہ آپ کی جماعت کی نئی نسل جناب مرزا صاحب کے اصل عقائد سے بے خبر ہے اور جس طرح عیسائی تین ایک، ایک تین کا مطلب سمجھے بغیر اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ساتھ ہی توحید کا بھی بڑے زور شور سے اعلان کرتے ہیں۔ کچھ یہی حال آپ کی جماعت کے افراد کا بھی ہے۔

آپ نے لکھا ہے کہ آپ “محمد رسول اللہ” سے مرزا صاحب کو نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذاتِ عالی کو مراد لیتے ہیں اور یہ کہ اگر آپ ایسا عقیدہ رکھتے ہوں تو فلاں فلاں کی ہزار لعنتیں آپ پر ہوں۔ مگر آپ کے مراد لینے یا نہ لینے کو میں کیا کروں؟ مجھے تو یہ بتائیے کہ میں نے یہ بات بے دلیل کہی یا مدلل؟ اور اپنی طرف سے خود گھڑ کر کہہ دی ہے یا مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے حوالوں سے؟ جب میں ایک بات دلیل کے ساتھ کہہ رہا ہوں تو مجھے قسمیں کھانے کی کیا ضرورت؟ اور اگر قسموں ہی کی ضرورت ہے تو میری طرف سے اللہ تعالیٰ، “انک لرسول الله” کی قسمیں کھانے والوں کے مقابلے میں “انہم لکاذبون” کی قسم کھاچکا ہے۔

میرے بھائی! بحث قسموں کی نہیں، عقیدے کی ہے! جب آپ کی جماعت کا لٹریچر پکار رہا ہے کہ مرزا صاحب “محمد رسول اللہ” ہیں، وہی رحمة للعالمین ہیں، وہی ساقی کوثر ہیں، انہی کے لئے کائنات پیدا کی گئی، انہی پر ایمان لانے کا سب نبیوں (بشمول محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے) عہد لیا گیا ہے، اور مصطفی اور مرزا میں سرے سے کوئی فرق ہی نہیں بلکہ دونوں بعینہ ایک ہیں، وغیرہ وغیرہ، اور اسی پر بس نہیں بلکہ یہ بھی فرمایا جاتا ہے کہ مرزا صاحب چونکہ بعینہ محمد رسول اللہ ہیں اس لئے ہمیں کسی اور کلمے کی ضرورت نہیں، ہاں! کوئی دوسرا آتا تو ضرورت ہوتی اور پھر اسی بنیاد پر پرانے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والوں کو منہ بھر کر کافر بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ نئے محمد رسول اللہ کے منکر ہیں، تو فرمائیے کہ آپ کے ان سب عقائد کو جاننے کے باوجود میں کس دلیل سے تسلیم کرلوں کہ آپ نئے محمد رسول اللہ کا نہیں بلکہ اسی پرانے محمد رسول اللہ کا کلمہ پڑھتے ہیں؟ اگر جناب کو میرے درج کردہ حوالوں میں شبہ ہو تو آپ تشریف لاکر ان کے بارے میں اطمینان کرسکتے ہیں۔

مرزا قادیانی کا دعویٴ نبوت

س… ثابت کریں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، ان کی تحریروں کے حوالے دیں۔

ہمارے محلے کے چند قادیانی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا۔

ج… مرزا قادیانی کے ماننے والوں کے دو گروہ ہیں،ایک لاہوری،دوسرا قادیانی (جن کا مرکز پہلے قادیان تھا اب ربوہ ہے) ان دونوں کا اس بات پر تو اتفاق ہے کہ مرزا قادیانی کے الہامات اور تحریروں میں باصرار و تکرار نبوت کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن لاہوری گروہ اس دعوائے نبوت میں تاویل کرتا ہے۔ جبکہ قادیانی گروہ کسی تاویل کے بغیر مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت پر ایمان لانا ضروری سمجھتا ہے۔

