558

حج کا مختصر طریقہ

دُرُود شریف کی فضیلت

بے چین دِلوں کے چین،رَحْمتِ دَارَین،تاجدارِ حَرَمَیْن،سَرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ رحمت نشان ہے :’’جب جمعرات کا دِن آتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ فِرشتوں کو بھیجتا ہے جن کے پاس چاندی کے کاغذ اور سونے کے قلم ہوتے ہیں ،وہ لکھتے ہیں کون یومِ جُمْعَرات اور شبِ جُمُعہمجھ پر کثرت سے دُرودِ پاک پڑھتا ہے۔‘‘(کنز العمال،ج۱،ص۲۵۰،حدیث۲۱۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

حَجّ کی فضیلت

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلہِؕ (پ۲البقرۃ۱۹۶)

ترجمۂ کنزالایمان:اورحج اور عمرہ اللہ کے لیے پوراکرو۔

دو فرامینِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ:{1}’’جس نے حج کیا اوررَفَث(یعنی فُحش کلام)نہ کیا اورفِسق نہ کیاتوگناہ سے ایسا پاک ہوکر لوٹاجیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیداہوا۔‘‘(صحیح البخاری،کتاب الحج،باب الحج المبرور، الحدیث۱۵۲۱، ج۱، ص۵۱۲) {2} ’’حاجی اپنے گھر والوں میں سے چارسو کی شفاعت کرے گااورگناہوں سے ایسانکل جائے گاجیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔‘‘(مسندالبزار،مسند أبی موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ، الحدیث ۳۱۹۶،ج۸،ص۱۶۹)

حَجّ کی قسمیں

حج کی تین قسمیں ہیں :(۱) قِران) تَمَتُّع (۳) اِفراد

حجِّ قِران

یہ سب سے افضل ہے،یہ حج ادا کرنے والا ’’قارِن‘‘کہلاتا ہے ۔اس میں عمرہ اور حج کا اِحرام ایک ساتھ باندھا جاتا ہے مگرعمرہ کرنے کے بعد قارِن ’’حَلْق‘‘یا’’قَصر ‘‘ نہیں کرواسکتابلکہ بدستور اِحرام میں رہے گا۔ دسویں یاگیارہویں یا بارہویں ذُوالحجہ کو قربانی کرنے کے بعد ’’حَلْق‘‘یا’’قصر‘‘ کرواکے اِحرام کھول دے۔

حجِّ تَمتُّع ( ۔تَمَتْ ۔تُع)

یہ حج ادا کرنے والا’’ مُتَمَتِّع‘‘(مُ۔ تَ ۔ مَتْ ۔ تِع) کہلاتا ہے۔پاکستان اور ہندوستان سے آنے والے عموماً تَمَتُّع ہی کیا کرتے ہیں ۔ اس میں آسانی یہ ہے کہ اس میں عمرہ تو ہوتا ہی ہے لیکن عمرہ اداکرنے کے بعد’’حَلْق‘‘یا’’قصْر‘‘کرواکے اِحرام کھول دیا جاتا ہے اورپھر آٹھ ذُوالحجہ یااس سے قبل حج کا اِحرام باندھا جاتا ہے۔

حجِّ اِفراد

اِفراد کرنے والے حاجی کو’’مُفْرِد‘‘کہتے ہیں۔اس حج میں ’’عمرہ‘‘شامل نہیں ہے۔ اس میں صِرْف حج کا’’اِحرام‘‘باندھا جاتاہے۔اہلِ مکّہ اور’’حِلّی‘‘یعنی مِیقات اور حُدُودِحرم کے درمیان میں رہنے والے باشِندے(مَثَلاََ اہلیانِ جدّہ شریف)’’حجِّ اِفراد‘‘کرتے ہیں۔(دوسرے مُلک سے آنے والے بھی’’ اِفراد ‘‘ کر سکتے ہیں)

