494

عیسی بن مریم علیہ السلام

اللہ تعالی اپنی کمال قدرت سے عیسی عليہ السلام کو بغير باپ کے پیدا فرمايا،جیسا کہ آدم علیہ السلام کو بغير ماں باپ کے اور حوا عليہا السلام کو بغیر ماں کے پيدا فرمايا،عیسی عليہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، يہ نہ تو اللہ ہیں اور نہ اللہ کے بیٹے ، بلکہ يہ دوسرے انبياء کی طرح انسان اور نبی ہیں۔

عیسی علیہ السلام کی والدہ

مریم بنت عمران ایک صالحہ اورمتقی و پرہیزگار عورت تھی ، عبادت میں اتنی آگے تھیں کہ اس میں ان کا کو‏ئ نظیر نہیں تھا تو فرشتوں نے اسے یہ خوشخبری سنائی کہ اللہ تعالی نے آ‎پ کو چن لیا ہے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:اورجب فرشتوں نے کہا اے مریم ! اللہ تعالی نے تمہیں برگزیدہ بنایا ، اور تمہیں پاک کیا ، اور سارے جہان کی عورتوں کے مقابلہ میں تمہیں چن لیا ہے ، اے مریم تم اپنے رب کے لئے خاکساری اختیار کرو ، اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ( آل عمران : 42 – 43)۔

مریم علیہا السلام کو خوشخبری

پھرفرشتوں نے مریم علیہا السلام کو یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالی اسے بیٹا ہبہ کرے گا جسے اللہ تعالی کلمہ کن کہہ کرپیدا فرمائیں گے اور اس بچے کا نام المسیح عیسی بن مریم ہوگا ، اور یہ دنیا وآخرت ميں عزت وجاہت کا مالک ہوگا اوربنواسرائیل کے لئے رسول ہوگا اور کتاب و حکمت اور تورات اورانجیل کا علم دے گا ۔اور اس کی کچھ ایسی صفات اورمعجزات ہونگے جوکسی اورکے پاس نہیں ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:جب فرشتوں نے کہااے مریم ! اللہ تعالی تمہیں اپنے ایک کلمہ کی خوشخبری دیتا ہے ، جس کا نام مسیح عیسی بن مریم ہوگا ، جودنیا اور آخرت میں باعزت اور میرے مقرب بندوں میں سے ہوگا ، اور لوگوں سے گود میں اور ادھیڑ عمرکو پہنچنے کے بعد بات کرے گا ، اور میرے صالح بندوں میں سے ہوگا ، مریم علیہا السلام نے کہا اے میرے رب ! مجھے لڑکا کیسے ہوسکتا ہے ؟ مجھے تو کسی انسان نے چھوا تک نہیں ، اللہ تعالی نے کہا ، اسی طرح اللہ تعالی جو چاہتاہے پیدا کرتا ہے ، جب کسی چیز کا فیصلہ کر لیتاہے تو وہ اس کے لئے ، ہوجا ، کہتاہے تووہ چیز ہو جاتی ہے (آل عمران : 45 – 47)۔

خوشخبری کا پورا ہونا

پھر اللہ تعالی نے فرشتوں کا مریم علیہا السلام کوبیٹے کی خوشخبری کو پورا کرتے ہوئے عیسی علیہ السلام کو عزت و شرف اور انکی معجزات کے ساتھ تائید فرمائی ۔ فرمان باری تعالی ہے:اوراللہ تعالی اسے کتاب کا علم ، حکمت اور تورات ، انجیل دے گا ، اور رسول بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گا ، (جوان سے کہے گا کہ) میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں ، وہ یہ کہ میں مٹی سے پرندہ سے کی شکل بنا‎‎ؤں گا ، پھر اس میں پھونک ماروں گا ، تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے پرندہ بن جائے گا ، اور میں اللہ تعال کے حکم سے مادرزاد اندھے کو ، اور برص والے کوٹھیک کردوں گا اور مردوں کوزندہ کردوں گا ،اور میں جوکچھ تم کھاتے ہو ، اورجو اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو ،ان کی خبر دوں گا ، اگر تم ایمان والے ہو تو اس میں تمہارے لئے ایک نشانی ہے ، اورمجھ سے پہلے جو تورات نازل ہو‏ئ ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں ، اور تاکہ میں تمہارے لئے بعض ان چیزوں کوحلال کروں جو تم پرحرام کردی گئ تھیں اور میں تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں پس تم اللہ تعالی سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ، بے شک اللہ تعالی میرا اور تمہارا بھی رب ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھی راہ ہے (آل عمران : 48 – 51)اور اللہ سبحانہ وتعالی کے لئے ہی پیدا کرنے کا کمال مطلق ہے ، وہ جس طرح چاہے اور جوچاہے پیدا کرتا ہے ، اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کومٹی سے بغیر ماں اور باپ کے پیدا فرمایا ، اور حواء کو آدم علیہ السلام کی پسلی سے بغیرماں کے پیدا فرمایا ، اوربنوآدم کی نسل ماں اورباپ دونوں سے چلائی ، اور عیسی علیہ السلام کو بغیرباپ کے صرف ماں سے پیدا فرمایاتواللہ سبحانہ وتعالی خلاق علیم ہے ۔

