554

فکر صحیح سے محرومی عذابِ الٰہی و قہر خداوندی

ہم میں سے ہر شخص عالمی سطح پر مسلمانوں کی زبوں حالی اور بے وقار زندگی کے بارے میں فکرمند ہے۔ تعلیمی انحطاط اور معاشی پستی نے مسلمانوں کو انسانی سماج کی نظروں سے گرادیا ہے۔ وہ اپنے ہم زمانہ افراد کے ساتھ شانہ بہ شانہ چلنے کے اہل نہیں رہے۔ غیر مسلم، مسلمانوں کی ہم نشینی پر فخر کرنا تو درکنار، انھیں اپنی محفل میں عزت و احترام دینے تیار نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ نامور مسلمانوں نے اپنے علم، ہنر، فن، صلاحیت اور قابلیت کا لوہا منوایا ہے اور اپنے شعبہ میں امتیازی مقام بھی رکھتے ہیں، مگر ایسے افراد کی تعداد معدودے چند ہے۔
پستی کے مختلف اسباب ہیں۔ بنیادی وجہ جس پر تمام مفکرین، دانشور اور عقلاء متفق ہیں کہ مسلمانوں کی تعلیمی پستی اور معاشی انحطاط نے مسلمانوں کو سالہا سال پیچھے چھوڑ دیا، لیکن ان سب میں سب سے اہم و قابل ذکر بات یہ ہے کہ آج مسلمان فکر صحیح سے محروم ہوگئے ہیں، مقصد سے غافل ہوگئے، خواب و خیال میں کھوگئے، حقیقت سے دُور ہوگئے اور لایعنی و جزئیات میں مشغول ہوگئے۔ یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ اُمتِ مسلمہ اجتماعی عذاب سے محفوظ ہے، جس طرح سابقہ اُمتیں اپنی نافرمانی و سرکشی کی بناء پر خدا کے ہولناک عذاب کے حقدار ہوئے، آن واحد میں تباہ و تاراج ہوگئے، صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان مٹ گیا اور تاقیامت وہ عبرت کا نشان بن گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی اس عالمگیر اُمت کو اس طرح کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ ظاہری طور پر یہ اُمت کسی عذاب و قہر میں مبتلا ہوکر آن واحد میں مٹنے والی نہیں ہے، مگر یہ اُمت معنوی عذاب میں مبتلا ہے۔ نہ جانے کونسی غلطی سرزد ہوئی جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو فکر صحیح کی عظیم نعمت سے محروم کردیا۔
یہ اُمت اس بے یار و مددگار مسافر کی مانند ہے جس کو اپنی منزل کا پتہ نہیں، اس کو اپنے سفر کا مقصد معلوم نہیں، اس کا کوئی رہنما نہیں، جو اس کی بروقت دستگیری کرسکے۔ وہ نامعلوم منزل کی طرف اپنے قدم بڑھائے جارہا ہے، زادراہ اس کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اس کے اس بے مقصد و غیر متعین سفر حیات میں جب بھی وہ کسی آبادی و کمیونیٹی سے گزرتا ہے، اس مسافر کی حالتِ زار پر ترس کھاکر اس آبادی کے لوگ اس پر نوازش کرتے ہیں اور وہ اسی نوازش پر خوش و خرم ہوکر خدا کا شکر بجالاتا ہے اور غیب سے رزق فراہم کئے جانے پر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے۔ ’’ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ‘‘۔ (جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اس کے لئے کافی ہوجاتا ہے)۔ ’’ویرزقہ من حیث لایحتسب‘‘۔ (اور وہ ایسے مقام سے رزق عطا کرتا ہے، جہاں اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا)۔ (سورۃ الطلاق: ۳)۔
اے مسلمان! تو اپنی حقیقت کو بھول گیا، اپنے مقصد حیات کو فراموش کردیا، وجہ تخلیق سے بے خبر ہوگیا۔ تو انسان ہے، لیکن عام انسانوں کی طرح نہیں، تیری شان الگ، تیری پہچان منفرد، تیری رفتار سب سے ممتاز، تیری پرواز سب سے بلند، تیرا مقصد سب سے اُونچا، تیری منزل سب سے اعلیٰ ہے۔ تو باز ہے، جس کی پرواز عام پروازوں سے بلند ہے۔ تو شاہین ہے، تیرا آشیانہ سب سے اُونچا ہے۔ تو مشک ہے، جو عام خوشبوؤں سے ممتاز ہے۔ تو صحرا کا شیر ہے، جو جھوٹے شکار کی طرف نظر نہیں دوڑاتا۔ تو یاقوت ہے، عام پتھر تیرے جیسے نہیں ہوسکتے۔
اِسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے لئے ایک عظیم لائحہ عمل کی ضرورت ہے، جس کی بنیاد ان ہی اُصولوں پر ہونی چاہئے، جن اُصولوں پر اِسلام کا آغاز ہوا تھا۔ اِسلام کی ابتداء اور اس کی ترقی پر غور و فکر کرتے ہوئے مستقبل کی زندگی کے لئے ایک عظیم و جامع پلان ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھئے، اِسلام نے ساری خرابیوں کو دُور کرنے، فتنہ و فساد، شر و طغیان، ظلم و زیادتی کے خاتمہ کے لئے اور دُنیا میں ترقی و تقدم، کامیابی و کامرانی، حکمرانی و جہانبانی کے لئے ایک ہی نسخہ کیمیاء بیان کیا ہے۔ اسی کو اختیار کرکے انسان اس دُنیا میں ترقی کی راہوں پر گامزن ہوسکتا ہے، اپنے عزائم و مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے۔ اس نسخہ کیمیاء کو نظر انداز کردے تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت و قوت اس کو انحطاط و تنزل کے دلدل سے نکال نہیں سکتی۔ وہ نسخہ کیمیاء حیات نو کی پہلی کرن ہے۔ قحط زدہ، خشک و خاردار سرزمین پر بارش کی پہلی بوند ہے، ڈوبتی انسانیت کے لئے پہلا اور آخری سہارا ہے، اُجڑے ہوئے گلستاں میں تجدید حیات کی پہلی اُمید ہے۔ وہ درحقیقت خدا کا پہلا پیغام ہے جو مُردہ انسانیت کی ہر سطح پر فلاح و بہبود کے لئے بھیجا گیا۔ وہ پہلی وحی ہے جو اس دُنیا کو قعر مذلت سے نکال کر مقصدِ حیات پر گامزن کرنے والی عظیم معجزاتی، محیر العقول جامع ہستی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔ ’’پڑھئے اپنے رب کے نام سے، جس نے (کائنات کو) پیدا کیا، جس نے انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھئے، آپ کا رب نہایت مہربان ہے، جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی، انسان کو وہ علم عطا کیا کہ جس سے وہ ناواقف تھا‘‘۔ (سورۃ العلق)
پڑھائی کو رب کے نام سے جوڑکر خالق و مخلوق، عابد و معبود کے باہمی حقیقی ربط و تعلق کو قائم کرنے پر تلقین کی گئی اور بتایا گیا کہ پڑھائی ہی رب کی معرفت کا ایک عظیم ذریعہ ہے۔ یہی ربط و تعلق ہی خلاصۂ کائنات اور فلسفۂ حیات ہے۔ پھر انسان کی گوشت کے لوتھڑے سے تخلیق کی طرف اِشارہ کرکے اپنی ذات میں غیر محسوس پیوست و پوشیدہ خدا کی عظیم نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دی گئی، جس سے خود بخود آفاق کائنات میں اللہ کی واضح و نمایاں آیات و نشانیوں پر غور و فکر کرنے کا اِشارہ ملتا ہے۔ پھر مزید پڑھنے کا حکم دے کر ضروری و بنیادی تعلیم کے ساتھ مزید اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی۔ ’’وربک الاکرم‘‘ کے ذریعہ یہ پیغام بھی دے دیا کہ تعلیم حاصل کرو، پھر تم رب کی نوازشات، مراحم خسروانہ، احسانات، فضل و کرم کی برسات کے جلوے اپنی زندگی میں پاؤگے۔ خصوصیت کے ساتھ قلم کے ذریعہ تعلیم دینے کی اپنی بیش بہا نعمت کا ذکر کرکے یہ واضح کردیا کہ کوئی ملک و قوم طاقت و قوت کے ذریعہ بام عروج پر نہیں پہنچ سکتی، ترقی کا زینہ صرف اور صرف علم اور قلم ہے۔
حالات کسی قدر کشیدہ و پریشان کن کیوں نہ ہوں، تلوار اُٹھانے سے زیادہ کارگر قلم کا صحیح استعمال ہے۔ ’’علم الانسان مالم یعلم‘‘ (انسان کو وہ علم سکھایا، جس سے وہ نابلد تھا) کے ذریعہ ابتداء تا انتہا تحصیل علم پر زور دیا۔ یہ فکر دی کہ دُنیا میں اگر کوئی چیز حاصل کرنے یا کسب کے قابل ہے تو وہ صرف علم ہے۔ لوگ مال و دولت، جاہ و حشمت، شہرت و منصب کے حصول کے لئے کدو کاوش کرتے ہیں۔ حقیقت میں کدو کاوش علم جیسی عظیم نعمت کے حصول کے لئے ہونی چاہئے۔ پھر علم کی روشنی اُس کے سینے میں گھر کر جاتی ہے تو نہ صرف اُس روشنی سے اُس کے ذہن و دماغ اور قلب و نگاہ روشن و منور ہوتے ہیں بلکہ اس سے اس کے اخلاق و کردار بھی سنورتے ہیں اور اس روشنی سے اس کا گھر، خاندان، قبیلہ اور دیگر افراد کی زندگی میں روشنی کے چراغ جلتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو علم، دولت اور حکومت میں اختیار دیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام کی حقیقت شناس نگاہوں نے علم کو چن لیا۔ آپ کی دُوربینی و حقیقت آگاہی نے دولت اور اقتدار پر علم و حکمت کو ترجیح دی، جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انھیں ساری دُنیا کی بادشاہت سے سرفراز فرمایا اور ساری زمین کے خزانے عطا کردےئے۔
آج اکثر و بیشتر ماں باپ اپنی اولاد کو کسی اسکول یا مدرسہ میں شریک کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت سے عہدہ برآ ہوگئے۔ بچہ تو بچہ ہے، والدین کو بھی معلوم نہیں کہ بچے کی منزل کیا ہے، اس کو کس راستے پر گامزن کرنا ہے، اس کی فطری صلاحیتوں کو کیسے اُجاگر کرنا ہے، اس کے طبعی رجحان و میلان کو دیکھتے ہوئے اس کے لئے کس شعبۂ حیات کا انتخاب کرنا ہے اور کس طریقے سے اس کی شخصیت کی تعمیر کرنا ہے۔ ماں باپ اور سرپرستوں کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف سنجیدگی سے متوجہ ہوجائیں۔ ماں باپ کی حقیقی کامیابی و کامرانی یہی ہے کہ ان کی اولاد اس دُنیا میں بھی کامیابی کی منازل طئے کرے اور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حقدار ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.