حجّ ِ قِران کی نیَّت

قارِن عمرہ اور حج دونوں کی ایک ساتھ نیّت کرے گا چُنانچِہ وہ احرام باندھ کر اس طرح نیّت کرے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اُرِیْدُ الْعُمْرَۃَ وَالْحَجَّ فَیَسِّرْھُمَا لِیْ وَتَقَبَّلْہُمَامِنِّی ط نَوَیْتُ الْعُمْرَۃَوَالْحَجَّ وَ اَحْرَمْتُ بِہِِمَامُخْلِصًا لِلّٰہِ تَعَالٰی ط

ترجمہ:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں عمرہ اورحج دونوں کاارادہ کرتاہوں توانہیں میرے لئے آسان کر دے اورانہیں میری طرف سے قبول فرما، میں نے عمرہ اورحج دونوں کی نیت کی اورخالصۃ ً اللہ عَزَّ وَجَلَّ کیلئے ان دونوں کا اِحرام باندھا۔

حَجّ کی نیّت

مُفرِد بھی احرام باندھنے کے بعد اسی طرح نیّت کرے اورمُتَمَتِّع بھی آٹھ ذُوالحجہ یا اس سے قبل حج کا اِحرام باندھ کر مندرجۂ ذیل الفاظ میں نیّت کرے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیٓ اُرِیْدُ الْحَجَّ ط فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ ط وَاَعِنِّیْ عَلَیْہِ وَبَارِِِِِِکْ لِیْ فِیْہِ ط نَوَیْتُ الْحَجَّ وَاَحْرَمْتُ بِہٖ لِلّٰہِ تَعَالٰی ط

ترجمہ:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں حج کا ارادہ کرتاہوں ۔ اس کو تو میرے لئے آسان کردے اوراسے مجھ سے قَبول فرمااوراس میں میری مددفرمااوراسے میرے لئے با برکت فرما ،میں نے حج کی نیّت کی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اس کا اِحرام باندھا۔

مَدَنی پھول

نیّت دل کے ارادے کوکہتے ہیں ،زَبان سے بھی کہہ لیں تواچّھاہے ،عَرَبی میں نیّت

اُسی وَقت کارآمدہوگی جبکہ ان کے معنیٰ سمجھ آتے ہوں ورنہ اُردو میں کرلیجئے ،ہرحال میں دل میں نیّت ہوناشرط ہے۔

لَبَّیْک

خواہ عمرے کی نیّت کریں یا حج کی ،نیّت کے بعدکم از کم ایک بارتَلْبِیَہْ کہنا لازمی ہے اورتین بار کہنا افضل، تَلْبِیَہْیہ ہے:

لَبَّیْک ط اَللّٰھُمَّ لَبَّیْک ط لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْک ط اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَلَکَ وَالْمُلْکَ ط لَا شَرِیْکَ لَکَ ط

آٹھ ذُوالحجۃ الحرام،مِنیٰ کو روانگی

[۱]مِنٰی،عَرَفات ،مُزْدَلِفہ وغیرہ کا سفراگر ہو سکے تو پیدل ہی طے کریں کہ جب تک مکّہ شریف پلٹیں گے ہر ہر قدم پر سات سات کروڑنیکیاں ملیں گی۔وَاللہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْم [۲]راستے بھرلَبَّیْکاورذِکرودُرُودکی خوب کثرت کیجئے۔جوں ہی مِنیٰ شریف نظر آئے دُرودشریف پڑھ کر یہ دعا پڑھئے:اَللّٰھُمَّ ھَذَا مِنّی فَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا مَنَنْتَ بِہٖ عَلٰی اولیاءِکَ ط [۳]آٹھ ذُوالحجہ کی ظہر سے لے کر نو ذُوالحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں آپ کو مِنیٰ شریف میں ادا کرنی ہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارےمحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایسا ہی کیا ہے۔

دعائے شبِ عَرَفہ

سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ عَرْشُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْاَرْضِ مَوْطِئُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ

فِی الْبَحْرِسَبِیْلُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی النَّارِسُلْطَانُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْجَنَّۃِ رَحْمَتُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْقَبْرِقَضَائُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ فِی الْھَوَآ ءِ رُوْحُہٗ سُبْحٰنَ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمَآءَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ وَضَعَ الْاَرْضَ سُبْحٰنَ الَّذِیْ لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَأَ مِنْہُ اِلَّا اِلَیْہِط (اوّل آخرایک ایک باردرودشریف پڑھ لیجئے)

نوذُوالحجۃ الحرام عرفات کو روانگی

نوذُوالحجہ کونمازِفجر مُسْتَحَب وقت میں ادا کرکے لَبَّیْک اور ذکرو دعا میں مشغول رہیے ۔ یہاں تک کہ آفتاب کوہِ ثبیر پر کہ مسجِدِ خیف کے سامنے ہے چمکے اب دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ جانبِ عرفات شریف چلئے۔نیز مِنٰی شریف سے نکل کر ایک بار یہ دعا بھی پڑھ لیجئے۔

راہِ عَرَفات کی دعا

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا خَیْرَ غُدْوَۃٍ غَدَوْتُھَاقَطُّ وَقَرِّبْھَا مِنْ رِضْوَانِکَ وَاَ بْعِدْھَا مِنْ سَخَطِکَ وَ اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ تَوَجَّھْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَلِوَجْھِکَ الَکَرِیْمِ اَرَدْتُّ فَاجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَّحَجِّیْ مَبْرُوْرًا وَّارْحَمْنِیْ وَلَاتُخَیِّبْنِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْ سَفَرِیْ وَاقْضِ بِعَرَفَاتٍ حَاجَتِیْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌط(اول آخرایک ایک باردُرُودشریف پڑھ لیجئے)

عَرَفات شریف میں وقتِ ظہر میں ظہر و عصر ملا کر پڑھی جاتی ہے مگر اس کی بعض شرائط ہیں ۔ آپ اپنے اپنے خیموں میں ظہر کے وقت میں ظہر اور عصر کے وقت میں عصر کی نماز با جماعت ادا کیجئے۔

عَرَفات شریف کی دعائیں

[۱]:دوپہر کے وقت مَوْقِف(یعنی ٹھہرنے کی جگہ) میں مُنْدَرِجۂ ذیل کَلِمۂ توحید ،سورۂ اخلاص شریف اور پھر ا س کے بعد دیا ہوا درود شریف ،یہ تینوں سو بار پڑھنے والے کی بحکمِ حدیث بخشش کر دی جاتی ہے نیز اگر وہ تمام عَرَفات شریف والوں کی سفارش کر دے تو وہ بھی قَبول کر لی جائے۔ (ا)یہ کَلِمۂ توحید100 بار پڑھئے:

لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ط لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ط

(ب) سورۂ اخلاص شریف 100بار۔(ج)یہ درود شریف100 بار پڑھیے:

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی(سَیِّدِنَا)مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی (سَیِّدِنَا)اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰی اٰلِ (سَیِّدِنَا)اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدُٗوَّعَلَیْنَا مَعَھُمْ ط

[۲]:’’ اللہُ اَکْبَرْ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ ‘‘تین بارپھر کلِمۂ توحید ایک باراس کے بعدیہ دعا تین بار پڑھئے:

اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ بِالْھُدٰی وَنَقِّنِیْ وَاعْصِمْنِیْ بِالتَّقْوٰی وَاغْفِرْلِیْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰیط

میدانِ عَرَفا ت میں کھڑے کھڑے دعا مانگنا سنّت ہے

یاد رہے کہ حاجی کو نمازِ مغرب میدانِ عَرَفات میں نہیں پڑھنی بلکہ عشاء کے وقت میں ،مُزدَ لِفہمیں مغرب و عشاء ملا کر پڑھنی ہے۔

مُزْدَلِفَہ کو روانگی

جب غروبِ آفتاب کا یقین ہو جائے تو عَرَفات شریف سے جانبِ مُزْدَلِفَہ شریف چلیے، راستے بھر ذِکرودرود اور لَبَّیْک کی تکرار رکھیے ۔کَل میدانِ عَرَفات شریف میں حُقُوق اللہ معاف ہوئے یہاںحُقُوقُُ العِباد مُعاف فرمانے کا وعدہ ہے۔

