132

ماہِ رمضان تزکیہ نفس اور اصلاح کردار کا مہینہ

عرض ناشر: ماہِ رمضان ”شہراللہ“ یعنی اللہ کا مہینہ ہے، اس مہینے میں خدا کی طرف سے برکتوں، رحمتوں اوربخششوں کا نزول ہوتا ہےیہی وہ مہینہ ہے جس میںاللہ رب العزت کی طرف سے اپنے بندوں کومعنوی نعمات سے فیضیاب ہونے اوران سے استفادے کی کھلی دعوت دی جاتی ہے۔

خدا کی جانب توجہ، اعمالِ صالحہ کی جانب رجحان اور روزے کی فرضیت کی بنا پر یہ مہینہ تزکیہ و تہذیب ِ نفس اور گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کا مہینہ ہے۔

احادیث و روایات میں اس مہینے کو قرآن کی بہار قرار دیا گیا ہےلوگ اس مہینے میں قرآن کی جانب متوجہ ہوتے ہیںسال کے دوسرے دنوں کے مقابلے میں ماہِ رمضان کے ایام میں قرائت ِ قرآن کا زیادہ اہتمام ہوتا ہے۔

پھر اس مہینے میںروزے فرض کر کے، اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو مزید امتیاز دیا ہے اوردوسرے اسباب کے ساتھ ساتھ تزکیہ نفس، روحانی بالیدگی اورمعنوی پاکیزگی کیلئے روزے کی صورت میں ایک اور جامع دستور ِعمل فراہم کیا ہے۔

زیرِ نظر کتاب، ماہِ رمضان کی فضیلت واہمیت، اس مہینے میں قرآنِ کریم سے اُنس و رغبت، دعا و مناجات اور روزے کی حکمت کے بارے میں مختصر اور جامع مضامین پر مشتمل ہےاس کتاب میں حجت الاسلام محمد محمدی اشتہاردی اور حجت الاسلام حسین سوری لکی کے مضامین سے استفادہ کیا گیا ہے۔

امید ہے نوجوان طلبا وطالبات ان مضامین سے مستفید ہوں گے۔

ہمیں اپنی کارکردگی جانچنے اور اس میں بہتری کیلئے اپنے قارئین کی طرف سے بے لاگ تبصروں کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔
ماہِ رمضان کی فضیلت واہمیت
زیرِ نظرمضمون میں ہم دوسرے مہینوں پر ماہ ِرمضان کی فضیلت و برتری کے بارے میں کچھ گفتگو کرنا چاہتے ہیںتاکہ اس مہینے کی معرفت اوراس کی بصیرت کے ساتھ اس کا استقبال کریں اور اس سے مستفید ہوںامام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی ایک دعا میں اللہ رب العزت سے درخواست کی ہے کہ وہ انہیںماہِ رمضان کی فضیلتوں سے آگاہ فرمائےآپ ؑ فرماتے ہیں :

اَللّٰهُمَّ صَلِّی عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَأَلْهِمْنٰا مَعْرِفَةَ فَضْلِهِ وَاِجْلاٰلَ حُرْمَتِهِ وَ التَّحَفُّظَ مِمّٰا حَظَرْتَ فیهِ

بارِ الٰہا! محمد اور آلِ محمدپر رحمت نازل فرما اور ہمیں اس مہینے کی فضیلت و برتری جاننے، اس کی عزت و حرمت کو ملحوظ رکھنے اور جن چیزوں سے اس مہینے میں تو نے منع کیا ہے، ان سے اجتناب کی ہدایت فرما(صحیفہ سجادیہ۔ دعا نمبر۴۴)

۱:لفظ رمضان کے معنی

۲:اسلام سے پہلے ماہِ رمضان کا مقام

۳:رمضان، ماہِ نزولِ قرآن

۴:ماہِ رمضان میں شب ِ قدر کا وجود

۵:خدا کا مہینہ اور شفاعت کرنے والا مہینہ

۶:ماہِ رمضان کا مخصوص تقدس

۷:احادیث کی رو سے ماہِ رمضان کی فضیلت
لفظ رمضان کے معنی
عربی لغت کے ماہرین کی تشریحات کے مطابق ”رمضان“ لفظ ”رمض“ سے لیا گیا ہے اور انہوں نے ”رمض“ کے معنی بیان کرتے ہوئے دو مفاہیم کا تذکرہ کیا ہے۔

۱:-”العین“ نامی عربی لغت کے مئولف خلیل بن احمد کے بقول: ”رمض“ کے معنی موسمِ خزاں میں ہونے والی بارش ہے، جو سطح زمین سے گردوغبار اور گندگی کو دھو ڈالتی ہے۔

اس بنیاد پر، اس مہینے کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ انسان کی روح کو اور اس کے نفس کو آلودگیوں اور نجاستوں سے صاف اور پاک کردیتا ہے۔