آپ سے جن صاحب کی گفتگو ہوئی ہے وہ غالباً لاہوری گروہ کے ممبر ہوں گے، ان کی خدمت میں عرض کیجئے کہ یہ جھگڑا تو وہ اپنے گھر میں نمٹائیں کہ مرزا قادیانی کے دعوائے نبوت کی کیا توجیہ و تاویل ہے؟ ہمارے لئے اتنی بات بس ہے کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور دعویٰ بھی انہی لفظوں میں جن الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا، مثلاً:

“قل یا ایھا الناس انی رسول الله الیکم جمیعا۔” (الاعراف:۱۵۸)

“قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی۔”

(الکہف:۱۱۰)

وغیرہ، وغیرہ۔

اگر ان الفاظ سے بھی دعویٴ نبوت ثابت نہیں ہوتا تو یہ فرمایا جائے کہ کسی مدعیٴ نبوت کو نبوت کا دعویٰ کرنے کے لئے کیا الفاظ استعمال کرنے چاہئیں؟

رہیں دعویٴ نبوت کی تاویلات! تو دنیا میں کس چیز کی لوگ تاویلیں نہیں کرتے، بتوں کو خدا بنانے کے لئے لوگوں نے تاویلیں ہی کی تھیں، اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹاماننے والے بھی تاویلیں ہی کرتے ہیں۔ جس طرح کسی اور کھلی ہوئی غلط بات یا غلط عقیدہ کی تاویل لائق اعتبار نہیں، اسی طرح حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بھی قطعی غلط ہے اور اس کی کوئی تاویل (خواہ خود مدعی کی طرف سے کی گئی ہو یا اس کے ماننے والوں کی جانب سے) لائق اعتبار نہیں۔ دسویں صدی کے مجدد ملا علی قاری شرح “فقہ اکبر” میں فرماتے ہیں:

“دعوی النبوة بعد نبینا صلی الله علیہ وسلم کفر بالاجماع۔”

ترجمہ:…”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ بالاجماع کفر ہے۔”

آگے چل کر وہ لکھتے ہیں کہ: “اگر نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوش و حواس سے محروم ہو تو اس کو معذور سمجھا جائے گا ورنہ اس کی گردن اڑادی جائے گی۔”

منکرینِ ختم نبوت کے لئے اصل شرعی فیصلہ کیا ہے؟

س… خلیفہ اول بلافصل سیدنا ابوبکر صدیق کے دورِ خلافت میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو حضرت صدیق اکبر نے منکرین ختم نبوت کے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور تمام منکرین ختم نبوت کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت واجب القتل ہیں۔ لیکن ہم نے پاکستان میں قادیانیوں کو صرف “غیرمسلم اقلیت” قرار دینے پر ہی اکتفا کیا، اس کے علاوہ اخبارات میں آئے دن اس قسم کے بیانات بھی شائع ہوتے رہتے ہیں کہ: “اسلام نے اقلیتوں کو جو حقوق دئیے ہیں وہ حقوق انہیں پورے پورے دئیے جائیں گے۔” ہم نے قادیانیوں کو نہ صرف حقوق اور تحفظ فراہم کئے ہوئے ہیں بلکہ کئی اہم سرکاری عہدوں پر بھی قادیانی فائز ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت اسلام کی رو سے واجب القتل ہیں یا اسلام کی طرف سے اقلیتوں کو دئیے گئے حقوق اور تحفظ کے حقدار ہیں؟

ج… منکرین ختم نبوت کے لئے اسلام کا اصل قانون تو وہی ہے جس پر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عمل کیا، پاکستان میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دے کر ان کی جان و مال کی حفاظت کرنا ان کے ساتھ رعایتی سلوک ہے، لیکن اگر قادیانی اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت تسلیم کرنے پر آمادہ نہ ہوں، بلکہ مسلمان کہلانے پر مصر ہوں تو مسلمان، حکومت سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسیلمہ کذاب کی جماعت کا سا سلوک کیا جائے۔ کسی اسلامی مملکت میں مرتدین اور زنادقہ کو سرکاری عہدوں پر فائز کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، یہ مسئلہ نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر اسلامی ممالک کے اربابِ حل و عقد کی توجہ کا متقاضی ہے۔

