508

حج اور اس کی اہمیت

اسلامی عبادات میں حج بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جب حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اسلام کیا ہے تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’یہ کہ تم علی الاعلان کہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں او ر محمد اللہ کے رسول ہیں، پانچ وقت کی نماز ادا کرو، زکوٰۃ دیتے رہو، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ اسلام، انھی امور کا اہتمام کرنا ہے۔‘‘

ایک دوسری حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ بنیادی چیزوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔آپ کا ارشاد ہے:

بنی الاسلام علی خمس شھادۃ ان لا الٰہ الا اللّٰہ وان محمد رسول اللّٰہ واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ و صوم رمضان وحج البیت.(متفق علیہ)

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس بات کی گواہی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا۔‘‘

حج کی یہ عبادت بہت زیادہ اجر و ثواب کی حامل ہے۔ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

سئل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ای العمل افضل؟ قال ایمان باللّٰہ ورسولہ. قیل: ثم ماذا؟ قال الجھاد فی سبیل اللّٰہ. قیل: ثم ماذا؟ قال: حج مبرور. (متفق علیہ)

’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول پر ایمان۔ پوچھا گیا: اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد۔ پوچھا گیا: اس کے بعد؟ آپ نے فرمایا: وہ حج جسے اداکرتے ہوئے، اس کے سارے تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔‘‘

آپ نے ایک دفعہ لوگوں سے کہا:

ایھا الناس، قد فرض اللّٰہ علیکم الحج، فحجوا. من حج للّٰہ‘ فلم یرفث ولم یفسق، خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ. والعمرۃ الی العمرہ کفارۃ لما بینھما. والحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ.(متفق علیہ)

’’اے لوگو،اللہ نے تمھارے اُوپر حج فرض کیا ہے۔لہٰذا،حج کرو۔جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ کوئی گناہ کرے، تو وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آئے گا، جیسے وہ اس روز (گناہوں سے پاک تھا) جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ اور ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ، درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور وہ حج جسے ادا کرنے میں سارے تقاضے پورے کیے گئے ہوں، اس کا بدلہ، لازماً جنت ہے۔‘‘

قرآن مجید نے ملت ابراہیمی کی اس عبادت کو اس کے صحیح طریقے پر پھر سے استوار کیا ہے۔ یہودیوں نے ملت ابراہیمی کے مرکز، خانۂ کعبہ، حج اور بنی اسماعیل کی تاریخ مسخ کرنے کے لیے، اپنی کتاب میں اس کے تمام شواہد بگاڑدیے یا ان میں تحریف کر دی تھی۔قرآن مجید نے ان کی اس حرکت پر انھیں تنبیہ کی اور اس کے بعد فرمایا:

فِیْہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہِیْمَ وَمَنْ دَخَلَہٗکَانَ آمِناً وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَیْْہِ سَبِیْلاً وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللّٰہ غَنِیٌّ عَنِ الْعَالَمِیْنَ.(آل عمران ۳: ۹۷)

’’وہاں واضح نشانیاں ہیں۔ مسکن ابراہیم ہے۔ جو اس میں داخل ہو جائے وہ مامون ہے۔ اور اللہ کی خاطر، لوگوں پر، اگر وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں، بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ اور جس نے کفر کیا تو (جان رکھو) اللہ عالم والوں سے بالکل بے پروا ہے ۱؂۔‘‘

اس آیت کا یہ پہلو، اس حدیث میں بھی نمایاں ہوا ہے، جس میں آپ نے ان لوگوں کو تنبیہ کی ہے، جو حج نہیں کرتے، دراں حالیکہ اس کی راہ میں کوئی قابل لحاظ چیز حائل نہیں ہے:

عن ابی امامۃ، قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: من لم یمنعہ من الحج حاجۃ ظاھرۃ، او سلطان جائر او مرض حابس، فمات، ولم یحج. فلیمت ان شاء یھودیا وان شاء نصرانیا.(دارمی)

