57

رمضان کے روزں کا شرعی حکم

امت مسلمہ کا اس پر اجماع ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور ان کی فرضیت کی دلیل کتاب وسنت اوراجماع سے ثابت ہے۔ ارشادِ باری تعالعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَo

اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔

البقرة، 2: 183

اس آیت میں كُتِبَ عَلَيْكُم فرضیت کی دلیل ہے۔ اور اسی طرح دوسرے مقام پر حکم باری باری تعالیٰ ہے:

فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

سو تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے۔

البقرة، 2: 185

اور حدیث سے بھی روزے کی فرضیت ثابت ہے جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد a اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کا روزہ رکھنا۔

بخاری، الصحيح، كتاب الإيمان، باب الإيمان وقول النبي صلی الله علیه وآله وسلم بني الإسلام على خمس، 1: 12، رقم: 8، بیروت، دار ابن کثیر الیمامة
مسلم، الصحيح، كتاب الإيمان، باب بيان أركان الإسلام ودعائمه العظام، 1: 45، رقم: 16، بيروت: دار إحياء التراث العربي
اسی طرح ماہ رمضان کے روزے کی فرضیت پر ساری امت کا اجماع ہے، اس کا انکار صرف کافر ہی کر سکتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.