قادیانی اپنے کو “احمدی” کہہ کر فریب دیتے ہیں

س… آپ کے موٴقر جریدہ کی ۲۹/دسمبر کی اشاعت میں یہ پڑھ کر تعجب ہوا کہ جہاں قادیانی حضرات کے مذہب کا شناختی کارڈ فارم میں اندراج ہوتا ہے وہاں شناختی کارڈ میں اس کا کوئی اندراج نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی فروگزاشت ہے جس سے فارم میں اندراج کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے، یہاں میں یہ گزارش کروں گا کہ قادیانیوں کے لئے لفظ “احمدی” کا اندراج کسی طور جائز نہیں۔ یہ غلطی اکثر سرکاری اعلانات میں بھی سرزد ہوتی ہے، اس کی غالباً وجہ یہ ہے کہ بہت سے حضرات اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ قادیانیوں نے لفظ “احمدی” اپنے لئے کیوں اختیار کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں جو الفاظ “اسمہ احمد” آئے ہیں، وہ دراصل مرزا صاحب کی مراجعت کی پیش گوئی ہے، حالانکہ چودہ سو سال سے جملہ مسلمین کا یہی اعتقاد رہا ہے لفظ “احمد” حضور مقبول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے آیا ہے، اور آپ کا نام احمد مجتبیٰ بھی تھا، اور شاید مرزا صاحب کے والد بزرگوار کا بھی یہی اعتقاد ہو، جنہوں نے آپ کا نام “غلام احمد” رکھا تھا، اسی طرح انجیل میں لفظ “فارقلیط” علمائے اسلام کے نزدیک حضور ہی کی آمد کی طرف اشارہ ہے، کیونکہ فارقلیط معرب ہے یونانی لفظ پیری کلی ٹاس کا جو بذات خود ترجمہ ہے عبرانی زبان میں “احمد” کا جس زبان میں پہلے انجیل لکھی گئی تھی اسے بھی حضور کے ورود مسعود کی پیش گوئی شمار کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن قادیانی حضرات اسے بھی مرزا صاحب کی آمد کی پیش گوئی شمار کرتے ہیں چنانچہ بجائے قادیانی کے لفظ “احمدی” کا استعمال قادیانی حضرات کے موقف اور ان کے پروپیگنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے، اس لئے میرا ادنیٰ مشورہ یہ ہے کہ اس جماعت کے لئے لفظ قادیانی ہی استعمال کرنا مناسب ہے۔

ج… آپ کی رائے صحیح ہے! قادیانیوں کا “اسمہ احمد” کی آیت کو مرزا قادیانی پر چسپاں کرنا ایک مستقل کفر ہے، مرزا غلام احمد قادیانی تحفہ گولڑویہ میں ص:۹۶ میں لکھتا ہے: “یہی وہ بات ہے جو میں نے اس سے پہلے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں لکھی تھی یعنی یہ کہ میں اسم احمد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا شریک ہوں۔”

(روحانی خزائن ج:۱۷ ص:۲۵۴)

ایک قادیانی نوجوان کے جواب میں

جواب:…آپ کا جوابی لفافہ موصول ہوا، آپ کی فرمائش پر براہ راست جواب لکھ رہا ہوں اور اس کی نقل “جنگ” کو بھی بھیج رہا ہوں۔

اہل اسلام قرآن کریم، حدیث نبوی اور اجماعِ امت کی بنا پر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھتے ہیں، خود جناب مرزا صاحب کو اعتراف ہے کہ:

“مسیح ابن مریم کی آنے کی پیش گوئی ایک اول درجہ کی پیش گوئی ہے جس کو سب نے بااتفاق قبول کرلیا ہے اور صحاح میں جس قدر پیش گوئیاں لکھی گئی ہیں، کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی۔ تواتر کا اول درجہ اس کو حاصل ہے۔” (ازالہ اوہام ص:۵۵۷، روحانی خزائن ج:۳ ص:۴۰۰)