’’حضرت ابوامامہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے حج سے کسی بڑی ضرورت، کسی ظالم حکمران، اورکسی بے بس کر دینے والے مرض نے نہیں روکا اور وہ حج کیے بغیر مر گیا تو (خدا کو اس کی پروا نہیں کہ) وہ مرے، خواہ یہودی ہو کر، خواہ نصرانی ہو کر۔‘‘

یہ ۲؂حدیث، قرآن مجید کی روشنی میں دیکھیں تو اہل اسلام کی طرف سے حج اور شعائر حج سے بے اعتنائی کو یہودیوں اور نصرانیوں کارویہ قرار دیتی ہے، جسے ایک مسلمان، غیر شعوری طو ر پر، اختیار کر لیتاہے۔

حج کی حقیقت
قرآن مجید کی روشنی میں دین پر غور کریں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ دین کا بنیادی مقصد تزکیۂ نفس ہے۔ نفس کے چار پہلو ہیں۔ایک پہلو نفس کا حیوانی وجود ہے، دوسرا پہلو عقلی وجود، تیسرا روحانی اور چوتھا پہلو اس کا اخلاقی وجود ہے۔ ۳؂حج کی یہ عبادت نفس کے روحانی وجود کے تزکیے کاذریعہ ہے۔

نفس انسانی کے اللہ تعالیٰ سے تعلق کی چار اساسات ہیں۔ پہلی اساس ذکر ہے۔ یعنی ،اللہ تعالیٰ کی یاد سے اپنا دل آباد رکھنا۔ دوسری اساس وفا ہے، یعنی، یوم الست اس کی بندگی اور اطاعت کا جو عہد اس کے ساتھ کیاگیا تھا، اسے نبھانا اور اللہ کے احکام کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لینا۔ قرآن مجید نے اسے ایک دوسرے مقام پر لفظ ’بر‘ سے بھی تعبیر کیا ہے۔ تیسری اساس تقویٰ ہے۔ اس کے لیے، قرآن مجید میں ’خشیت‘،’اخبات‘ اور’قنوت‘ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اور اس کی ناراضی سے ڈرے اور اس انجام سے بچنے کی سعی کرے، جو قرآن مجید میں ان لوگوں کا بیان ہوا ہے، جن پر خدا غضب ناک ہوگا۔اور چوتھی اساس محبت ہے۔ یہی وہ اساس ہے، جو بندۂ مومن کو دین کی نصرت و حمایت پر آمادہ کرتی اور اسے دین کے معاملے میں غیرت مند بناتی ہے۔اسے اس جذبے سے سرشار کرتی ہے کہ وہ اللہ کے کلمے کو بلند رکھے اور اس غرض کے لیے اسے جان بھی دینا پڑے تودے دے۔

ذکر اوریاد کے لیے نماز فرض کی گئی ہے، تاکہ بندۂ مومن اپنے شب وروز میں، زمین اور آسمان میں رونما ہونے والی ہر اہم تبدیلی پر مسجد میں حاضر ہواور اپنے پرورد گار کے سامنے اپنا سرنیاز جھکا کر ہر دفعہ دین اور خدا کے ساتھ اپنی وابستگی تازہ کر لے۔

وفا کی علامت کی حیثیت زکوٰۃ کو حاصل ہے۔ مطلب یہ کہ بندۂ مومن اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتا ہے اوراس طرح خرچ کرتا ہے کہ اپنی متاع عزیز بھی خدا کی رضا اور خوشنودی کے لیے، دوسروں کو دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور یہ رویہ صرف ایک باوفا شخص ہی اختیار کر سکتا ہے۔

تقویٰ کی آب یاری کے لیے سال میں ایک مرتبہ ایک مہینے کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ان کے علاوہ نفلی روزے بھی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی سال کے مختلف اوقات میں نفلی روزے رکھنے کا اہتمام کیا ہے اور مسلمانوں کو بھی اس کی تلقین کی ہے۔روزہ نفس انسانی کو پرہیز گاری کی تربیت دیتاہے اور یہی چیز تقویٰ کی اساس ہے۔

محبت کا مظہر اتم جہاد ہے، جس میں ایک بندۂ مومن اپنے رب کے دین کے لیے بر سرپیکار ہونے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اسے اگر اللہ کی خاطر اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تودریغ نہیں کرتا۔