مغرب وعشاء ملا کر پڑھنے کا طریقہ

یہاں آپ کو ایک ہی اذان اور ایک ہی اِقامت سے دونوں نمازیں ادا کرنی ہیں لہٰذا اذان واِقامت کے بعد پہلے مغرب کے تین فرض ادا کر لیجئے ،سلام پھیرتے ہی فوراََ عشا ء کے فرض پڑھئے ،پھر مغرب کی سُنَّتیں ،اس کے بعد عشاء کی سُنَّتیں اور وتر ادا کیجیے ۔

وُقُوفِ مُزْدَ لِفہ

مُزْدَ لِفہمیں رات گزارنا سنَّتِ مؤَکَّدہ ہے مگر اس کا وُقُوف واجب ہے۔وُقُوفِ مُزْدَ لِفہ کا وقت صبحِ صادق سے لے کر طلوعِ آفتاب تک ہے اس کے درمیان اگر ایک لمحہ بھی مُزْدَ لِفہ میں گزار لیا تو وقوف ہو گیا،ظاہر ہے کہ جس نے فجر کے وقت کے اندر مُزْدَلِفہ میں نماز فجر ادا کی اس کا وقوف صحیح ہو گیا۔

دسویں ذُوالحجہ کا پہلا کام رَمی

مُزْدَ لِفہ شریف سے مِنٰی شریف پہنچ کر سیدھے جَمْرَۃُ الْعَقَبَہ یعنی ’’بڑے شیطان‘‘ کی طرف آئیے۔آج صِرْف اسی ایک(یعنی بڑے شیطان) کو کنکریاں مارنی ہیں۔

حج کی قربانی

دسویں ذُوالحجہ کو بڑے شیطان کو کنکریا ں مارنے کے بعدقربان گاہ تشریف لائیے اور

قربانی کیجئے ۔یہ قربانی حج کے شکرانے میں قارِن اور مُتَمَتِّع پر واجب ہے چاہے وہ فقیر ہی کیوں نہ ہوں۔*:مُفْرِد کے لیے یہ قربانی مستحب ہے،چاہے وہ غنی(یعنی مالدار) ہو*:قربانی سے فارغ ہو کرحَلْق یا قَصر کروا لیجئے*:یاد رہے حاجی کو ان تین اُمور میں ترتیب قائم رکھنا واجب ہے۔ (۱) سب سے پہلے ’’رَمی‘‘ (۲)اس کے بعد’’قربانی‘‘ (۳)پھر ’’حَلْق یا قَصْر‘‘*:مُفْرِد پر قربانی واجب نہیں لہٰذا یہ رَمی کے بعد حَلْق یا قَصْر کروا سکتا ہے ۔

گیارہ اور بارہ ذُوالحِجَّۃ کی رَمی

گیارہ اور بارہ ذُوالْحجہ کو ظُہر کے بعدتینوں شیطانوں کو کنکریاں مارنی ہیں۔پہلےجَمْرَۃُالْاُولٰی(یعنی چھوٹا شیطان)پھر جَمْرَۃُ الْوُسْطٰی(یعنی مَنجھلا شیطان)اورآخِرمیں جَمْرَۃُ الْعَقَبَہ (یعنی بڑا شیطان)

طوافِ زیارت

*:طوافِ ز یارت حج کا دوسرا رکن ہے،*:طوافِ زیارت دسویں ذُوالحجہ کو کر لینا افضل ہے ۔اگر یہ طواف دسویں کو نہیں کرسکے تو گیارہویں اور بارہویں کو بھی کر سکتے ہیں مگربارہویں کا سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے لازِماً کرلیجئے*: طوافِ زیارت کے چار پھیرے کرنے سے پہلے بارہویں کا سورج غروب ہو گیا تو دم واجب ہو جائے گا*:ہاں اگرعورت کوحیض یانفاس آگیااوربارہویں کے بعد پاک ہوئی تواب کرلے اس وجہ سے تاخیر ہونے پر اس پردَم واجِب نہیں۔*:حائِضہ کی نِشَست محفوظ ہو اور طوافِ زیارت کا مسئلہ ہو تو ممکِنہصورت میں نِشَست مَنسُوخ کروائے اور بعدِ طہارت طَوافِ زِیارت کرے۔ اگر نِشَست