لیکن میرا خیال ہے کہ جناب مرزا صاحب کے ماننے والوں کو اہل اسلام سے بڑھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ تشریف آوری کا عقیدہ رکھنا چاہئے، کیونکہ جناب مرزا صاحب نے سورہ الصف کی آیت:۹ کے حوالے سے ان کی دوبارہ تشریف آوری کا اعلان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:

“یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا (اس آیت میں) وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق و اقطار میں پھیل جائے گا۔”

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ص:۴۹۸، ۴۹۹)

جناب مرزا صاحب قرآن کریم سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ثبوت محض اپنی قرآن فہمی کی بنا پر نہیں دیتے بلکہ وہ اپنے الہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس آیت کا مصداق ثابت کرتے ہیں:

“اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکساری اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کی روح سے مسیح کی “پہلی زندگی” کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے ․․․․․․․ اس لئے خداوند کریم نے مسیح کی پیش گوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو بھی شریک کر رکھا ہے، یعنی حضرت مسیح پیش گوئی متذکرہ بالا کا ظاہری اور جسمانی طور پر مصداق ہے اور یہ عاجز روحانی اور معقولی طور پر۔” (ایضاً ص:۴۹۹)

اور اسی پر اکتفا نہیں بلکہ مرزا صاحب اپنے الہام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ تشریف لانے کی الہامی پیش گوئی بھی کرتے ہیں، چنانچہ اسی کتاب کے ص:۵۰۵ پر اپنا ایک الہام “عسیٰ ربکم ان یرحم علیکم” درج کرکے اس کا مطلب یہ بیان فرماتے ہیں:

“یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے “جلالی طور پر” ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق و حق اور نرمی اور لطف اور احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور غضب اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور یہ زمانہ اس زمانے کے لئے بطور ارہاض کے واقع ہوا ہے، یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا، اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کر رہا ہے۔”

ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ آنے پر ایمان نہ رکھا جائے تو نہ صرف یہ قرآن کریم کی قطعی پیش گوئی کی تکذیب ہے، بلکہ جناب مرزا صاحب کی قرآن فہمی، ان کی الہامی تفسیر اور ان کی الہامی پیش گوئی کی بھی تکذیب ہے۔ پس ضروری ہے کہ اہل اسلام کی طرح مرزا صاحب کے ماننے والے بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر ایمان رکھیں ورنہ اس عقیدے کے ترک کرنے سے قرآن و حدیث کے علاوہ مرزا صاحب کی قرآن دانی بھی حرفِ غلط ثابت ہوگی اور ان کی الہامی تفسیریں اور الہامی انکشافات سب غلط ہوجائیں گے، کیونکہ:

“جب ایک بات میں کوئی جھوٹا ثابت ہوجائے تو پھر دوسری باتوں میں بھی اس پر اعتبار نہیں رہتا۔”

(چشمہ معرفت ص:۲۲۲)

اب آپ کو اختیار ہے کہ ان دو باتوں میں کس کو اختیار کرتے ہیں، حیاتِ عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے کو؟ یا مرزا صاحب کی تکذیب کو؟

جناب مرزا صاحب کے ازالہ اوہام صفحہ:۹۲۱ والے چیلنج کا ذکر کرکے آپ نے شکایت کی ہے کہ نوے سال سے کسی نے اس کا جواب نہیں دیا۔

آں عزیز کو شاید علم نہیں کہ حضرات علمائے کرام ایک بار نہیں، متعدد بار اس کا جواب دے چکے ہیں، تاہم اگر آپ کا یہی خیال ہے کہ اب تک اس کا جواب نہیں ملا، تو یہ فقیر (باوجودیکہ حضرات علماء احسن اللہ سعیہم کی خاکِ پا بھی نہیں) اس چیلنج کا جواب دینے کے لئے حاضر ہے، اسی کے ساتھ مرزا صاحب کی کتاب البریة ص:۲۰۷ والے اعلان کو بھی ملالیجئے، جس میں موصوف نے بیس ہزار روپیہ تاوان دینے کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرنے اور اپنی کتابیں جلادینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

