840

عام اور خاص صدقات میں فرق صدقے کا مفہوم اور ضرورت

مسائل و مشکلات یا محرومیوں سے نجات کیلئے مخصوص صدقات و وظائف

ایک خط میں صدقہ و خیرات کے بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ مجھے کیا صدقہ دینا چاہیے اور صدقہ دینے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟ ہم خود اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کا ارادہ کر رہے تھے کیوں کہ ہمارے معاشرے میں اس حوالے سے کافی گمراہ کن نظریاتی بھی عام ہو چکے ہیں‘ صدقے کے بارے میں بعض لوگوں کے تصورات کافی حد تک ہندوانہ نظریات کے مطابق بھی دیکھنے میں آتے ہیں مثلاً صدقے کے پیسے یا چیزوں کو قبرستان میں پھینکنا یا کسی چوراہے پر رکھنا یا صدقے کے سلسلے میں یہ خیال کرنا کہ یہ کوئی بہت ہی خراب اور نحس چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔

بنیادی بات یہ ہے کہ صدقہ و خیرات کو ردِّ بلا کہا گیا ہے اور صدقہ و خیرات کی ضرورت پر ہمارا دین بھی زور دیتا ہے،دوسروں کی مدد کرنا اور ان کے کام آنا عبادات میں شامل ہے، یہ وہ عبادت ہے جس کا اجروثواب فوری مل جاتا ہے،اللہ کسی انسان کا احسان نہیں رکھتا،صدقات کے نتائج فوری طور پر حاصل ہوتے ہیں،عام طور پر لوگ اپنی حیثیت کے مطابق دوسروں کی دامے، درمے ، سخنے، قدمے مدد کرتے ہیں اور صاحب حیثیت ، مخیّر اور کُشادہ دل لوگ صدقہ و خیرات کھلے ہاتھ اور کھلے دل سے کرتے ہیں،اس کا انہیں صلہ بھی ملتا ہے۔

بہت سے لوگ اس حوالے سے بعض عُذر بھی تراشتے ہیں مثلاً یہ کہ ’’ہماری اپنی حالت ٹھیک نہیں ہے ، ہم کیا کسی کی مدد کریں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہ بڑی کمزور دلیل ہے جن کے دل کشادہ ہوں اور دل میں اللہ کا خوف اور اس کی خوشنودی کے حصول کی آرزو ہو،وہ تنگ دستی میں بھی دوسروں کی مددوتعاون کا کوئی راستہ نکال لیتے ہیں۔

عزیزان من! ہمارا مشاہدہ ہے کہ کنجوس اور خثیث افراد ہمیشہ مشکلات ، پریشانیوں اور نت نئے عذابوں میںمبتلا رہتے ہیں،اگرچہ ان میں سے بہت سے دیگر عبادات مثلاً نماز، روزہ اور تلاوتِ کلامِ پاک پر کاربند ہوتے ہیں مگر پھر بھی مشکلات اور پریشانیاں ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں،ان کے کاموں میں رکاوٹ اور تاخیر اکثر مشاہدے میں آتی ہے چوں کہ ایسے بعض لوگ اپنی عبادات پر فخر کرتے ہیں اور غروروتکبر میں بھی مبتلا ہوتے ہیں لہٰذا ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ان کے ساتھ ماجرا کیا ہے؟ کیوں اللہ ان کے مسائل حل نہیں کرتا اور کیوں ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں،ان کے مسائل اور پریشانیاں ہمیشہ ایک جیسی کیوں رہتی ہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

صدقات اور دیگر عبادات

حقیقت دراصل یہی ہے کہ نماز روزہ اور تلاوتِ قرآن پاک بے شک اہم عبادات میں شامل ہیں جو ہم اپنی ذات کے لیے کرتے ہیں ، نماز اور روزہ ہم پر فرض کردیے گئے ہیں،اگر ہم اس ذمہ داری میں کوتاہی کریں گے تو ہم سے اس کوتاہی کا حساب لیا جائے گا،لہٰذا جو کام ہم اپنی ذات کے لیے کر رہے ہیں، اُس کا صلہ طلب کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا اور اُسے دیگر دنیاوی مسائل کے حل سے جوڑنا بھی نامناسب سا لگتا ہے، یہ کام کرکے ہم اللہ پر کوئی احسان نہیں کرتے،ہاں یہ ضرور ہے کہ اس کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہمارے نیک اور صالح ہونے کی نشانی ہے اور اس کا اجروثواب اپنی جگہ ہے۔