عیسی عليہ السلام كى معجزانہ ولادت

اور اللہ تعالی نے قرآ ن کریم میں عیسی علیہ السلام کی ولادت کی کیفیت بڑے وافی اورشافی طریقےسے بیان کی ہے ارشاد باری تعالی ہے:اورآپ قرآن میں مریم علیہ السلام کا ذکربھی کیجئے ، جب وہ اپنےگھر والوں سے دور مشرقی جانب ایک جگہ پر چلی گئ ، پھر لوگوں کی طرف سے اپنے لئے ایک پردہ بنا لیا ، تو ہم نے اس کے پاس اپنے فرشتے جبریل کو بھیجا ، تو وہ اس کے سامنے بھلے چنگے انسان کی شکل میں ظاہر ہوا ، مریم علیہا السلام نے کہا کہ اگر تم اللہ تعالی سے ڈرنے والے تو تومیں رحمن کے ذریعے پناہ مانگتی ہوں ، جبریل نے کہا میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ ہبہ کروں ، مریم علیہاالسلام نے کہا مجھے لڑکا کیسے ہو گا جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں ہے اور میں بدکار بھی نہیں ہوں ، جبریل علیہ السلام کہنے لگے ایسا ہی ہو گا تمہارا رب کہتا ہے کہ یہ کام میرے لئے آسان ہے ، اور تاکہ ہم اسے لوگوں کے لئے (اپنی قدرت کی ) ایک نشانی اور رحمت بنا‏ئيں ، اوریہ ایک ایسی بات ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے (مریم : 16 – 21)

جب جبریل علیہ السلام نے یہ بات کہی تو وہ اللہ تعالی کی قضاءاور قدر اور فیصلے پر راضی ہوگئيں توجبریل علیہ السلام نے ان کے گریبان میں پھونک ماری ارشاد باری تعالی ہے:چنانچہ وہ حاملہ ہوگئ تو اسے لئے وہ ایک دور جگہ پر چلی گئ پھر زچگی کی تکلیف نے اسے کھجور کے تنے کے پاس پہنچا دیا ، وہ کہنے لگی کاش کہ میں اس سے پہلے ہی مر چکی ہوتی اور ایک بھولی بسری یاد بن چکی ہوتی (مریم : 22 – 23)

پھر اللہ تعالی نے مریم کے لئے کھانے اورپانی کا انتظام فرمایا اور اسے حکم دیا کہ وہ کسی سے بھی بات نہ کرے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:تو فرشتے نے اس کی نچلی جانب سے پکارا کہ تم غم نہ کرو ، تمہارے رب نے تمہارے نیچے کی جانب ایک چشمہ جاری کردیا ہے ، اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلا‎ؤ تمہارے لئے‎ چنی ہوئ اور تازہ کھجوریں گريں گی توکھا‎‎ؤ پیئو اوراپنی آنکھوں کو (بچے کودیکھ کر) ٹھنڈی کرو ، اور اگر کسی انسان کودیکھو تو (اشارہ سے ) کہہ دو کہ میں نے رحمان کے لئے خاموش رہنے کی نذر مان رکھی ہے ، اس لئے میں آج کسی انسان سے بات نہیں کروں گی (مریم : 24- 26)

قوم کا رد عمل

پھراسکے بعد مریم علیہا السلام اپنے بیٹے عیسی علیہ السلام کواٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آئیں تو جب انہوں نے اسے دیکھاتو اس کے معاملے کو بہت بڑا سمجھا اوراسے ناپسند کیا ، مگر مریم علہاالسلام نے انہيں کوئ جواب نہ دیا بلکہ اشارہ سے کہا کہ اس بچے کوپوچھ لو یہ تمہيں بتائے گا اسی چیزکی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے:پھروہ بچے کواٹھا ئےہوئے اپنی قوم کے پاس آئ ، انہوں نے کہا اے مریم ! تم نے بہت ہی برا کام کیا ہے ، اے ھارون کی بہن ! تمہارا باپ تو کوئ برا آدمی نہیں تھا اورنہ ہی تمہاری ماں بدکار تھی ، تومریم نے بچے کی طرف اشارہ کردیا ، لوگ کہنے لگے ہم اس سے کیسے بات کریں جوکہ ابھی بچہ اورگود میں ہے (مریم: 27 – 29)