حج، ان تمام عبادتوں کا مجموعہ ہے۔جس نے تمام عبادات کی اصل اساسات اپنے اندر جمع کر لی ہیں۔ خانہ کعبہ ہماری نمازوں کا مرکز ہے۔ وہ سب سے پہلی مسجد ہے،جو اسی مقصد کے لیے بنائی گئی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: میں نے ابراہیم اور ان کی ذریت کو مکہ میں اسی لیے بسایا تھا کہ وہ میرا یہ گھر طواف، قیام اور رکوع کرنے والوں کے لیے پاک رکھیں۔ حج کے لیے، اسی گھر کاقصد کیا جاتا ہے۔ نماز کا مقصد قرآن مجید میں ’اللہ کی یاد‘ بیان ہواہے اورطواف اسی نماز کی وہ صورت ہے، جو صرف خانہ کعبہ کی حاضری ہی میں ادا کی جاتی ہے۔ اس نماز میں شمع و پروانہ کی حکایت کو دہرایا جاتا ہے۔ خدا کے بندے اپنے پروردگار کو پکارتے ہوئے، اس کے گھر کے گرد پروانوں کی طرح گھومتے ہیں۔ زکوٰۃ، خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی عبادت ہے۔ حج کا اہتمام اور اس کے زاد راہ کے انتظام میں آدمی جو کچھ خرچ کرتا ہے، وہ اسی جذبے کی تسکین ہے، بلکہ عام آدمی تو اپنے روزمرہ کے اخراجات کم کر کے ہی حج کے مصارف پورے کرنے کا متحمل ہو پاتاہے۔ اس اعتبار سے اس کا جذبۂ انفاق اور بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ روزے کا مقصد تقوٰی کی آب یاری ہے۔یہ اللہ کی طرف بڑھنے، دنیوی خواہشات ترک کرنے اور اللہ کے ساتھ لو لگانے کی عبادت ہے۔ حج، یہ غرض بھی بتمام و کمال پوری کرتا ہے۔ آدمی اپنی ضروریات روک کر حج کے اخراجات کا بندوبست کرتا اور اپنے معاملات و علائق چھوڑ کر اللہ کے گھر کے لیے عازم سفر ہوتاہے۔ اسی طرح ہجرت و جہاد کی عبادت بھی معصیت کی زندگی سے نکلنے اور خدا کی راہ میں سرگرم ہو جانے کے جذبے کا نام ہے۔ حج میں بھی آدمی اپنے پروردگار کے لیے گھر بارچھوڑتا اور حج کے دنوں میں ایک مجاہد کی طرح کبھی پڑاؤ اور کبھی سفر کے مراحل سے گزرتا ہے اور ان میں پیش آنے والی صعوبتیں برداشت کرتاہے۔

اگر ہم حج کے مشمولات پر نگاہ ڈالیں،تو یہ حقیقت مشہود ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ حج ایک جامع عبادت ہے۔ احرام باندھنا، اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے دنیا سے اپنا تعلق منقطع کر لیااور دنیا کے معاملات چھوڑ دیے ہیں۔ احرام کے ان سلے لباس سے بھی یہی چیز ظاہر ہوتی ہے کہ ہم زیب و زینت کی زندگی ترک کر کے، وہ لباس پہن کر خدا کے حضور میں حاضر ہو گئے ہیں جس لباس میں مردہ قبر میں اتارا جاتا ہے۔ پھر ہمار ی زبان پر وہ ترانہ جاری ہو جاتا ہے، جس سے ہمارے خدا کے حضور حاضری کے والہانہ جذبے کا اظہار ہوتا ہے اور جس میں ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں:

لبیک، اللھم لبیک، لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک و الملک، لاشریک لک.