ایک حدیث شریف کے مطابق عبادات کے 10 حصے میں سے 9 حصے حقوق العباد کی ادائیگی میں بتائے گئے ہیں گویا صرف ایک حصہ حقوق اللہ کا ہے اور 9 حصے حقوق العباد کے اور یہ حقوق العباد کی اصطلاح اپنے معنوں میں بہت وسیع و عریض ہے،اس کی ابتدا اپنے گھر ، اپنے خاندان سے ہوتی ہے اور انتہا کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔

ہمارے تجربے اور مشاہدے میں یہ حقیقت بھی ہے کہ وہ لوگ جو اپنے خاندان، پڑوسیوں اور دیگر دوست احباب کے مسائل و پریشانیوں کی فکر کرتے ہیں اور کسی نہ کسی طور پر انہیں حل کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں،ان کی اپنی پریشانیاں اور مسائل بھی کم ہوتے ہیں اور خاص طور پر جو لوگ اپنے والدین اور بیوی بچوں کی خدمت اور کفالت کے لیے محنت اور جدوجہد کرتے رہتے ہیں ، انہیں خوش رکھتے ہیں ، ان کی دعائیں لیتے ہیں وہ ہمیشہ خوش حال اور پیچیدہ نوعیت کے مسائل سے آزاد رہتے ہیں،مثل مشہور ہے کہ ماں کی دعا کے بعد بیوی بچوں کی دعا بڑی مؤثر ہوتی ہے،ماں کی دعا میں درد مندی اور دل سوزی کا غالب عنصر موجود ہوتا ہے اور چوں کہ بیوی بچوں کے مفادات بھی شوہر اورباپ سے وابستہ ہیں لہٰذا دردمندی اور دل سوزی کی شدت یہاں بھی موجود ہے بشرط یہ کہ آپ کے بیوی بچے آپ سے خوش ہوں، آپ نے انہیں ایک خوش گوار زندگی دی ہو یا اُس کے لیے کوشش کر رہے ہوں۔

صدقات و خیرات کی اقسام

اصل موضوع یہی ہے کہ صدقات و خیرات کی اقسام کیا ہیں اور طریق کار کیا ہونا چاہیے تو دین کی روشنی میں صرف اتنا ہی کافی ہے کہ کارِ خیر بس کار خیر ہے، اس کی اقسام اور طریقہ ء کار کی بحث فضول ہے، ہم کسی طرح بھی، کسی انداز سے بھی خلق خدا کے کام آئیں،بس اتنا ہی کافی ہے، اس حوالے سے کسی مخصوص قسم یا طریق کار کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اللہ کی راہ میں جو بھی خرچ کرتے ہیں ‘ اس کا اجر بھی آپ کو فوراً ہی لوٹا دیا جاتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں بعض مسائل اور مشکلات یا دکھ بیماریاں خاصی پیچیدہ یا اکثر اوقات دائمی نوعیت کی ہوتی ہیں‘ اس کے ساتھ ہی وقت کے اتار چڑھائو بھی و قتاً فوقتاً زندگی میں مشکلات و مسائل لاتے ہیں‘ یہ ایک طرح کے آزمائشی دور ہوتے ہیں جو ہمیں ہر انسان کی زندگی میں ‘ حد یہ کہ انبیاء و اولیاء کی زندگی میں بھی نظر آتے ہیں لیکن انبیاء یا اولیائے کرام جس منصب پراللہ کی طرف سے فائز ہوتے ہیں وہ بہت بڑا ہے اور ان کی آزمائش بھی بہت بڑی ہوتی ہے‘ عام آدمی اس امتحان سے سرخ رُو ہو کر گزرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا‘ لہٰذا معمولی نوعیت کے مسائل اور مشکلات یا وقت کی سختی کا شکار ہو کر بے چین ہو جاتا ہے‘بعض لوگ تو اللہ سے شکوے شکایات شروع کردیتے ہیں اور عجیب عجیب باتیں کرتے نظر آتے ہیں مثلاً اکثر لوگوں کو یہ بھی کہتے دیکھا ہے کہ ’’ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ، زندگی میںکوئی خوشی نہیں دیکھی،ہمیشہ مسائل اور مشکلات ہمارا مقدر رہی ہیں‘‘ یہ بڑا ہی نا شکر گزارانہ اور اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ انداز ہے جب کہ واضح طور پر ارشادِ باری تعالی یہ ہے ’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جُھٹلاؤ گے‘‘

حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا بے صبرا اور نا شکرا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کو بہت جلد بھلا دیتا ہے اور صرف اپنی محرومیا ں‘ پریشانیاں یا مسائل اسے یاد رہتے ہیں‘ جب وہ کسی محرومی کا شکار ہوتا ہے یا کسی مشکل میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ جلد از جلد اس کی محرومی کا ازالہ ہوجائے اور وہ مصیبت سے نجات پا جائے‘ ایسی صورت حال کے لیے بھی بہترین حل یہی ہوتا ہے کہ انسان شکر گزار رہے ، اللہ سے دعا کرے اور اسے راضی کرنے کے لیے اپنے سے زیادہ مصیبت زدہ افراد کی حسب توفیق مدد کرے تاکہ اللہ رب العزت اس پر اپنا رحم و کرم کریں اور اس کی مصیبت یا مشکل کو آسان کردیں۔

خاص صدقات و عمل کی ضرورت

مخصوص حالات کے لیے اس ضرورت کے تحت مخصوص قسم کے صدقات تجویز کیے جاتے ہیں‘ عملیات و وظائف سے بھی مدد لی جاتی ہے اور خیال رہے کہ عملیات و وظائف بھی دعا کا ایک مخصوص طریقِ کار ہے جس میں الواح ونقوش کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے ۔

وقت کی سختی یا ناسازگاری سے تقریباً ہر چھوٹے بڑے بادشاہ یا فقیر کو واسطہ پڑتاہے کیوں کہ وقت کبھی یکساں نہیں رہتا‘ وقت ہمارے ماہ و سال اور روز و شب پر اثر اندازہے ‘ ہمارا کوئی قدم اگر وقت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو ہم نقصان اٹھاتے ہیں۔

وقت کیا ہے؟ یہ ہمارے نظام شمسی میں سیارگان کی گردش ہے‘ چاند سورج کی گردش ہمارا مروّجہ ٹائم اور مقررہ ہفتہ، مہینہ اور سال تخلیق کرتی ہے‘ ہمارے کیلنڈر شمسی اور قمری گردش کی بنیاد پر مرتب ہیں‘ ہفتے کے سات دن سات سیارگان کے ناموں پر رکھے گئے ہیں‘ سیارگان سے منسوب دائرۃُ البروج حمل سے حوت تک 12مہینوں پر تقسیم ہے‘ ہماری پیدائش اور ہمارا ہر کام سیار گان کے زیر اثر ہے جو اللہ کے حکم سے اپنی اپنی ڈیوٹی اس نظام میں انجام دے رہے ہیں۔

علم نجوم اس کائناتی سسٹم میں ہماری معقول رہنمائی کرتا ہے ‘ وقت کے اتارچڑھائو سے آگاہ کرتا ہے اور انسان کی مخصوص وقت پر پیدائش کے مطابق اس کی خوبیوں اور خامیوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے‘ اس کی محرومیاں یا کامیابیاں بھی علم نجوم کی روشنی میں دیکھی جا سکتی ہیں‘ اس حوالے سے دنیا بھر میں علم نجوم کے ماہرین ایسی خامیوں یا کمزوریوں اورمحرومیوں کو دور کرنے کے لیے حکیمانہ انداز میں علاج بھی تجویز کرتے ہیں جو برسوں کے تجربے کی کسوٹی پر پرکھا جا چکا ہے‘مثلاً سیارگان سے متعلق پتھروں کا استعمال‘ رنگوں کا استعمال اور سیارگان کے سعد اور باقوت اوقات کے زیر اثر تیار کردہ الواح و نقوش کا استعمال لیکن فی الحال یہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔

مخصوص صدقات و ظائف

جیسا کہ ابتداء میں ہم نے عرض کیا تھا کہ عام نوعیت کے صدقات کے علاوہ مخصوص مسائل اور محرومیوں کو دور کرنے کے لیے مخصوص صدقات بھی تجویز کیے جاتے ہیں اور ان کا تعلق بھی مخصوص دنوں اور مخصوص سیارگان سے ہوتا ہے جو علم نجوم کی روشنی میں ہمارے کسی مسئلے یا محرومی کاباعث ہوتے ہیں یا وقت کی ناسازگاری اور سختی کا سبب ہوتے ہیں‘ اس حوالے سے ہم اکثر سوالات کے جواب میں مخصوص صدقات تجویز کرتے رہے ہیں اور اب ضروری سمجھتے ہیں کہ عام معلومات میں اضافے کے لیے اس کی تفصیل بیان کردی جائے۔

مخصوص صدقات کے سلسلے میں اکثر لوگوں کو اور خصوصاً بیرون ملک مقیم افراد کو بڑی الجھن اور پریشانی کا سامناہوتا ہے ‘ کیوں کہ روایتی طورپر دنوں اورسیاروں کے مخصوص صدقات جو قدیم زمانے سے مروّج چلے آرہے ہیں ان کی پابندی کرنا بیرون ملک مقیم افراد کے لیے تو اکثر ناممکن سا ہوتا ہے ‘ اپنے وطن میں بھی پرانے طریقے کار کے سلسلے میں لوگوں کو بڑی الجھن اورپریشانی ہوتی ہے‘ مثلاً سیارہ زحل اور ہفتے کے دن کا صدقہ کالے ماش یا دیگر کالی اشیاء ہیں‘ اب آج کے زمانے میں صدقے کی یہ چیزیں کون لے گا ؟اسی طرح دیگر سیارگان سے متعلق صدقات کا مسئلہ بھی ہے‘ آئیے اس مسئلے کے حل کی دیگر صورتوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔

7 سیار گان کے مخصوص صدقات

واضح رہے کہ ہفتے کے سات دن سات سیار گان سے منسوب ہیں ‘ ہفتہ زحل سے ‘ اتوار شمس سے‘ پیر قمر سے‘ منگل مریخ سے‘ بدھ عطارد سے ‘ جمعرات مشتری سے اور جمعہ زہرہ سے منسوب ہے۔ اس کے علاوہ سیارہ قمر کے 2 سائے راس و ذنب بھی ہیں اور علم نجوم میں ان کی بھی بڑی اہمیت ہے ، عام طور پر ان کے اثرات نحس تصور کیے جاتے ہیں،راس کا اثر و خصوصیات سیارہ زحل کے مشابہ ہے اور اسی مناسبت سے منسوب دن ہفتہ ہے،ذنب اپنی خصوصیات اور اثر میں سیارہ مریخ سے مشابہ ہے اور اس کا منسوبی دن منگل ہے۔

اگر زائچے کی روشنی میں یہ بات مشاہدے میں آئے کہ وقت کی سختی کسی مخصو ص سیارے کے اثر کی وجہ سے ہے یا کسی کام میں رکاوٹ زائچے میں موجود کسی سیارے کے نحس اثر یا نحس پوزیشن کی وجہ سے ہے تو سیارے کے منسوبی دن میں مخصوص صدقات کی پابندی کرنی چاہئے۔ زائچے سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کون سے ستارے مستقل طور پر صاحب زائچہ کے لیے منحوس اور نقصان دہ اثر رکھتے ہیں اور اس اعتبار سے کون سے دن ہمارے لیے ناموافق ہوتے ہیں، ایسے دنوں میں بھی مخصوص صدقہ ہمیشہ دینا بہتر رہتا ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے۔

اتوار کادن سورج سے منسوب ہے اس روز گندم ‘ گُڑ اور دیگر سرخ رنگ کی اشیاء کا صدقہ دیا جاتا ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی ہم نے عرض کیا کہ آج کے دور میں اس نوعیت کے صدقات کی ادائیگی کرنا کافی مشکل کام ہے۔

اس حوالے سے ہمارا طریق کار یہ ہے کہ کسی ایسے غریب بال بچے دار کی حسب توفیق مدد کی جائے جو ادھیڑ عمر ہو ‘ اگر والد حیات ہوں تو ان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کی جائے اور ان سے دعا کی درخواست کی جائے‘ ساتھ ہی صبح سورج طلوع ہونے سے قبل بیدار ہونے کی عادت ڈالی جائے اور نماز فجر کی پابندی کی جائے۔