تصفیہ کی صورت یہ ہے کہ جناب مرزا صاحب کے موجودہ جانشین سے لکھوادیا جائے کہ یہ چیلنج اب بھی قائم ہے اور یہ کہ وہ مرزا صاحب کی شرط پوری کرنے کی ذمہ داری لیتے ہیں، اور اسی کے ساتھ کوئی ثالثی عدالت، جس کے فیصلے پر فریقین اعتماد کرسکیں، خود ہی تجویز فرمادیں، میں اس مسلّمہ عدالت کے سامنے اپنی معروضات پیش کردوں گا، عدالت اس پر جو جرح کرے گی اس کا جواب دوں گا، میرے دلائل سننے کے بعد اگر عدالت میرے حق میں فیصلہ کردے کہ میں نے مرزا صاحب کے کلئے کو توڑ دیا اور ان کے چیلنج کا ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا ہے تو ۲۰ ہزار روپے آں عزیز کی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپ کو چھوڑتا ہوں۔ دوسری دونوں باتوں کو پورا کرنے کا معاہدہ پورا کرادیجئے گا، اور اگر عدالت میرے خلاف فیصلہ صادر کرے تو آپ شوق سے اخبارات میں اعلان کرادیجئے گا کہ مرزا صاحب کا چیلنج بدستور قائم ہے اور آج تک کسی سے اس کا جواب نہ بن پڑا۔ اگر آپ اس تصفیہ کے لئے آگے بڑھیں تو اپنی جماعت پر بہت احسان کریں گے۔

ایک قادیانی کا خود کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے

گمراہ کن استدلال

س… بخدمت جناب مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی مدظلہ

السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

جناب عالی! گزارش ہے کہ جناب کی خدمت میں مکرم و محترم جناب بلال انور صاحب نے ایک مراسلہ ختم نبوت کے موضوع پر لکھ کر آپ کی خدمت میں ارسال کیا تھا، آپ نے اس مراسلہ کے حاشیہ پر اپنے ریمارکس دے کر واپس کیا ہے، یہ مراسلہ اور آپ کے ریمارکس خاکسار نے مطالعہ کئے ہیں، چند ایک معروضات ارسالِ خدمت ہیں، آپ کی خدمت میں موٴدبانہ اور عاجزی سے درخواست ہے کہ خالی الذہن ہوکر خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کرتے ہوئے ایک خداترس اور محقق انسان بن کر ضد و تعصب، بغض و کینہ دل سے نکال کر ان معروضات پر غور فرماکر اپنے خیالات سے مطلع فرمائیں، یہ عاجز بہت ممنون و مشکور ہوگا۔

سوال نمبر:۱:…جناب بلال صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی تھی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مسلمان ہیں، کیونکہ قرآن مجید پر، جو خدا تعالیٰ کا آخری کلام ہے، اس پر ایمان رکھتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر کامل ایمان رکھتے ہیں، تمام آسمانی کتابیں، جن کی سچائی قرآن مجید سے ثابت ہے، ان سب پر ایمان رکھتے ہیں، صوم اور صلوٰة اور زکوٰة اور حج تمام ارکانِ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اور اسلام پر کاربند ہیں۔

آپ نے ریمارکس میں لکھا ہے کہ: “منافقین اسلام بھی اپنے مسلمان ہونے کا اقرار کرتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو منافق قرار دیا ہے، یہی حال قادیانیوں کا ہے۔”

مکرم جناب مولانا صاحب! یہ آپ کی بہت بڑی زیادتی ہے، جسارت اور ناانصافی ہے اور ضد و تعصب اور بغض و کینہ کی ایک واضح مثال ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں کو قرآن شریف میں منافق ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے وہ کسی مولوی یا مفتی کا قول نہیں ہے اور نہ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منافق ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا تھا، یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا تھا اور ان کو منافق کہنے والی اللہ تعالیٰ کی علیم و خبیر ہستی تھی جو کہ انسانوں کے دلوں سے واقف ہے کہ جس کے علم سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کیا آپ ثابت کرسکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یا آپ کے خلفاء نے اپنے زمانہ میں کسی کے متعلق کفر یا منافق کا فتویٰ صادر کیا ہو، اگر آپ کے ذہن میں کوئی مثال ہو تو تحریر فرمائیں، یہ عاجز بے حد آپ کا ممنون و مشکور ہوگا۔