مَنسُوخ کروانے میں اپنی یا ہمسفروں کی دُشواری ہو تو مجبوری کی صورت میں طَوافِ زِیارت کرلے مگر بَدَنہ یعنی گائے یا اُونٹ کی قربانی لازِم آئے گی اور توبہ کرنا بھی ضَروری ہے کیونکہ جَنابَت کی حالت میں مسجِد میں داخِل ہونا گُناہ ہے۔ اگر بارہویں کے غُروبِ آفتاب تک طہارت کر کے طَوافُ الزِّیارۃ کا اِعادہ کرنے میں کامیابی ہوگئی تو کَفّارہ ساقِط ہوگیا اور بارہویں کے بعد اگر پاک ہونے کے بعد موقع مِل گیا اور اِعادہ کرلیا تو بَدَنہ ساقِط ہوگیا مگر دَم دینا ہوگا۔

طوافِ رُخصت

جب رُخصت کا ارادہ ہواس وقت ’’آفاقی حاجی ‘‘پر طوافِ رخصت واجب ہے۔ نہ کرنے والے پر دم واجب ہوتا ہے۔( میقات سے باہر(مثلاًپاک وہندوغیرہ)سے آنے والاآفاقی حاجی کہلاتا ہے)

’’یا خدا حج قبول کر‘‘ کے تیرہ حُرُوف

کی نسبت سے13مَدَنی پھول

*:جوحاجی غروبِ آفتاب سے قبل میدانِ عرفات سے نکل گیااُس پر دم واجب ہو گیا۔اگردوبارہ غروبِ آفتاب سے پہلے پہلے حُدُودِ عرفات میں داخل ہو گیاتو دم ساقِط ہو جا ئے گا*:دسویں کی صبحِ صادق تا طلوعِ آفتاب مُزدَلِفہ کے وقوف کا وقت ہے ،چاہے لمحہ بھر کا وقوف کر لیا واجب ادا ہوگیااور اگر اُس وقت کے دوران ایک لمحہ بھی مُزدَلِفہ میں نہ گزاراتو دم واجب ہو گیا۔جوکوئی صبح صادِق سے پہلے ہی مُزدَلِفہ سے چلاگیااُس کاواجِب ترک ہو گیا ، لہٰذا اُس پر دم واجِب ہے ۔ہاں عورت ، بیماریاضعیف یاکمزورکہ جنہیں بِھیڑ کے سَبَب اِیذا