جب سورج طلوع ہو توسورج کی روشنی میں بیٹھ جائیں اور کم از کم ایک بار سورہ شمس کے ساتھ اسمائے الہی یا حیُ یا قیومُ 174 مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کر اللہ سے دعا کریں۔

پیر کا دن چاند سے منسوب ہے ‘ پرانے طریقِ کار کے مطابق سفید رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا جاتا ہے ‘ مثلاً آٹا ‘ چاول‘ انڈے ‘ دودھ‘ دہی وغیرہ۔ اکثر حالات میں یہ ممکن نہیں ہوتا ۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ اگر یہ صدقات دینا ممکن نہ ہوتو کسی غریب بچوں والی عورت کی حسب توفیق مالی مدد کریں‘ اپنی والدہ کی‘ اگر وہ حیات ہوں تو زیادہ سے زیادہ خدمت کریں اور ان سے خصوصی دعا کی درخواست کریں‘ پرندوں کے لیے روزانہ پابندی سے داناپانی کا انتظام کریں‘ کچے یا ابلے ہوئے چاول پرندوں کو بھی ڈالے جاسکتے ہیں۔

ہر مہینے نیاچاند دیکھ کر 556مرتبہ اسماء الٰہی یا رحمنُ یا رحیمُ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھیں اور اللہ سے دعا کریں اور یہ کام ہر پیر کو مغرب کی نماز کے بعد کرلیا کریں۔

منگل کا دن سیارہ مریخ سے منسوب ہے اس دن سرخ رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا جاتا ہے ‘ مثلاً گوشت ‘ کلیجی ‘ سرخ مسور کی دال ‘ چقندر یادیگر سرخ رنگ کی اشیاء۔ گائے ‘ سرخ بکرا یا مرغی وغیرہ ذبح کر کے غریبوں یا مستحق افراد میں تقسیم کریں۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ اگر ان صدقات کی ادائیگی ممکن نہ ہو سکے تو کسی غریب غیرشادی شدہ نوجوان کی مدد کریں‘اپنے چھوٹے بھائیوں کی مدد کریں ‘ ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان سے دعا کی درخواست کریں ۔

منگل کی صبح طلوع آفتاب کے وقت اسماء الٰہی یا مالکُ یا قدوسُ261 مرتبہ پڑھ کر اللہ سے دعا کریں ۔

بدھ سیارہ عطارد سے منسوب ہے اور یہ سیارہ سال میں کم از کم تین بار رجعت کرتا ہے ‘ برج جوزا اورسنبلہ کا مالک ہے لہٰذا جوزا اور سنبلہ افراد اس کی رجعت یا نحس اثرات کا اکثر شکار ہوتے ہیں‘ بدھ کے روز سبز رنگ کی چیزوں کا صدقہ دینے کی تاکید کی جاتی ہے مثلاً سبزیاں ‘ مونگ کی دال ثابت ‘ سبز کپڑا وغیرہ ۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ غریب طلبہ اورنادار بچوں کی مدد کریں‘ ممکن ہو تو جانوروں کو سبز چارہ ڈالیں ‘ پرندوں کو باجرہ ڈالیں‘ خاص طور پر یتیم بچوں کا خصوصی طور پر خیال رکھیں ۔

بدھ کے روزطلوع آفتاب کے وقت اسماء الٰہی یا علیُ یاعظیمُ 1130مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھیں اور اللہ سے دعا کریں۔

جمعرات سیارہ مشتری سے منسوب ہے اگر مشتری کے نحس اثرات یا ناموافق پوزیشن سے متاثر ہیں تو زرد رنگ کی چیزوں کا صدقہ دیا جاتا ہے ‘ مثلاً چنے کی دال ‘ زرد حلوہ‘ زردہ یا زرد رنگ کی مٹھائی وغیرہ ۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ جمعرات کو ایسے غریب افراد کی مددکریں جو بچوںکو تعلیم دیتے ہوں‘ دینی یادنیاوی ‘ اپنے استاد کی خدمت کریں اور ان سے دعا کی درخواست کریں۔