قوم کے تعجب پر عیسی عليہ السلام کا جواب

توعیسی علیہ السلام نے فورا جواب دیا حالانکہ وہ ابھی بچے اور گود میں تھے ، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ربانی ہے:بچے نے کہا بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے ، اورجہاں بھی رہوں مجھے بابرکت بنایا ہے ، اورجب تک زندہ رہوں ،اس نے مجھے نماز اور زکاۃ کی وصیت کی ہے ، اور مجھے میری ماں کا فرمانبردار بنایا ہے اورمجھے بد بخت نہیں بنایا ، اورمجھ پراللہ تعالی کی سلامتی رہی جس دن میں پیدا ہوا اور اس دن بھی رہے گی جب میں مروں گا ، اور جب دوبارہ اٹھایا جاؤں گا (مریم : 30 – 33)۔

اہلِ کتاب کا عیسی عليہ السلام کے متعلق اختلاف

اللہ تعالی کے بندے اوررسول عیسی علیہ السلام کی تصفیلی خبر یہ ہے لیکن ان کے متعلق اہل کتاب اختلاف کرتے ہیں ، بعض کا یہ کہناہے وہ اللہ تعالی کے بیٹے ہیں ، اور کچھ کا کہنا ہے کہ تین ميں سے تیسرا ہیں ، اور بعض کا یہ کہناہے کہ وہ اللہ ہے ، اور بعض کہتے ہیں کہ وہ اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں ، اور یہ آخری بات ہی حق ہے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:عیسی بن مریم علیہ السلام کی یہی حقیقت ہے ، اور یہی وہ حق بات ہے جس میں وہ لوگ اختلاف کررہے ہیں ، اللہ تعالی کے لائق ہی نہیں کہ وہ اپنے لئے کوئ اولاد بنائے وہ ہر عیب سے مبرا اور پاک ہے ، جب کسی چیز کا فیصلہ کر دیتاہے تو صرف اتنا کہتا ہے کہ ، ہو جا ، تو وہ چیز ہو جاتی ہے ، اور بے شک اللہ تعالی ہی میرا اور تمہارا رب ہے ، اس لئے اسی کی عبادت کرو ، اور یہی سیدھی راہ ہے ، پھر جماعتوں نے آ پس میں ( اس بارہ میں ) اختلاف کیا تو کافروں کے لئے روز قیامت حاضری کے وقت بربادی ہو گی (مریم : 34 – 37)۔

اورجب بنو اسرائیل صراط مستقیم سے ہٹ گئے اور اس سے دور چلے گئے اور انہوں نے اللہ تعالی کی حدود سے تجاوز اورانحراف کیا اور ظلم وستم کرنے لگے اور زمین میں فساد بپاکرنے لگے ، اوران میں سے ایک گروہ نے حشرونشر اورروزقیامت اورحساب وکتاب کا انکار کیا ، اورشہوات اورلذتوں میں ڈوب کرحساب وکتاب اورسزا کوبھول گئے تو پھر اس وقت اللہ تبارک وتعالی نے ان کی طرف عیسی بن مریم علیہ السلام کورسول بناکر مبعوث کیا اوراسے تورات و انجیل سکھائی، جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:اللہ تعالی اسے لکھنا اورحکمت اور توراۃ اورانجیل سکھائے گا اور وہ بنواسرائیل کی طرف رسول ہوگا (آل عمران : 48)اور اللہ تعالی نے عیسی بن مریم علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی اور جوکہ لوگوں کے لئے ہدایت اورنور اورتوراۃ کی تصدیق کرنے والی تھی ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:اور ہم نے اسے انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی ، اور وہ اپنے پہلے کی کتاب توراۃ کی تصدیق کرنے والی اور وہ متقی اورپرہیزگار لوگوں کے لئے سرا سر ھدایت ونصیحت تھی (المائدۃ : 46)۔