’’حاضر ہوں، اے اللہ، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں،لاریب ،شکر تیرا ہے، نعمتیں تجھ سے ہیں، اقتدار تیرا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔‘‘

یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شکر کا جذبہ خدا کے ساتھ تعلق کے سارے پہلووں میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔احرام باندھتے ہی، گویا روزے کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔صنفی تعلق ممنوع ہو جاتا ہے۔شیطان جن تین راستوں سے،بالعموم، نفس انسانی پر اثر انداز ہوتاہے، ان کا سد باب کر دیا جاتا ہے۔ قرآن مجید نے جہاں آداب حج بیان کیے، وہاں اسی چیز کو موضوع بنایا ہے۔ ارشاد ہے:

الْحَجُّ أَشْہُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْہِنَّ الْحَجَّ فَلاَ رَفَثَ وَلاَ فُسُوْقَ وَلاَ جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْْرٍ یَّعْلَمْہُ اللّٰہُ وَتَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَاتَّقُوْنِ یَا أُوْلِی الأَلْبَابِ.(البقرہ ۲: ۱۹۷)

’’حج کے متعین مہینے ہیں، چنانچہ جس نے حج کا عزم کر لیا، اس کے لیے لازم ہے کہ وہنہ کوئی فحش بات کرے، نہ گناہ کی اور نہ لڑائی جھگڑا کرے۔ جو نیک کام تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہے۔ (تقویٰ) کا زاد راہ لو، بہترین زاد راہ تقویٰ ہے۔ اوراے عقل والو، مجھی سے ڈرو۔‘‘

خدا کی نافرمانی ،شہوانی باتیں اور لڑائی جھگڑا وہ ذرائع ہیں،جن سے شیطان انسان کو غلط راستے پر ڈال دینے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔یہی تین چیزیں ہیں،جن کی شیطان ترغیب دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے حاجیوں کو ان سے روک کر شیطان کی دراندازی کے سارے راستے بند کر دیے ہیں۔روزہ رکھ کر جو کیفیت ایک بندے پر طاری ہوتی ہے، وہی کیفیت ایک حاجی کی احرام باندھنے کے بعد ہوتی ہے۔جس طرح اس پر یہ احساس طاری رہتا ہے کہ وہ روزے سے ہے،لہٰذا اسے شہوت کی باتوں سے بچنا ہے،کھانے پینے کے قریب بھی نہیں جانااور گناہوں سے گریزاں رہنا ہے، اسی طرح احرام بھی حاجی کو اس احساس سے سرشار رکھتا ہے کہ وہ حج کر رہا ہے اور اسے برائیوں کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔اور جس طرح، روزہ دار اگر روزے کے آداب کا خیال نہ رکھے تو اسے بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا،اسی طرح ایک حاجی بھی اپنی ساری مساعی کو گناہ کی باتوں کے باعث غارت کر سکتا ہے۔

حجر اسود کو علامت کے طور پر اللہ کا ہاتھ قراردیا گیا ہے۔ طواف کا آغاز اسے چوم کر یااس کی طرف ہاتھ اٹھا کر کیا جاتا ہے۔ ہاتھ چومنا یا ہاتھ پر ہاتھ رکھنا عہد معاہدے کی توثیق کا ایک طریقہ ہے۔ حاجی طواف کے آغاز میں یہ عمل کر کے ’بسم اللہ، اللہ اکبر‘ کہہ کروہ دعا پڑھتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہدوفا کی تجدید کی جاتی ہے:

اللھم ایمانا بک و تصدیقا بکتابک ووفاء بعھدک و اتباعا بسنۃ نبیک محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم.(بیہقی،طبرانی)

’’اے اللہ، (میں حاضر ہوں) آپ پر ایمان کی خاطر، آپ کی کتاب کی تصدیق کے لیے، آپ کا عہد پورا کرنے اور آپ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کے لیے۔‘‘

سعی، نصرت دین کے جذبے کی علامت ہے۔ اس کا پیکر اتم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شخصیت ہے۔ جب وہ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کے لیے قربان گاہ لے گئے تو صفا اور مروہ کے درمیان قربانی کوپھیرے دلائے۔ ان کا یہی عمل ہے، جو سعی کی صورت میں حج کا حصہ بن گیا ہے۔

سر منڈانا پرانے زمانے میں غلام بننے کی علامت تھی۔ جب کوئی شخص کسی کا غلام بن جاتا تو اس کا سر مونڈ دیا جاتا تھا۔ حاجی اپنا سر منڈا کر غلامی رب کا نشان سجا لیتاہے۔