پہنچنے کا اَندیشہ ہواگرایسے لوگ مجبوراًچلے گئے توکچھ نہیں*:دس ذُوالحجہ کی’’ رَمی‘‘ کا وقت فجر سے لیکرگیارہویں کی فجر تک ہے،لیکن دسویں کی فجر سے طلوع آفتاب تک اور غروبِ آفتاب سے صبحِ صادق تک مکروہ ہے۔اگر کسی عُذر کے سبب ہو مَثَلاََچرواہے نے رات میں ’’رَمی‘‘ کی توکراہت نہیں *:دس ذُوالحجہ کواگر مُتَمتِّع یا قارِن میں سے کسی نے رَمی کے بعدقربانی سے پہلے حلق یاقصر کروا لیاتو دم واجب ہو گیا۔مُفرِد’’رَمی‘‘ کے بعد حلق یاقصرکروا سکتا ہے کہ اس پر قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے۔*:حجِّتَمَتُّعاور حجِّ قِران کی قربانی اور حَلق یا قصر کا حُدُودِ حرم میں ہونا واجب ہے۔لہٰذا اگر یہ دونوں حُدُودِ حرم سے باہَر کریں گے توتمتُّع والے پر ’’دودَم ‘‘اورقِران والے پر’’چاردَم‘‘ واجب ہوں گے کیونکہ قِران والے پر ہرجُرم کا ڈبل کفّارہ ہے*: گیارہویں اور بارہویں کی ’’رَمی‘‘ کا وقت زوالِ آفتاب(یعنی نمازِظُہرکاوقت آتے ہی)شروع ہوجاتا ہے۔بے شمار لوگ صبح ہی سے ’’رَمی‘‘ شروع کر دیتے ہیں یہ غَلَط ہے اور اِس طرح کرنے سے رَمی ہوتی ہی نہیں ۔ گیارہویں یا بارہویں کو زوال سے پہلے اگر کسی نے ’’رمی‘‘کر لی اور اسی دن اگر اعادہ نہ کیاتودم واجِب ہو گیا*:گیارہویں اور بارہویں کی ’’رمی‘‘ کا وقت زوالِ آفتاب سے صبحِ صادِق تک ہے ۔مگربِلا عذر غروبِ آفتاب کے بعد رمی کرنا مکروہ ہے*: عورت ہو یا مرد ،’’رَمی‘‘ کے لئے اُس وقت تک کسی کو وکیل نہیں کر سکتے جب تک اس قدرمریض نہ ہو جائیں کہ سُواری پر بھی جمرے تک نہ پہنچ سکیں اگر اس قدر بیمار نہیں ہیں پھر بھی کسی مرد یا عورت نے دوسرے کو وکیل کر  دیااور خود ’’رَمی‘‘ نہیں کی تو دَم واجب ہو جائے گا*:اگر مِنٰی شریف کی حُدُودہی میں تیرہویں کی صبحِ صادِق ہو گئی اب ’’تیرھویں کی رمی‘‘ واجب ہو گئی۔ اگر’’ رَمی‘‘ کیے بغیر چلے گئے تو دَم واجب ہو گیا*:اگر کوئی طوافِ زیارت کیے بغیر وطن چلا گیا توکَفّارے سے گزارہ نہیں ہو گا کیونکہ اس کے حج کا رکن ہی ادا نہ ہوا۔اب لازمی ہے کہ دوبارہ مکّۂ مکرّمہ زادہا اللہ شرفاً وتعظیما آئے اور طوافِ زیارت کرے۔جب تک طوافِ زیارت نہیں کرے گا بیوی حلال نہیں ہو گی،چاہے برسوں گزر جائیں*:وقتِ رخصت آفاقی حجّن کو حیض آگیا،اب اِس پر طوافِ رخصتواجب نہ رہا ،جا سکتی ہے۔ دَم کی بھی حاجت نہیں *:بے وضو سعی کر سکتے ہیں مگر باوضو مستحب ہے*:جتنی باربھی عمرہ کریں ہرباراحرام سے باہرہونے کے لیے حلق یا قصر واجِب ہے ۔ اگر سرمُنڈا ہوا ہو تب بھی اُس پراُسترا پھراناواجِب ہے۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مدینے کی حاضری

مدینے کا سفر ہے اور میں نَمدیدہ نَمدیدہ

جَبِیں اَفسُردہ اَفسُردہ قدم لَغْزِیْدہ لَغْزِیْدہ

بابُ الْبَقیع پر حاضر ہوں

سراپا ادب و ہوش بنے، آنسو بہاتے یا رونا نہ آئے تو کم از کم رونے جیسی صورت بنائے بابُ الْبَقیع پر حاضر ہوں اور’’ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ‘‘عرض کر کے