جمعرات کے روز بعد نماز عشاء اسماء الٰہی یا کبیر ُ یا متعالُ 773 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھ کر دُعا کیا کریں، خیال رہے کہ بعد نماز عشاء جمعرات کی رات وہ ہوگی جو بدھ کا دن گزار کر آئے گی۔

جمعہ کا دن سیارہ زہرہ سے منسوب ہے اور زہرہ کی خرابیوں یا سختیوں کو دور کرنے کے لیے سفید چیزوں کا صدقہ دیا جاتا ہے جیسے چاول، سفید کپڑا ، دودھ ، دہی وغیرہ ۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن غریب کنواری لڑکیاں کی مدد کی جائے،اگر صاحب حیثیت ہیں تو غریب لڑکیوں کی شادی کے سلسلے میں تعاون کریں، اپنی بہنوں کی مدد کریں اور ان سے دعا کی درخواست کریں،دیگر خواتین سے بھی نرمی سے پیش آئیں اور ان کی مدد کریں،پرندوں کو خوراک ڈالیں۔

شب جمعہ یعنی جمعرات کا دن گزار کر جو رات آئے تو بعد نماز عشاء اسمائے الٰہی یا کافیُ یا غنیُ 1171 ء مرتبہ اول آخر گیارہ بار درود شریف کے ساتھ پڑھ کراللہ سے دعا کریں۔

ہفتہ کا دن سیارہ زحل سے منسوب ہے،زحل کی سختی و نحوست مشہور ہے اس لیے ہفتہ کے روز کالے رنگ کی چیزوں کا صدقہ دینے کی تاکید کی جاتی ہے مثلاً کالی ماش یا دیگر بلیک کلر کی چیزیں ، کووّں کو خوراک ڈالنا بھی زحل کا صدقہ ہے۔

ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہفتے کے روز زیادہ عمر کے معمر افراد کی مدد یا خدمت کی جائے ، مہلک بیماریوں میں مبتلا افراد یا معذور افراد کی مدد کی جائے ، اگر والد یا والد کے بڑے بھائی یا خاندان کے دیگر بزرگ حیات ہیں تو اُن کی خدمت کی جائے اور ان سے دعا کی درخواست کی جائے۔

ہفتے کے روز بعد نماز عشاء اسمائے الٰہی یا فتّاح یا رزّاقُ 797 مرتبہ اول آخر درود شریف کے ساتھ پڑھیں اور اللہ سے عاجزی و انکساری کے ساتھ دُعا کریں۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ راس اور ذنب سیارہ زحل اور مریخ جیسا اثر دیتے ہیں لہٰذا دونوں کے صدقات اور دن بھی وہی ہیں جو زحل اور مریخ کے ہیں،البتہ راس کے ناقص اثرات کو زائل کرنے کے لیے روزانہ(اتوار کے علاوہ) چیونٹیوں یا دیگر حشرات الارض کو خوراک ڈالنا بھی بہترین صدقہ ہوگا، اس کے علاوہ ذنب کے نحس اثرات سے نجات کے لیے منگل کے روز آوارہ کتوں کو خوراک ڈالنا اور کسی مجذوب، ذہنی مریض یا پاگل کی مددوخدمت کرنا بہتر ہے۔

اپنے لیے دُرست صدقات، پتھر یا لوح وغیرہ کا انتخاب اپنے دُرست زائچے کی روشنی میں کرنا چاہیے ورنہ محض ہوا میں بلّا گھمانے والی بات ہوگی‘ ہم یہاں وضاحت کرناضروری سمجھتے ہیں کہ اہم مسائل اور مشکلات کے حل کے لیے صدقات‘ موافق و ناموافق رنگ‘ اسٹون‘ الواح و نقوش کا استعمال اپنے درست زائچے کی روشنی میں کرنا چاہیے اور درست زائچہ مکمل تاریخ پیدائش‘ وقت پیدائش اور پیدائش کے شہر کی مدد کے بغیر نہیں بن سکتا‘ جو لوگ صرف نام سے زائچہ بناتے ہیں وہ غلطی پر ہیں‘ ایک درست زائچہ ہی ہماری صحیح رہنمائی کر سکتا ہے اور یہ نشاندہی کر سکتا ہے کہ ہمارے موجودہ مسئلے کا بنیادی سبب کیا ہے‘ اس کے بعد ہی ضروری علاج تجویز کیا جانا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.