پھر، عرفات کا وقوف،درحقیقت،اپنے آپ کو خدا کے حضور میں کھڑا کر دینا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ سنت قائم کی کہ خطبے اور دو پہر کی نمازوں کے بعد مغرب کی طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور اس وقت تک کھڑے دعا فرماتے رہے، جب تک سورج ڈوب نہیں گیا۔اس دوران میں بندۂ مومن اپنے گناہوں کو یاد کرتا ،استغفار کرتااوردعائیں مانگتاہے۔

مزدلفہ میں،اگرچہ وقوف توعرفات کے مقابلے میں مختصر ہوتاہے،لیکن عرفات و مزدلفہ کے مابین یہ سفر معنوی طور پر جہاد کے سفر کی علامت بن جاتا ہے۔ایک مقام پر رکے، پڑاؤ کیا، پھر اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گئے۔ اس دوران میں نمازیں بھی جہاد سے مشابہت ہی کی وجہ سے قصر پڑھی جاتی ہیں۔

جمرات کو کنکر مارنا،خدا کے دشمنوں کے ساتھ مقابلے کی علامت ہے۔ اس طریقے سے بندۂ مومن خدا کے دشمنوں کے خلاف جہاد کے جذبے کا اظہار کرتا ہے۔

قربانی جہاد کا آخر ی پہلو ہے، اس طرح کہ جہاد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کو حج میں قربانی کی صورت میں علامتی طور پر پیش کیا جاتاہے۔بندۂ مومن قربانی اس جذبے کے ساتھ کرتا ہے کہ جس طرح اس نے خدا کی خوشنودی کے لیے جانور قربان کیا ہے،اسی طرح،اگر اس کے دین کو ضرورت پڑی،تو وہ اپنی جان کانذرانہ بھی پیش کردے گا۔

چند احتیاطیں
ایک حاجی کا حج سے اصل مقصود اپنے خدا کی رضا اور خوشنودی ہونا چاہیے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ.(البقرہ ۲: ۱۹۶)

’’اور حج اور عمرہ صرف اللہ کے لیے کرو۔‘‘

قریش نے حج کے اصل مرکز خانہ کعبہ کو شرک وبت پرستی کا اڈا بنالیا تھا۔خانہ کعبہ کے اندر بت رکھ دیے تھے۔ اسی طرح صفا اور مروہ کی پہاڑیوں پر بھی بت آویزاں کر دیے تھے۔ پھر انھوں نے حج کو اپنے تجارتی مفادات کا ذریعہ بھی بنالیا اور اس کے لیے ’نسی‘ کا طریقہ ایجاد کر کے حج ہمیشہ سازگار موسم میں لانے کا بندوبست بھی کر لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ ان کا مقصود نہ خدا کے علاوہ دوسری ہستیوں کی خوشنودی ہونا چاہیے اور نہ ان کے پیش نظر اس سفر سے محض تجارتی فوائد اٹھانا ہو۔ ان کی غرض صرف اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا ہونی چاہیے۔

دوسری چیز شہوات سے گریز ہے۔ حج میں، چونکہ پردے کی معمول کی پابندیاں نہیں ہوتیں، اس لیے اس کا اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی کی نگاہ بھٹک جائے۔ پھر، جس چیز پر پابندی لگ جائے، اس کے لیے اکساہٹ بڑھ جاتی ہے اور شیطان انسان کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ حاجی اس پختہ عزم کے ساتھ گھر سے نکلے کہ اسے ہر چھوٹی بڑی برائی سے، بہر حال، بچنا ہے۔ اس معاملے میں عورتیں خاص احتیاط کریں اور حاضری کے لیے ایسے اوقات کا انتخاب کریں، جس میں مردوں سے مڈبھیڑ کا اندیشہ کم سے کم ہو۔