سوال نمبر:۲:…مکرم مولانا! اگر آپ کے اس اصول کو درست تسلیم کرلیا جائے کہ کسی انسان کا اپنے عقیدہ کا اقرار تسلیم نہ کیا جائے تو مذہبی دنیا سے ایمان اٹھ جائے گا۔ اس حالت میں ہر فرقہ دوسرے فرقہ پر کافر اور منافق ہونے کا فتویٰ صادر کردے گا اور کوئی شخص بھی دنیا میں اپنے عقیدہ اور اپنے ایمان کی طرف منسوب نہ ہوسکے گا، اور ہر ایک شخص کے بیان کو تسلیم نہ کرنے کی صورت میں وہ شخص اپنے بیان میں جھوٹا اور منافق قرار دیا جائے گا اور یہ سلوک آپ کے مخالفین آپ کے ساتھ بھی روا رکھیں گے اور آپ کو بھی اپنے عقیدہ اور ایمان میں مخلص قرار نہ دیں گے کیا آپ اس اصول کو تسلیم کریں گے۔

کیا خدا تعالیٰ اور اس کے مقدس رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو ایسا کہنے کی اجازت دی ہے؟ دنیا کا مسلّمہ اخلاقی اصول جو آج تک دنیا میں رائج ہے اور مانا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص اپنا جو عقیدہ اور مذہب بیان کرتا ہے اس کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ آپ ایک مسلمان کو مسلمان اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے، ایک ہندو کو ہندو اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہندو کہتا ہے، اسی طرح ہر سکھ کہلانے والے، عیسائی کہلانے والے اور دیگر مذہب کی طرف منسوب ہونے والوں سے معاملہ کیا جاتا ہے، اور اس اخلاقی اصول کو دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے اور ساری دنیا اس پر کاربند ہے، پس جب تک احمدی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ وہ:

(۱) ۱:…اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں۔

۲:…اس کے سب رسولوں کو مانتے ہیں۔

۳:…اللہ تعالیٰ کی سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

۴:…اللہ تعالیٰ کے سب فرشتوں کو مانتے ہیں۔

۵:…اور بعث بعد الموت پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔

اور اسی طرح پانچ ارکانِ دین پر عمل کرتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں اور اسلام کو آخری دین مانتے ہیں اور قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب تسلیم کرتے ہیں، اس وقت تک دنیا کی کوئی عدالت، دنیا کا کوئی قانون، دنیا کی کوئی اسمبلی اور دنیا کا کوئی حاکم اور کوئی مولوی، ملاں اور مفتی، جماعت کو اسلام کے دائرہ سے نہیں نکال سکتی اور نہ ہی ان کو کافر یا منافق کہہ سکتے ہیں، اس لئے کہ ہمارے پیارے نبی دل و جان سے پیارے آقا حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔

کہ ایک دفعہ حضرت جبرائیل نے حضور سے پوچھا “ایمان” کیا ہے؟ حضور نے فرمایا:

(۲) اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر اور بعث بعد الموت پر۔ حضرت جبرائیل نے فرمایا درست ہے۔

پھر حضرت جبرائیل نے پوچھا یا رسول اللہ اسلام کیا ہے؟ آنحضرت نے فرمایا:

’‘’شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں، قائم کرنا نماز کا، زکوٰة ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور اگر استطاعت ہو تو ایک بار حج کرنا۔ حضرت جبرائیل بولے درست ہے۔ آنحضرت نے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے جو انسان کی شکل میں ہوکر تمہیں تمہارا دین سکھلانے آئے تھے۔ (ملاحظہ ہو صحیح بخاری کتاب الایمان)۔

(۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:

۱:…یہ ماننا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔

۲:…نماز قائم کرنا۔

۳:…رمضان کے روزے رکھنا۔

۴:…زکوٰة ادا کرنا۔

۵:…زندگی میں ایک بار حج کرنا۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان)

