547

سیرت النبیﷺ اور ہم

ہمارادل خوشی چاہتا ہے، ہمارا ذہن روشنی چاہتا ہے اورہماری روح اطمینان کی دولت چاہتی ہے۔
اگر ہم دل کوسچی خوشی سے آشنا کرنا چاہیں جو ہرغم سے بے نیاز کردے، ذہن کو اس روشنی سے منور کرنا چاہیں جو ہر اندھیرے پر غالب آجائے،اور روح کواحساسِ اطمینان سے اِس طرح لبریز کرنا چاہیں کہ ناآسودگی کے کسی کرب کےلئے جگہ نہ رہے تو اُس
” دانائے سُبل ،ختم الرُسل،مولائے کُل”
کے ذکرِجمیل سے بہتر اور کوئی طریقہ نہیں،جس نے
” غُبار راہ کو بخشا فروغِ وادیءسِینا”۔
ہمارے لئے اُس پاک ہستی کی سیرت ِ طیبہ پر عمل سے زیادہ موثر نجات کااور کوئی وسیلہ نہیں ، جو نگاہ عشق ومستی میں اول بھی ہے آخر بھی۔ اس فخر ِموجودات کی تعریف کرنے اور انسانیت پر ان کے احسانات کا ذکر کرنے سے بڑھ کراورکوئی سعادت نہیں ہے، جو قران بھی ہے، فرقان بھی ہے، یٰسین بھی ہے،طہ ٰ بھی ہے۔
حضرت آدم ؑ سے اب تک اربوں کھربوں انسان پیدا ہوئے اور پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر سرورِ کونین رحمتہ العالمین حضرت محمد ﷺ وہ واحد ہستی ہیں جن کی بعثت کو خود خالق کائنات نے”مومنوں پر بڑا احسان “قراردیا ہے۔۔۔۔۔۔لقد من اﷲعلی المومنین۔ یہ باری تعالیٰ کا احسان ہے کہ آمد مصطفیﷺ سے انسانیت کو مساوات اورامن کالافانی منشورعطا ہوا، حق وصداقت کوزبان ملی، کِذب وافترا کے بت منہ کے بل گر گئے۔
بعثت محمدیﷺ کو، مومنوں پر بڑا احسان کیوں قراردیاگیا اس لئے کہ آپ ﷺ انسان کی شخصیت کے ہر پہلو کی جامع اورمکمل اصلاح، تطہیر ،تہذیب اور ترقی کے لئے مبعوث فرمائے گئے تھے۔ آپﷺ نے انسان کو عمل کاالہامی ضابطہ بخشا، اُس کے قلب کاتزکیہ کرکے اسے پاک صاف کیا، اس کے علم میں اضافہ فرمایا اور اسے دانائی عطا فرمائی۔ اﷲ تعالی نے آپ کے اِس مشن کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ،،،۔۔ جو ان کوخد اکی آئتیں پڑھ پڑھ کرسناتے اور ان کو پاک کرتے اورکتاب اوردانائی سکھاتے ہیں۔۔،،،
آپ نے انسانوں کے قلوب کاتزکیہ کیا تو یوں کہ ہر خوف ، بجز خوف ِخدا ، مٹ گیا۔ ہر محبت، اﷲکی محبت کے تابع ہوگئی، ہر کدورت اورہرکھوٹ، دورہوگیا، منفی جذبوں اورگمراہ خواہشوں کو، لگام پڑ گئی اور صحت مند جذبوں اورمثبت قدروں نے ، دلوں میں گھر کرلیا۔ آپ نے ذہنوں کو دانائی عطا فرمائی تو یوں کہ نکتہ وروں سے کھل نہ سکنے اور فلسفیوں سے حل نہ ہونے والے راز گلہ بانوں پر منکشف ہونے لگے۔آپ نے علم سکھایا تو یوں کہ صحرانشیں، خانہ بدوش، دنیا کو زندگی کے قرینے اور جہاں بانی کے انداز سکھانے اٹھ کھڑے ہوئے، وہ جو کبھی مرکزیت کے نام تک سے ناآشنا تھے خود انسانی تہذیب وتمدن کامرکز قرار پائے، جوکبھی اپنی جہالت پر فخر کیا کرتے تھے، علم ودانش کے مینار بن گئے، یہ انسانی تاریخ کاسب سے عظیم انقلاب تھا۔ ایک ایسا فکری ،روحانی ،ذہنی ،قلبی، تمدنی، سیاسی، اقتصادی اورسماجی انقلاب، جس نے اعلیٰ وادنیٰ کے معیار، عزت وذلت کے معانی اورکامیابی وناکامی کے مفاہیم بدل ڈالے۔ جس نے انسانی آزادی اور حریت فکر کو اعلیٰ ترین بلندیوں سے ہم کنار کیا، اور انسانی حقوق کو ناقابلِ پامال حرمت اورتقدس بخشا۔ جس نے غلامی ، جبراستبداداور استحصال کی ہر شکل اورہر اندازکو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور انسانی مساوات ،اقتصادی انصاف، سماجی عدل، اوراخلاقی پاکیزگی، کے ذریعے ایسی معاشرتی ہم آہنگی پیدا کی کہ کشیدگی چپقلش اور بے چینی کے تما م تر اسباب کاقلع قمع ہوگیا۔
یہ انقلاب چودہ سوسال قبل برپا ہوا تھا۔ مگر یہ انقلاب کسی وقتی نظریے کی شعبدہ بازی یا کسی عارضی نظام کی کرشمہ سازی نہیں تھا کہ اس کے خدوخال گذرتے وقت کی گرد میں چھپ جاتے۔ یہ انقلاب اس فلسفہءحیات کی عطا تھا جو زمان ومکان کی حد بندیوں سے ماوراء، رہتی دنیا تک ہر دور اورہرجگہ قابل اطلاق اور قابل عمل رہے گا۔
دین ِ اسلام آخری اورمکمل دین ہے، جسے خود حق تعالی نے انسان کے لئے پسند فرمایا کہ کاروبارِ جہاں ، خالقِ جہاں کی رہنمائی کی روشنی ہی میں خوش اسلوبی کے ساتھ چلایاجاسکتا ہے۔ مخلوق کی مرضی سے نہیں ،جو کتنی ہی ترقی کرلے بہر حال کم علم ،کم فہم اورکوتا ہ اندیش ہی رہے گی۔
ہم آج بھی اسی رسولﷺ کے نام لیوا ہیں جس نے ہمیں کتاب سکھائی، مگر ہم نے اس سرچشمہ ہدایت کو بڑے احترام کے ساتھ چوم کر طاق پر رکھ دیا۔ ہم آج بھی اسی نبیﷺ کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں جو ہمارے نفس کا تزکیہ کرنے کےلئے بھیجاگیا تھا لیکن ہم نے اپنے نفس پر جھوٹ ریاکاری، حرص اور بغض وعناد کے غلیظ لبادے چڑھا لئے ہیں اور دل میں خودغرضی، دنیاداری اورمادہ پرستی کے بت چھپائے پھرتے ہیں۔ کلمہ ہم اب بھی اسی پیغمبر ﷺکا پڑھتے ہیں جس نے ہمیں علم اوردانائی سکھائی مگر علم ، جوکبھی مومن کومیراث تھا ، آج ہم علم غیروں سے مستعارلینے پر مجبورہیں اور اس پر بھی دسترس حاصل نہیں کرپاتے۔ ہمارے دانائی کاحال یہ ہے کہ ہم اپنی ناک سے آگے دیکھ نہیں پاتے، صحیح غلط ،اچھے برے کی تمیز بھی کھو بیٹھے ہیں۔ کتابﷲ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے اورتاابد رہے گی۔ اس کی نگہبانی کاذمہ اﷲ صمد نے خود لے رکھا ہے۔ ہم میں علماء دین اور دانشوروں کی کمی نہیں، مختلف شعبوں کے ماہرین بھی ماشااﷲ خاصی تعداد میں ہیں۔ اسلامی نظام کے نفاذ کے وسائل بھی موجود ہیں اورعوامی حمایت کانہایت سازگار ماحول بھی میسر ہے۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود اورتمام تر نیک خواہشات اوربلند بانگ دعووں کے باوجود یہ کیسی بدبختی ہے کہ مسلم ممالک میں سے ایک بھی اب تک اپنے آپ کو دنیا کے سامنے صحیح معنوں میں اسلامی ریاست کے نمونے کے طور پر پیش نہیں کرسکا۔ اگرچہ کہ ان میں سے بعض نےاپنے آئین میں ملمع سازی کی کوشش کی ہے، بعض نے چند ادارے کو اسلامی نام دے دیے ہیں ۔ اور بعض میں کچھ شعارِ اسلامی کوبھی اپنے طریقے سے نافذ کیا گیا ہے ۔ مگر اس کے باوجود اسلامی دنیا میں کہیں بھی وہ مستقبل پرنظررکھنے والا، ترقی پسند ،روشن خیال عادلانہ ،منصفانہ ،فلاحی معاشرہ نظر نہیں آتا ،جس کے لئے ہماراتزکیہ کیا گیا تھا، کہ ہمیں علم عطا ہوا تھا اور دانائی سکھائی گئی تھی۔ عالم اسلام کے99% 99-عوام پر کمزوری ،مظلومیت ،ناانصافی اورغربت کے اندھیرے چھائے ہوئے ہیں۔ عالم اسلام میں جرات مند قیادت دیکھنے کونہیں ملتی اور اگر کہیں اس کے کو ئی آثار نظر آتے ہیں تو انہیں مشکوک بنانے سے لیکر ختم کرنے تک کے اقدامات سے گریز نہیں کیا جاتا ۔ لیکن ہرملک میں مسلمان ایک نجات دہندہ کے منتظر ہیں ،اور ابھی تک منتظر ہی ہیں۔
ہمیں تلقین کی گئی تھی کہ اس وقت تک کھانے سے ہاتھ روکے رکھو جب تک کہ یہ یقین نہ کرلو کہ تمہارا ہمسایہ بھوکا نہیں، پھر اسلامی دنیا کے امیر ترین ملکوں کے عین پڑوس میں قحط اوربھوک سے مرنے والے ہزاروں انسانوں کی لاشیں کیوں کر ڈھوئی جارہی ہیں؟ پرتکلف دسترخوان سجانے والے کس دل سے صومالیہ کے سانس لیتے ہڈیوں کے ڈھانچوں کی تصاویر دیکھتے ہیں؟ ہمیں خطبہ حجتہ الوداع کی شکل میں انسانی حقوق کا پہلا جامع منشورعطا ہوا۔ ہمیں ایک دوسرے کی جان مال اورآبرو کاامین اور حقوق کاپاسبان بنایاگیا لیکن ہم نے محبت، اخوت ، رواداری اورمساوات کاوہ سبق بھلا دیا
ان تمام انتہائی کربناک سوالوں کاجواب وہی ہے جو اقبال نے جواب شکوہ میں دیا تھا۔
کون ہے تارکِ آئینِ رسولِ مختار
مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کامعیار
کس کی آنکھوں میں، سمایا ہے شعارِ اغیار
ہو گئی کس کی نگہ، سلف سے بے زار
قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں
کچھ بھی پیغام ِمحمدّ کا، تمہیں پاس نہیں
اگر ہم پیغام ِمحمدّ کاپاس نہیں کریں اگر ہم قرانِ حکیم کو طاق سے اتار کراپنی انفرادی اوراجتماعی زندگیوں میں عملاً جاری وساری نہیں کریں گے، اگر ہم عشق ِنبی کااظہارصرف سیرت کے جلسوں اور میلاد کی تقریروں میں کرتے رہیں گے مگر اسے اپنے قول وعمل کی کسوٹی بنانے سے گریزاں رہیں گےتو ہمارے لئے اس عذاب سے مفر ممکن نہیں ہوگا جس کی تنبیہہ خود خدائے علیم وخبیر نے کی ہے:،،،،،۔۔اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہاں عذاب آجائے اورتم کوخبر بھی نہ ہو،
اس نہایت اچھی کتاب کی جو تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوئی ہے،
پیروی کرو۔۔،،،،،
دعا ہے کہ غفور الرحیم، ہمیں نیک ہدایت دے، ہماری رہنمائی فرمائے۔ مسلمانوں کا کام پوری دنیا کی حفاظت ،پوری دنیا میں انصاف ،محبت اوربھائی چارہ قائم کرنا ہے۔ ہم نے جو وقت بے توجہی سے گمراہی میں ضائع کیا اس کے لئے ہمارا خدا ہمیں معاف کرے اورہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم من حیث القوم، صدقِ دل اور خلوصِ نیت سے اس صراط مستقیم پر استقامت کے ساتھ قائم رہیں جو اشرف الانبیاء،خاتم النبین نے ہمیں دکھائی ہے۔ تاکہ ہم ان بندوں میں شامل ہوسکیں جن سے اﷲ راضی ہوا اور جن پر اُس نے اپنی نوازشات نازل فرمائں،آمین ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.