عیسی عليہ السلام کی دعوت

عیسی علیہ السلام نے بنو اسرائیل کو اللہ وحدہ کی عبادت اور تورات وانجیل کے احکام پر عمل کرنے کی دعوت کا فریضہ سرانجام دیا اوران سے اچھے طریقے کے ساتھ جدال کیا اور ان کے مسلک کا فساد بیان کیا ، لیکن جب انہوں نے بنواسرا‏ئیل کا کفرو عناد اور فساد دیکھا تو یہ فرمایا کہ اللہ کی طرف میری مدد کون کرے گا ؟ تو بارہ حواری ایمان لے آئے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:توجب عیسی علیہ السلام نے انکا کفر محسوس کیا تو کہنے لگے اللہ تعالی کی راہ میں میری مدد کرنے والا کون ہے ؟ حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ تعالی کی راہ کے مدد گار ہیں ، ہم اللہ تعالی پرایمان لائے اور آپ گواہ رہئے کہ ہم مطیع ہیں ، اے ہمارے رب ! ہم تیری نازل کی ہو‎ئ وحی پر ایمان لائے اور ہم نے تیرے رسول کی اتباع کی ، پس تو ہمیں وگواہوں میں لکھ لے(آل عمران : 52- 53)۔

اللہ عزوجل نے عیسی علیہ السلام کی عظیم معجزات کے ساتھ تائید فرمائی جوکہ اللہ تعالی کی قدرت کویاد دلاتے اور روح کی تربیت کرتے اور اللہ تعالی اورروز آخرت پر ایمان پیدا کرتے ہیں ، تو عیسی علیہ السلام مٹی سے پرندے کی شکل بنا کر اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ تعالی کے حکم سے پرندہ بن جاتا ، اور کوڑھ اوربرص کے مریض ارومادرزاد اندھے کو اللہ تعالی کے حکم سے تندرست کر دیتے ، اور مردے کواللہ تعالی کے حکم سےزندہ کردیتے اورلوگوں کوجو کچھ وہ کھاتے اوراپنے گھروں میں جو ذخیرہ کرتے اس کی خبر دیتے تھے ، تووہ یہودی جن کی طرف عیسی علیہ السلام کو رسول بنا کر مبعوث کیا گیا تھا وہ عیسی علیہ السلام کی دشمنی پر اتر آئے اورلوگوں کو ان سے ورکنے ، اور ان کی تکذیب کرنے لگے اور ان والدہ پر فحاشی کا الزام اوربہتان لگا دیا ۔

بنی اسرائیل کی عیسی عليہ السلام کے خلاف سازش اور اللہ تعالی کا انہیں بچانا

جب بنو اسرائیل نے یہ دیکھا کہ غریب اورفقراء اورکمزورلوگ عیسی علیہ السلام پر ایمان لانے اور اس کے ارد گرد جمع ہونے لگے ہیں تو ان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے لگے تا کہ عیسی علیہ السلام کو قتل کردیں تو رومیوں کو ان کے خلاف ابھارا ، اورورمانی حاکم کویہ باور کرایا کہ عیسی علیہ السلام کی دعوت میں رومانی حاکم کی حکومت کوخطرہ ہے اوراس کی حکومت زوال میں آجائے گی ۔رومانی حاکم نے ان کے جھانسے میں آکر ان کی گرفتاری اور سولی پر چڑھانے کا حکم جاری کردیا ، تو اللہ تبارک وتعالی نے ان میں سے ایک منافق جس نے عیسی علیہ السلام کی چغلی کی تھی پر عیسی علیہ السلام کی مشابہت ڈال دی تو فوج نے اسے ہی عیسی علیہ السلام سمجھ کر پکڑ لیا اورسولی پر لٹکا دیا ، اوراللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کو سولی اور قتل سے بچا لیا جیسا کہ اللہ تعالی نے یہودیوں کا قول نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے:اورانکے اس قول کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسی بن مریم کوقتل کردیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا اور نہ ہی سولی چڑھایا، بلکہ ان کے ان (عیسی ) کا شبیہ بنا دیا گيا یقین جانو کہ عیسی علیہ السلام کے بارہ میں اختلاف کرنے والے ان کے بارہ میں شک میں ہیں ، انہیں اس کا کو ئ یقین اور علم نہیں وہ توصرف تخمینی باتوں پر عمل کرتے ہیں ، اور یہ بات تو یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا ، بلکہ اللہ تعالی نے انہيں اپنی طرف اٹھا لیا ہے اور اللہ تعالی بڑا زبردست اور پوری حکمت والا ہے (النساء : 157- 158)۔

نزولِ عیسی عليہ السلام

عیسی علیہ السلام فوت نہیں ہوئے بلکہ اللہ تعالی نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ہے ، اور وہ قیامت سے قبل نازل ہونگے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی کرینگے ، اوران یہودیوں کوجھٹلائيں گے جن کا یہ گمان ہے یہ انہوں نے عیسی علیہ السلام کو قتل کردیا اور سولی پر لٹکا دیا ہے ، اور ان عیسائیوں کوبھی جھٹلائیں گے جنہوں نے ان کے بارہ میں غلو سے کام لیا اوریہ کہنا شروع کردیا کہ وہ اللہ ہے ، یا وہ اللہ کے بیٹے ہیں ، یا تینوں میں سے تیسرا ہیں ۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے:اس ذات کی قسم جس ہاتھ میں میری جان ہے ! ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابن مریم حاکم و عادل بن کر نازل ہونگے ، وہ صلیب کو توڑیں گے ، اورخنزیر کوقتل کریں گے ، اورجزیہ لاگو کريں گے ، اور مال کی اتنی بہتات ہوجائے گی کہ کو‎ئ اسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا)صحيح مسلم: 155)۔