(۴)آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو شخص ہماری طرح کی نماز پڑھتا ہے، ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرتا ہے اور ہمارے ذبیحہ کو کھاتا ہے وہ مسلمان ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی حفاظت اس کو حاصل ہے پس اے مسلمانو! اس کو کسی قسم کی تکلیف دے کر خدا تعالیٰ کو اس کے عہد میں جھوٹا نہ بناوٴ۔ (بخاری جلد اول باب فضل استقبال القبلة)۔

(۵) حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضور نے ایک موقع پر فرمایا:

“ایمان کی تین جڑیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ جو شخص لا الٰہ الا اللہ کہہ دے تو اس کے ساتھ کسی قسم کی لڑائی نہ کر اور اس کو کسی گناہ کی وجہ سے کافر نہ بنا اور اسلام سے خارج مت قرار دے۔

پس مسلمان کی یہ وہ تعریف ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی اور جس کی تصدیق حضرت جبرائیل علیہ السلام نے کی۔

اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہے اور مسلمان اور موٴمن ہے۔ اب انصاف آپ کریں کہ آپ کا بیان کہاں تک درست اور حق پر مبنی ہے۔

دوبارہ جماعت احمدیہ کے عقیدہ پر غور کرلیجئے۔

جن پانچ چیزوں پر اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے، ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سیدنا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔

ہم ایمان لاتے ہیں کہ ملائکہ حق اور حشر حق اور روز حساب حق اور جنت حق اور جہنم حق ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا ہے اور جو کچھ ہمارے نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ حق ہے اور ہم ایمان لاتے ہیں کہ جو شخص شریعت اسلام میں سے ایک ذرہ کم کرے یا زیادہ کرے وہ بے ایمان اور اسلام سے برگشتہ ہے اور ہم ٹھیک ٹھیک اسلام پر کاربند ہیں۔ غرض وہ تمام امور جن پر سلف صالحین کا اعتقادی اور عملی طور پر اجماع تھا اور وہ امور جو اہل سنت کی اجماعی رائے سے اسلام کہلاتے ہیں ان سب کا ماننا فرض جانتے ہیں۔

اور ہم آسمان اور زمین کو گواہ کرتے ہیں کہ یہی ہمارا مذہب ہے اور جو شخص مخالف اس مذہب کے کوئی اور الزام ہم پر لگاتا ہے وہ تقویٰ اور دیانت کو چھوڑ کر ہم پر افتراء کرتا ہے اور قیامت کے دن ہمارا اس پر دعویٰ ہے کہ کب اس نے ہمارا سینہ چاک کرکے دیکھا کہ ہم باوجود ہمارے اس قول کے دل سے ان اقوال کے مخالف ہیں۔

ان حالات میں اب کس طرح ہم کو منکر اسلام کہہ سکتے ہیں، اگر تحکم سے ایسا کریں گے تو آپ ضدی اور متعصب تو کہلاسکیں گے مگر ایک خداترس اور متقی انسان کہلانے کے مستحق نہیں ہوسکتے۔ امید ہے کہ آپ انصاف کی نظر سے اس مکتوب کا مطالعہ فرماکر اس کے جواب سے سرفراز فرمائیں گے۔ محمد شریف

الجواب

بسم الله الرحمن الرحیم

مکرم و محترم ہدانا الله وایاکم الیٰ صراط مستقیم!

جناب کا طویل گرامی نامہ، طویل سفر سے واپسی پر خطوط کے انبار میں ملا۔ میں عدیم الفرصتی کی بنا پر خطوط کا جواب ان کے حاشیہ میں لکھ دیا کرتا ہوں، جناب کی تحریر کا لب لباب یہ ہے کہ جب آپ دین کی ساری باتوں کو مانتے ہیں تو آپ کو خارج از اسلام کیوں کہا جاتا ہے؟