حدود الٰہی کے احترام کے ساتھ ساتھ، حرم کی تعظیم کا بھی خصوصی لحا ظ رکھنا چاہیے۔حدود حرم میں لڑائی جھگڑا کرنا،تھوکنے یا ناک صاف کرنے میں حرم کی حرمت پیش نظر نہ رکھنا، اسی طرح حوائج ضروری سے فراغت کے لیے پردے اور اوٹ کا ضروری اہتمام نہ کرنا، پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مردوں اور عورتوں کا آب زمزم پیتے اور استعما ل کرتے ہوئے ستر پوشی کا خیال نہ رکھنا، یہ تمام وہ باتیں ہیں جو سراسر حرم کی تعظیم کے منافی ہیں اور ایک مسلمان کو اس سے، ہر حال میں بچنا چاہیے۔

اور آخری چیز جسے ہر حاجی کو پیش نظر رکھنا چاہیے، وہ مناسک حج کی وہ حکمت اور فلسفہ ہے، جس کا اجمالی ذکر ہم اوپر کی سطور میں کر چکے ہیں۔ اگر حج کے مناسک ادا کرتے ہوئے، ان کی روح ختم ہو جائے، تو وہ محض رسم کا ادا کر دینا ہے۔ اور ایسے حج سے، وہ تزکیہ حاصل نہیں ہو سکتا، جو

اس سے مقصود ہے۔

چند اصلاح طلب باتیں
حج کے مناسک سے متعلق کچھ غلط چیزیں رائج ہو گئی ہیں ۔ان میں سے بعض بدعات کا درجہ رکھتی ہیں ،لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے قاری کو ان کے بارے میں متنبہ کردیں،تاکہ حج سنت کے مطابق ادا کیا جا سکے۔

لوگ حج پر جانے کے بعد، بالعموم، ایک سے زیادہ عمرے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہیں ہے۔ آپ جب حج کے لیے مکہ آئے تو کافی عرصہ مقیم رہے، لیکن، اس کے باوجود، آپ نے عمرہ صرف ایک ہی کیا۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ حاجی کے لیے مسنون طریقہ یہی ہے کہ وہ ایک ہی عمرہ کرے، قرآن مجید سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ ان حاجیوں کے لیے جو دوسرے علاقوں سے حج کے لیے آتے ہیں، انھیں یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ حج اور عمرے کو اکٹھا کر لیں۔ انھیں عمرے اور حج کے لیے الگ الگ دو سفر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس رخصت سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک قربانی کفارے کے طور پر کریں۔ اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہے کہ عمرہ صرف ایک ہی ہونا چاہیے۔

ایک اور بات، جو غلط طور پر رائج ہو گئی ہے، وہ طواف کے ہر پھیرے کے لیے الگ دعا کا پڑھنا ہے۔ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔۴؂مسنون دعا صرف وہی ہے جو طواف کے آغاز میں ’بسم اللہ، اللہ اکبر‘ کہتے ہوئے، حجر اسود کی طرف ہاتھ اٹھا کر یا اسے چوم کر پڑھی جاتی ہے ۵؂، یا پھر وہ دعا مسنون ہے، جو رکن یمانی کے پاس پڑھی جاتی ہے۔ یہ دعا ان الفاظ میں روایت ہوئی ہے:

اللھم انی اسئلک العفو والعافیۃ فی الدنیا و الآخرۃ، ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار.(ابن ماجہ)

’’اے اللہ، میں آپ سے دنیا و آخرت کی مغفرت اور عافیت کا طلب گار ہوں۔ اے ہمارے پروردگار، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘

طواف کے دوران میں، حاجی جو دعا چاہے، مانگ سکتا ہے۔ اس کے لیے کوئی مخصوص دعانہیں ہے۔اسی طرح، سعی کے آغاز میں بھی وہی دعا پڑھنی چاہیے، جو حضور نے سکھائی ہے۔ دعا کے یہ الفاظ صفا پہاڑی پر چڑھنے کے بعد قبلہ رو کھڑے ہو کر ادا کیے جاتے ہیں:

لا الٰہ الا اللّٰہ واللّٰہ اکبر لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شییء قدیر. لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ. (مسلم)

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بہت بڑا ہے، اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام باگ ڈور اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی سزا وار حمد ہے۔ اور اسے ہر چیز پر قدرت حاصل ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ فرمایا اور اپنے بندے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد فرمائی اورتنہا سب لشکروں کو شکست دی۔‘‘