اور جب عیسی علیہ السلام کا قیامت سے قبل نزول ہوگا تو اہل کتاب ان پر ایمان لے آئيں گے ، جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:اوراہل کتاب میں سے ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو عیسی علیہ السلام کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ لا ئے اور قیامت کے دن ‏آپ ان پر گواہ ہونگے (النساء : 159)۔

عقيدۃ تثليث کی ترديد

عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ تعالی کے رسول اور اس کے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالی نے بنو اسرا‏ئیل کی ہدایت اورانہیں صرف اللہ تعالی کی عبادت کرنے کی دعوت دینے کے لئے بھیجا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی نے یہودیوں اورعیسائیوں کو اس آیت میں فرمایا ہے:اے اہل کتاب ! اپنے دین کے بارہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ، اور اللہ تعالی پر حق کے علاوہ کچھ نہ کہو ، مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام تو صرف اللہ تعالی کے رسول اور اس کے کلمہ ( کن سے پیدا شدہ) ہیں جسے مریم (علیہا السلام ) کی طرف ڈال دیا تھا اور اس کے پاس کی روح ہیں اس لئے تم اللہ تعالی کواور اس کے سب رسولوں کومانو اور یہ نہ کہو کہ اللہ تین ہیں ، اس سے باز آجاؤ کہ تمہارے لئے بہتری ہے ، اللہ تو صرف ایک ہی عبادت کے لا‎ئق ہیں اور وہ اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو ، جو کچھ آسمان وزمین میں ہے وہ اسی کے لئے ہے اور اللہ کافی ہے کام بنانے والا (النساء:171) ۔نیز فرمایا:اوریہ کہنا کہ عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہيں بہت ہی بڑی چیزاور منکر ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:ان کا قول تو یہ ہے کہ اللہ رحمان نے بھی اولاد اختیار کی ہے ، یقینا تم بہت بری اور بھاری چیز لائے ہو ، قریب ہے کہ اس قول کی وجہ سے آسمان پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں ، کہ وہ رحمان کی اولاد ثابت کرنے بیٹھے ، اوریہ رحمان کی شان کے لائق نہیں کہ وہ اولاد رکھے۔(مریم : 88 – 93)

نیز فرمايا: اور عیسی بن مریم علیہ السلام بشر اور انسان ہیں ، اور وہ اللہ تعالی کے رسول اور اسکے بندے ہیں ، تو جویہ عقیدہ رکھے کہ مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام اللہ ہیں تو اس نے کفر کیا ۔ارشاد باری تعالی ہے:یقینا ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے یہ کہا کہ مسیح بن مریم ہی اللہ ہے (المائدۃ : 72) اورجس نے یہ کہا کہ مسیح اللہ تعالی کا بیٹا ہے یا یہ کہا کہ وہ تینوں میں سے تیسرا ہے وہ اس نے بھی کفر کیا ۔فرمان ربانی ہے:وہ لوگ بھی قطعا کافر ہوگئے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ تینوں میں سے تیسرا ہے ، دراصل اللہ تعالی کے سوا کوئی اورمعبود نہیں ، اگر یہ لوگ اپنے اس قول سے باز نہ آ‎ئے تو ان میں سے جو کفر پر رہیں گئے انہیں ضرورالمناک عذاب دیا جائے گا (المائدۃ : 73)۔

عیسی عليہ السلام الہ کیوں نہیں ہوسکتے؟

مسیح بن مریم علیہ السلام بشرہیں اور صرف ماں سے پیدا کئے گئے اوروہ کھاتے پیتے ، سوتے اورجاگتے ، روتے اورتکلیف محسوس کرنے والوں میں سے تھے ، اورالہ ومعبود ان عیوب اورعوارض سے مبرا اورپاک ہوتاہے تو وہ کیسے الہ اور معبود ہوسکتے ہیں ۔بلکہ وہ اللہ تعالی کے بندے اوراس کے رسول ہیں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:مسیح بن مریم رسول ہونے کے علاوہ کچھ بھی نہیں اس سے پہلےبھی بہت سے رسول گزر چکے ہیں ان کی والدہ ایک سچی عورت تھی ، دونوں ماں بیٹا کھانا کھایا کرتے تھے ، آپ دیکھئے کہ کس طرح ہم ان کے سامنے دلیلیں رکھتے ہیں ،پھر غور کریں کہ کس طرح وہ پھرے جارہے ہیں( المائدۃ : 75)۔