ذرا ٹھہر جائیے۔ گویا سرکارِ ذی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے شاہی دربار میں حاضِری کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ اب ’’بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘پڑھ کر اپنا سیدھاقدم مسجد شریف میں رکھئے اور ہَمہ تَن ادب ہو کر داخلِ مسجد ِنبوی علٰی صاحِبِہا الصلوٰۃ والسَّلامہوں۔ اِس وقت جوتعظیم وادب فرض ہے وہ ہر مؤمن کادل جانتا ہے۔ ہاتھ، پاؤں ، آنکھ، کان،زبان،دل سب خیالِ غیر سے پاک کیجئے اور روتے ہوئے آگے بڑھئے۔نہ اِردگِردنظریں گھمائیے،نہ ہی مسجد کے نقش ونِگار دیکھئے ، بس ایک ہی تڑپ ایک ہی لگن ایک ہی خیال ہو کہ بھاگا ہوا مُجرِم اپنے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں پیش ہونے کے لیے چلا ہے۔

چلا ہوں ایک مُجرِم کی طرح میں جانبِ آقا

نظر شرمندہ شرمندہ، بدن لرزیدہ لرزیدہ

اگر مکروہ وقت نہ ہو اور غَلَبۂ شوق مُہْلَت دے تو دودورکعت تَحِیَّۃُ المسجد وشکرانۂ بارگاہِ اقدس ادا کیجئے۔

اب ادب وشوق میں ڈوبے ہوئے گردن جھکائے آنکھیں نیچی کیے،آنسو بہاتے ، لرزتے، کانپتے، گناہوں کی ندامت سے پسینہ پسینہ ہوتے ،سرکارِنامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فضل و کرم کی اُمّیدرکھتے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قَدَمَینِ شَرِیْفَیْن کی طرف سے سُنہری جالیوں کے رُو بُرومُواجَہَہ شریف میں حاضِر ہوں ۔

اصل مُواجَھَہ شریف کس طرف ہے؟

اب سراپا ادب بنے زیرِقِندیل اُن چاندی کی کیلوں کے سامنے جو سُنَہری جالیوں کے دروازۂ مبارَکہ میں اوپر کی طرف جانِبِ مشرِق لگی ہوئی ہیں قبلے کو پیٹھ کیے کم ازکم چار ہاتھ

(یعنی تقریباً دو گز)دُور نماز کی طرح ہاتھ باندھ کرمحبوب ِربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چہرۂ انور کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوں کہ ’’فتاوی عالمگیری‘‘وغیرہ میں یہی ادب لکھا ہے کہ یَقِفُ کَمَا یَقِفُ فِی الصَّلٰوۃِ یعنی’’سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دربار میں اس طرح کھڑا ہو جس طرح نماز میں کھڑا ہوتا ہے۔‘‘ یاد رکھئے! سرکارِنامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اپنے مزارِپُرانوار میں عین حیاتِ ظاہِری کی طرح زندہ ہیں اور آپ کو بھی دیکھ رہے ہیں بلکہ آپ کے دل میں جو خیالات آرہے ہیں اُن پربھی مُطَّلع یعنی آگاہ ہیں۔خبردار !جالی مبارک کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگانے سے بچئے کہ یہ خِلافِ ادب ہے کہ ہمارے ہاتھ اِس قابِل ہی نہیں کہ جالی مبارک کو چھُو سکیں۔لہٰذا چارہاتھ (یعنی تقریباًدوگز)دور ہی رہیے۔کیا یہ کم شَرَف ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کو اپنے مُواجَھَۂ اقدس کے قریب بلایااوریقینا رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نگاہِ کرم اب خُصوصیت کے ساتھ آپ کی طرف ہے۔ ؎

دیدارکے قابل توکہاں میری نظرہے

یہ تیری عنایت ہے کہ رُخ تیراادھرہے

سرکارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلِّم کی خدمت میں سلام عرض کرنے کاطریقہ

اب ادب وشوق کے ساتھ درد بھری مُعْتَدِل(یعنی درمیانی) آواز میں ان الفاظ کے ساتھ سلام عرض کیجئے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَیْرَ خَلْقِ اللہِ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاشَفِیْعَ الْمُذْنِبِیْنَ ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلٰی اٰلِکَ وَاَصْحَابِکَ وَاُمَّتِکَ اَجْمَعِیْنَ ۔

صِدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں سلام

پھر مشرِق کی جانب (یعنی اپنے سیدھے ہاتھ کی طرف) آدھے گز کے قریب ہٹ کر(قریبی چھوٹے سوراخ کی طرف) حضرت سیِّدُناصدّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے چہرۂ انور کے سامنے دست بستہ کھڑے ہو کریوں سلام عرض کیجئے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیْفَۃَ رَسُوْلِ اللہِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا وَزِیْرَرَسُوْلِ اللہِ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاصَاحِبَ رَسُوْلِ اللہِ فِی الْغَارِوَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ۔

فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں سلام

پھراتناہی جانبِ مشرِق مزیدسَرَک کر حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے رُوبُروعرض کیجئے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَااَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَامُتَمِّمَ الْاَرْبَعِیْنَ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاعِزَّالْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہط

دوبارہ ایک ساتھ شیخین کی خدمت میں سلام

پھربالِشت بھَر جانِبِ مغرِب یعنی اپنے اُلٹے ہاتھ کی طرف سَرَک جایئے اور دونوں چھوٹے سُوراخوں کے درمیان کھڑے ہوکرایک ساتھ صِدّیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں اس طرح سلام عرض کیجئے:۔

اَلسّلَامُ عَلَیکُمَا یَاخَلِیْفَتَیْ رَسُوْلِ اللہ ط اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمَایَاوَزِیْرَیْ رَسُولِ اللہ ط اَلسّلَامُ عَلَیْکُمَا یَا ضَجِیْعَیْ رَسُوْلِ اللہ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ ط اَسْئَلُکُمَا الشَّفَاعَۃَعِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَعَلَیْکُمَا وَبَارَِکَ وَسَلَّم ط یہ تمام حاضِریاں قبولیتِ دعا کے مقامات ہیں۔

دعا کے لیے جالی مبارک کو پیٹھ نہ کیجئے

جب جب سُنہری جالیوں کے پاس حاضِری نصیب ہو اِدھراُدھرہرگزنہ دیکھئے اورخاص کرجالی شریف کے اندردیکھناتوبُہت ہی جُراء ت ہے ،قبلے کی طرف پیٹھ کئے کم ازکم چارہاتھ جالی مبارَک سے دُورکھڑے رہئے اورمُوَاجَہَہ شریف کی طرف رخ کرکے سلام عرض کیجئے۔دُعاسُنہری جالیوں کی طرف رُخ کرکے ہی مانگئے کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ کعبے کو منہ کرلیں اورکعبے کے کعبے کو پیٹھ ہو جائے۔

مَدَنی اِلتِجا:دَورانِ طواف بلکہ مسجدَینِ کریمین میں اپنے موبائل فون بند رکھئے ۔ مَسئلہ: فون کی میوزیکلٹیون مسجد کے باہَر بھی ناجائز وگناہ ہے اس سے ہمیشہ کے لیے توبہ کرلیجئے ۔

مہکتامَدَنی پھول:حجِ مبرور (یعنی مقبول حج)کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے بہتر ہوکرپلٹے ۔(فتاوٰی رضویہ ج۲۴ ص۴۶۷)

قابل توجہ

جس پر حج فرض ہوگیا اُس پراورجونفلی حج کرنے جائے اُس پر بھی فرض ہے کہ وہ حج کے ضروری مسائل جانتاہو۔یہ چندورقی رسالہ صرف ’’اشارات‘‘ پرمبنی اورقطعاً نامکمَّل ہے، جنہوں نے حج کے تفصیلی احکام سیکھ لئے ہیں صرف ان ہی کے لئے یہ رسالہ کارآمدہے، لہٰذاحج کے احکام جاننے کے لیے’’رفیق الحرمین‘‘ کا ضَرور مُطالعہ فرمائیے نیزضَرورت کے مسائل علمائے کرام سے معلوم کرتے رہیے۔

مدینے پہنچے تو ساتھ آیا غم جدائی کا

ہم اشکبار ہی پہنچے تھے اشکبار چلے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

[/puk

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.