میرے محترم! یہ تو آپ کو بھی معلوم ہے کہ آپ کے اور مسلمانوں کے درمیان بہت سی باتوں میں اختلاف ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو نبی مانتے ہیں اور مسلمان اس کے منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ مرزا صاحب اگر واقعتا نبی ہیں تو ان کا انکار کرنے والے کافر ہوئے، اور اگر نبی نہیں تو ان کو ماننے والے کافر۔ اس لئے آپ کا یہ اصرار تو صحیح نہیں کہ آپ کے عقائد ٹھیک وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہیں، جبکہ دونوں کے درمیان کفر و اسلام کا فرق موجود ہے، آپ ہمارے عقائد کو غلط سمجھتے ہیں اس لئے ہمیں کافر قرار دیتے ہیں، جیسا کہ مرزا غلام احمد صاحب، حکیم نور دین صاحب، مرزا محمود صاحب اور مرزا بشیر احمد صاحب، نیز دیگر قادیانی اکابر کی تحریروں سے واضح ہے اور اس پر بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے جاچکے ہیں۔

اس کے برعکس ہم لوگ آپ کی جماعت کے عقائد کو غلط اور موجب کفر سمجھتے ہیں، اس لئے آپ کی یہ بحث تو بالکل ہی بے جا ہے کہ مسلمان، آپ کی جماعت کو دائرہٴ اسلام سے خارج کیوں کہتے ہیں؟ البتہ یہ نکتہ ضرور قابل لحاظ ہے کہ آدمی کن باتوں سے کافر ہوجاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تمام باتیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول چلی آتی ہیں اور جن کو گزشتہ صدیوں کے اکابر مجددین بلااختلاف و نزاع، ہمیشہ مانتے چلے آئے ہیں (ان کو ضروریاتِ دین کہا جاتا ہے) ان میں سے کسی ایک کا انکار کفر ہے اور منکر کافر ہے۔ کیونکہ “ضروریاتِ دین” میں سے کسی ایک کا انکار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب اور پورے دین کے انکار کو مستلزم ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک آیت کا انکار پورے قرآن مجید کا انکار ہے، اور یہ اصول کسی آج کے مُلَّا، مولوی کا نہیں بلکہ خدا اور رسول کا ارشاد فرمودہ ہے اور بزرگانِ سلف ہمیشہ اس کو لکھتے آئے ہیں۔ چونکہ مرزا صاحب کے عقائد میں بہت سی “ضروریاتِ دین” کا انکار پایا جاتا ہے، اس لئے خدا اور رسول کے حکم کے تحت مسلمان ان کو کافر سمجھنے پر مجبور ہیں۔ پس اگر آپ کی یہ خواہش ہے کہ آپ کا حشر اسلامی برادری میں ہو تو مرزا صاحب اور ان کی جماعت نے جو نئے عقائد ایجاد کئے ہیں ان سے توبہ کرلیجئے، ورنہ “لکم دینکم ولی دین” والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کنگن پہننے والی پیش گوئی

غلط ثابت ہوئی

س… یہاں قادیانی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ نبی (علیہ السلام) نے خواب میں دیکھا تھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں، لیکن وہ کنگن حضور (علیہ السلام) نہ پہن سکے، اس کا مطلب ہے کہ ان کی پیش گوئی جھوٹی نکلی (نعوذ باللہ)۔

یہ حدیث کیا ہے؟ کس کتاب کی ہے؟ وضاحت سے لکھیں۔

ج…دو کنگنوں کی حدیث دوسری کتابوں کے علاوہ صحیح بخاری (کتاب المغازی) باب قصہ الاسود العنسی صفحہ:۶۲۸، اور کتاب التعبیر باب النفخ فی المنام ص:۱۰۴۲ میں بھی ہے، حدیث کا متن یہ ہے:

“میں سو رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں پر دو کنگن سونے کے رکھے گئے، میں ان سے گھبرایا اور ان کو ناگوار سمجھا، مجھے حکم ہوا کہ ان پر پھونک دو، میں نے پھونکا تو دونوں اڑگئے۔ میں نے اس کی تعبیر ان دو جھوٹوں سے کی جو دعویٴ نبوت کریں گے، ایک اسود عنسی اور دوسرا مسیلمہ کذاب۔”

ایک معلوماتی تحریر خٹک ربنوار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.