دینِ مسیح ميں تحریف

یہودیوں ، عیسائیوں اورصلیبیوں اوران کے پیروکاروں نے دین مسیح کو بگاڑ دیا اور اس میں تحریف کرڈالی اورتبدیلی کر لی ، اللہ تعالی کی ان پر لعنت ہو وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی نے اپنے بیٹے مسیح علیہ السلام کوبشریت و انسانیت پرفداء ہونے کے لئے قتل اور سولی کے لئے پیش کر دیا ہے ، تو اب کسی کے لئے بھی کوئ کسی قسم کا حرج نہیں جو چاہے وہ کرتا پھرے عیسی علیہ السلام اس کے سارے گناہ اٹھالیں گے ،اور انہوں نے اسے عیسائیوں کے ہرفرقہ میں پھیلا دیا ہے حتی کہ یہ عقیدے کاایک جزء لا ینفک بنا لیا ہے ، تو یہ سب کا سب باطل اورکذب وافتراء پر مبنی ہے ، اور اللہ تعالی پر افتراء اور ایسا قول ہے جو بغیرعلم کے کہا گیا ہے ، بلکہ معاملہ تو یہ ہے کہ ہر ایک نفس جو کچھ کرتا ہے اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا وہ اس کے بدلے میں رہین ہے ۔

اور پھر بات یہ ہے کہ اگر لوگوں کے لئے کوئی منھج اور دستوراور ایسی حدود وقیود اورضابطے نہ ہو جس پر چل کراور عمل کر کے وہ زندگی گزاريں تو ان کی زندگی ہی نہیں سدھر سکتی اورنہ ہی وہ صراط مستقیم پر چل سکتے ہیں ۔

کس طرح وہ اللہ تعالی پر جھوٹ اور افتراء باندھ رہے ہیں اوراللہ تعالی کے ذمہ ناحق بات لگارہے ہیں ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:ان لوگوں کیلئے ویل و ہلاکت ہے جو اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئ کتاب کو کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، اور اس طرح وہ دنیا کامال کماتے ہیں ، ان کے ہاتھوں کی لکھائی اور ان کی کمائی کیلئے بھی ویل وہلاکت و افسوس ہے (البقرۃ : 79)

عیسائیوں سے اللہ تعالی کا عہد

اللہ تعالی نے عیسائیوں سے عیسی علیہ السلام کے متعلق عہد لیا تھا کہ وہ ان پر ایمان لائیں اور جو وہ لائیں گے اس پر عمل کریں گئے ، لیکن انہوں نے اسے تبدیل کردیا اوراس میں تحریف کرڈالی اور اختلاف کرنے کے اس سے اعراض کرلیا ۔تو اللہ عزوجل نے اس کے بدلے میں انہیں بطور سزادنیا کے اندر ان میں بغض و عداوت ڈال دی اور آخرت میں عذاب ہوگا ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:اور جواپنے آپ کونصرانی کہتے ہیں ہم نے ان سے بھی عہدو پیمان لیا ، انہوں نے بھی جوانہیں نصیحت کی گئ تھی اس کا بڑا حصہ فراموش کردیا ،تو ہم نے بھی ان کی آپس میں دشمنی و بغض وعداوت ڈال دی جو کہ تاقیامت رہے گی اور جو کچھ یہ کرتے تھے عنقریب اللہ تعالی انہیں وہ سب کچھ بتا دے گا جو یہ کرتے تھے ا(لمائدۃ : 14)