یہ الفاظ ادا کر کے، جو دعا مانگنی ہو مانگی جائے اور اسی طرح یہ عمل تین مرتبہ دہرایا جائے گا۔اسی طریقے سے یہ دعا مروہ پر بھی پڑھی جائے گی۔اس کے علاوہ کوئی خاص دعا نہیں ہے۔سعی کے دوران میں حاجی جو دعا چاہے، مانگ سکتاہے۔

عرفات میں بعض لوگ قصر نماز نہیں پڑھتے۔چونکہ،سنت کے مطابق،وہاں قصر نماز ہی پڑھائی جاتی ہے،لہٰذا،جو لوگ قصر نہیں کرنا چاہتے،وہ اپنی الگ نمازپڑھ لیتے ہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے اور اس کے بارے میں یہ استدلال بھی صحیح نہیں کہ یہاں سفر کی علت پر نماز قصر پڑھی جاتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ حج کا یہ حصہ جہاد کے ساتھ مشابہ ہے اور جہاد کے ساتھ متشابہ ہی کی وجہ سے یہاں نمازیں قصر ہو جاتی ہیں۔ لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ حاجی امام کے ساتھ قصر نماز پڑھیں۔ اسی طرح مزدلفہ میں بھی نماز قصر ہی پڑھی جائے گی۔مزدلفہ کی رات کے بارے میں یہ بات بھی غلط رائج ہو گئی ہے کہ اس میں جاگ کر زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔اس کے بالکل برعکس نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہاں مغرب و عشا پڑھ کر سو گئے اور صبح اٹھ کرفجر کی نماز پڑھی تھی۔حضور آخر شب روزانہ تہجد پڑھا کرتے تھے،لیکن اس رات آپ نے یہ نماز بھی نہیں پڑھی۔

منیٰ میں، عام طور پر لوگ دو دن قیام کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔اگرچہ،یہ رخصت دی گئی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ تین دن قیام کیا جائے۔ سب نہیں، تو کچھ لوگوں کو ضرور اس سنت کا اہتمام کرنا چاہیے،جبکہ اجر کے لحاظ سے تین دن کے قیام کی بڑی اہمیت ہے۔

مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی تاکید بھی بالکل بے بنیاد ہے۔مدینے میں قیام کے لیے عرصے کی کوئی شرط نہیں اور نہ نمازوں ہی کی کوئی تعداد معین ہے۔البتہ مسجدقبا میں دو رکعت نفل نماز کے اہتمام کی بڑی فضیلت ہے۔اسی طرح مسجد نبوی میں عبادت کی اپنی فضیلت ہے،لیکن اس کا حج کے ساتھ براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

[۱۹۹۴ء]

oیہ مضمون اصلاً استاد محترم جناب جاوید احمد غامدی کی ایک تقریر پر مبنی ہے۔

۱؂یہ آیت یہ بتاتی ہے کہ کعبہ کی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے نسبت کے کیا آثار موجود ہیں۔

۲؂اس حدیث اور آیت کا یہ تعلق محل نظر ہے۔ آیت جس سیاق و سباق میں ہے اس سے واضح ہے کہ کفر کا تعلق پوری بات سے ہے محض حج سے نہیں ہے۔ البتہ روایت اپنی جگہ پر درست ہے۔

۳؂اس سلسلہ میں ملاحظہ فرمایے: سلسلۂ مضامین،’’ تزکیۂ نفس‘‘ ۱۔۴۔

۴؂یہاں یہ لفظ اپنے سادہ معنی میں استعمال ہوا ہے۔ مراد یہ ہے کہ حضور کی نسبت سے جو دعائیں منقول ہیں وہ یہی ہیں۔

۵؂ اللّٰھم ایمانا بک و تصدیقا بکتابک ووفاء بعھدک واتباعا بسنۃ نبیک محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم.(بیہقی،طبرانی)’’اے اللہ، (میں حاضر ہوں) آپ پر ایمان کی خاطر، آپ کی کتاب کی تصدیق کے لیے، آپ کا عہد پورا کرنے اور آپ کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کے لیے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.