قیامت کے دن عیسائیوں کی اپنے عقائد پر ندامت

عیسی علیہ السلام روز قیامت اللہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہونگے تو ان سے اللہ عزوجل سب کےسامنے سوال کرے گا کہ انہوں نے بنو اسرائیل کوکیا کہا تھا ؟اللہ تبارک وتعالی اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ اللہ تعالی فرمائے گا کہ اے عیسی بن مریم ! کیا تو نے ان لوگوں کو یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو بھی اللہ تعالی کے علاوہ معبود بنا لو؟ عیسی علیہ السلام عرض کریں گے اے اللہ تو ان عیوب سے مبرا اور پاک ہے ، مجھے یہ بات کسی طرح بھی زیبا نہیں دیتی کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئ حق ہی حاصل نہیں ، اگر میں نے یہ بات کہی ہوگی تو تجھے اس کا علم ہوگا ، تو تو میرے دل کے اندر کی بات بھی جانتا ہے اور میں تیرے نفس میں جو کچھ ہےاس کو نہیں جانتا بے شک تو ہی تمام غیبوں کو جاننے والا ہے ۔میں نے تو ان سے اور کچھ نہیں کہا مگر صرف وہی بات جس کاتونے حکم دیا تھا کہ انہیں کہہ دو کہ تم اللہ تعالی کی بندگی اختیار کرو ، جوکہ میرا اورتمہارا بھی رب ہے ، میں تو ان پر اس وقت تک گواہ رہا جب تک میں ان میں تھا ، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر مطلع رہا ، اور تو ہر چیز کی پوری خبر رکھتا ہے ۔اگر تو ان کوسزا دے تویہ تیرے بندے ہیں اوراگر تو ان کو معاف فرمادے تو تو زبردست اور حکمت والا ہے (المائدۃ : 116 – 118)

نصاری اہل ایمان کی دوستی کے قريب

اللہ تعالی نے عیسی علیہ السلام کے پیروکاروں اور مومنوں میں نرمی اوررحمت پیدا فرما دی ہے ، اور وہ محمد ﷺ کے پیروکاروں کی محبت کے قریب ترین ہیں جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:یقینا آپ ایمان والوں کا سب سے زیادہ اوربڑا دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پا‏ئیں گے ، اور ایمان والوں سے سب سے زیادہ دوستی کے قریب یقینا انہیں پا‏ئیں گے جو اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ، یہ سب اس لئے ہے کہ ان میں علماء اور عبادت کے گوشہ نشین افرد پائے جاتے ہیں ، اور اس وجہ سے کہ وہ تکبر نہيں کرتے (المائدۃ: 82) ۔عیسی علیہ السلام بنی اسرا‏ئیل کے آخری نبی ہیں ، پھر اس کے بعد اللہ تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے سب لوگوں کیلئے مبعوث فرمایا، اور وہ انبیاء و رسولوں میں سے آخری ہیں ۔
.
عیسی عليہ السلام كى طرف سے محمد ﷺ کی پیش گوئی

عیسی علیہ السلام نے یہ خوشخبری بھی دی کہ وہ ان کے بعد اللہ تعالی کی طرف سے ایک رسول آئے گا جس کا نام احمد ہوگا اور وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:اورجب عیسی بن مریم علیہ السلام نے نے کہا ( اے میری قوم ) بنی اسرائیل میں تم سب کی طرف اللہ تعالی کا رسول ہوں میں اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اورميں اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے ، پھر جب وہ انکے پاس کھلی اور واضح دلیلیں لائے تو وہ یہ کہنے لگے یہ تو کھلا جادو ہے (الصف : 6)

تمام مخلوقات پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت

مومن سب رسولوں اور انبیاء اور ان کتابوں کی جو یہ اللہ کے بندوں رسولوں اور انبیاء پر نازل ہوئی ہیں تصدیق کرتے اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے کہ کس پر ایمان لائیں اور کس کے ساتھ کفر کریں ۔ بلکہ ان کے نزدیک سب کے سب سچے نیک اور رشد وہدایت پر اور خیر کی راہ دکھانے والے ہیں اگرچہ ان میں سے بعض بعض کی شریعت کو منسوخ کرتے ہیں حتی کہ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت نے پہلی شریعتوں کو منسوخ کر دیا جو کہ خاتم الانبیاء اور رسل ہیں اور ان کی شریعت پر ہی قیامت قائم ہو گی ۔(تفسیر ابن کثیر :1/ 736)۔

فرمان باری تعالی ہے: یہ رسول ہیں جن میں سے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے ان میں سے بعض وہ ہیں جن سے اللہ تعالی نے بات چیت کی ہے اور بعض کے درجات کو بلند کیا ہے ( البقرہ: 253) اللہ تعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وہ درجات میں ایک دوسرے سے اوپر ہیں اسی لئے رسولوں میں جنہیں چنا گیا وہ اولو العزم رسول ہیں ۔ فرمان باری تعالی ہے: جب ہم نے تمام انبیاء سے عہد لیا اور (خاص طور پر) آپ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسی اور ابن مریم سے اور ہم نے ان سے پکا اور پختہ عہد لیا ( الاحزاب : 7)

ان سب میں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم افضل ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ معراج کی رات آپ نے ان کی امامت کروائی تو امامت میں اسے آگے کیا جاتا ہے جو کہ افضل ہو ۔ اسی طرح ان کے افضل ہونے کی دلیل میں یہ حدیث بھی ہے:ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش ہی قبول ہو گی( صحیح مسلم : 4223)

امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے شرح مسلم میں اس کی شرح کرتے ہوئے کہا ہے:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان:قیامت کے دن میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش ہی قبول ہو گی۔

ہروی کا قول ہے: سردار وہ ہوتا ہے جو کہ اپنی قوم پر خیر وبھلائی میں ان سے بڑھ کر ہو اور اس کے علاوہ دوسرے کہتے ہیں کہ : سردار وہ ہوتا جو تکالیف اور سختیوں کے وقت جس کے ہاں پناہ لی جائے تو وہ ان کے معاملات کا اہتمام کرتا ہوا ان سے تکلیف کو دور کرے ۔

یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے باقی مخلوق پر افضل ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ متقی اور مطیع آدمی فرشتوں سے افضل ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم آدمیوں وغیرہ میں سے سب سے افضل ہیں ۔

محمد ﷺ کے بعض فضائل

محمد ﷺ کے بہت سے فضائل ہیں جن کی بنا پر انہیں دوسرے رسولوں پر فضیلت حاصل ہے وہ بہت ہیں جن میں کہ بعض يہ ہیں:
(1)اللہ تعالی نے ان پر نازل کردہ قرآن کی حفاظت کو خصوصیت سے نوازا ہے جو دوسری کتابوں کو نہیں ملی – فرمان باری تعالی ہے:ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں( الحجر :9) لیکن دوسری کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری جن کی طرف نازل کی گئی تھیں لگائی ۔ ارشاد باری تعالی ہے:ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت ونور ہے یہودیوں میں اسی تورات کے ساتھ اللہ تعالی کے ماننے والے انبیاء (علیہم السلام ) اور اہل اللہ اور علماء فیصلے کرتے تھے کیونکہ انہیں اللہ کی اس کتاب کی حفاظت کا حکم دیا گیا تھا اور وہ اس پر اقراری گواہ تھے ( المائدہ : 44)۔

(2)اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء والمرسلین ہیں: فرمان باری تعالی ہے:محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں ( الاحزاب :40)۔

(3)محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہ سب لوگوں کی طرف عام ہیں:ارشاد باری تعالی ہے:بہت بابرکت ہے وہ اللہ تعالی جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تا کہ وہ تمام جہانوں کے لۓڈرانے والا بن جائے ( الفرقان : 1)۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آخرت میں خصوصیا

(1)وہ قیامت کے دن مقام محمود پر فائز ہوں گے، فرمان باری تعالی ہے:رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ آپ کے لئے عطیہ ہے عنقریب آپ کو آپ کا رب مقام محمود پر کھڑا کرے گا( الاسراء : 79) ابن جریر کا قول ہے اکثر اہل تاویل کا قول ہے یہی وہ مقام ہے جس پر نبی ﷺ فائز ہو کر قیامت کے دن لوگوں کے لئے سفارش کريں گے تا کہ انہیں ان کا رب اس دن کی شدت اور تکلیف سے راحت دلائے جس میں ہوں گے ( تفسیر ابن کثیر 5: 103)۔

(2)قیامت کے دن مخلوق کے سردار ہوں گے : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن میں آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر شق ہو گی اور سب سے پہلے میں ہی سفارش کروں گا اور سب سے پہلے میری سفارش ہی قبول ہو گی( صحیح مسلم : 4223 )۔

(3)نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے ساتھ سب سے پہلے پل صراط عبور کریں گے : ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ:رسولوں میں سب سے پہلے میں اپنی امت کے ساتھ پل صراط عبور کروں گا ۔(صحىح بخارى: 806)۔

(4)اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی افضلیت پر واضح اور صریح دلیل یہ ہے کہ باقی سب نبی سفارش نہیں کریں گے اور ہر ایک لوگوں کو دوسرے کے پاس بھیج دے گا حتی کہ عیسی علیہ السلام انہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیں گے تو نبی فرمائیں گے میں تو آپﷺ آگے بڑھ کر سب لوگوں کی سفارش کریں گے تو اس پر سب پہلے اور آخری انبیاء اور ساری مخلوق ان کی تعریف کرے گی ۔

اس کے علاوہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائص بہت ہیں جن کا کامل ذکر یہاں طول اختیار کر جائگا۔

اور دیکھیے

اللہ، رسول، آخری رسول، محمد ﷺ، موسی عليہ السلام وغیرہ۔

حوالہ جات

اصول الدین الاسلامی : شیخ محمد بن ابراہیم التویجری
خصائص المصطفی ﷺ بین الغلو والجفاء : الصادق بن محمد بن ابراہیم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.