۲:-طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں اور احمد بن محمد نے ”مصباح المنیر“ میں لفظ رمضان کو ”رمض“ اور ”رمضا“ سے ماخوذ قرار دیا ہےجس کے معنی وہ گرم اور سلگتی ہوئی ریت اور پتھر ہیں جو سورج کی براہِ راست تپش سے جھلسنے لگتے ہیں۔

طریحی نے ”مجمع البحرین“ میں کہا ہے کہ: رَمَضَتْ قَدَمُهُ بِالْحرّ، اُحْتِرُقَتْ (رَمَضَتْ قَدَمُهُ یعنی اس کے پائوں جل گئے)

لہٰذا اس ماہِ مبارک کو رمضان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ اپنی خصوصیات کی وجہ سے گناہ اور گمراہیوں کے اسباب ختم کرکے، انسان کے راستے سے کمال کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتا ہے، اور اس کے اخلاق کی اصلاح اور پاکیزگی کیلئے مواقع فراہم کرتا ہے۔

”زمخشری“ کہتے ہیں کہ: اس ماہ کو رمضان اس لئے کہا گیا ہے کہ اس مہینے میں گناہ جل کرختم ہوجاتے ہیں(تفسیر کشاف سورہ بقرہ کی آیت ۱۵۸ کی تفسیر میں)

جبکہ کچھ احادیث کے مطابق ”رمضان“ خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہےسعد بن طریف کہتے ہیں: ہم سترہ افراد، امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں موجود تھےاس محفل میں رمضان کا ذکر چھڑ گیا، امام ؑنے فرمایا:

لاٰ تَقوُلوُ هذٰا رَمضٰانٌ، وَلاٰ ذَهَبَ رَمَضٰانٌ، وَلاٰ جٰاءَ رَمَضٰانُ، فَاِنَّ رَمَضٰانَ اِسْمٌ مِنْ أَسْمٰائِ اللّٰهِ عَزَّوَ جَلَّ لاٰ یَجِیی ءْوَلاٰ یَذْهَبُ

یہ نہ کہا کروکہ یہ رمضان ہے اور رمضان گیا، رمضان آیا، کیونکہ رمضان اللہ رب العزت کے ناموں میں سے ایک نام ہےجس کا آنے اور جانے (اور تغیر و تبدل) سے کوئی تعلق نہیں پھر فرمایاکہا کرو کہ: ماہ ِرمضان( فروع کافی ج ۴۔ ص ۶۹ اور۷۰)

دوسری متعدد احادیث میں بھی ماہ ِرمضان کو ”شہر اللّٰہ“ کہا گیا ہے۔

اس طرح یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ دوسرے مہینوں پراس مہینے کی خاص ظاہری اور باطنی فضیلت کی وجہ سے اسے ”رمضان“ کا نام دیا گیا ہےیہ مہینہ گناہ کے اسباب و عوامل کے خاتمے اور ان سے چھٹکارے کا مہینہ ہےاس سے بھی بڑھ کر یہ کہ یہ ”شہر اللّٰہ“ (اللہ کا مہینہ) ہےوہ مہینہ جسے خدا وندِ عالم نے اپنے آپ سے نسبت دی ہے اور اسے اپنا نام دیا ہے۔
۲۔ اسلام سے پہلے ماہِ رمضان کا مقام
اس مہینے کو صر ف اسلام میں اور بعثت نبویؐ کے بعد ہی فضیلت و برتری حاصل نہیں ہوئیبلکہ اسلام سے پہلے بھی یہ اسی حیثیت کا حامل تھازمانی لحاظ سے اس مہینے کی ایک فضیلت یہ ہے کہ تمام آسمانی کتب اسی مہینے میں انبیا پر نازل ہوئیںاس بارے میں امام جعفرصادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:

نَزَلَتِ التَّوْراٰةُفی سِتِّ مَضَیْنَ مِنْ شَهرِ رَمَضٰانَ، وَ نَزَلَ الإنْجیلُ فی اِثْنَتیٰ عَشَرَةَ مَضَتْ مِنْ شَهرِ رَمَضٰان، وَ نَزَلَ الزَّبُورُ فی ثَمٰانِیَ عَشَرَ مَضَتْ مِنْ شَهرِ رَمَضٰان، وَ نَزَلَ الْفُرقٰانُ فی لَیْلَةِ الْقَدْرِ

تورات ماہ ِرمضان کی چھے تاریخ کو نازل ہوئی، انجیل ماہ ِرمضان کی بارہ تاریخ کو نازل ہوئی، زبور ماہِ رمضان کی اٹھارہ تاریخ کو نازل ہوئی اور قرآن مجید شب ِ قدر میں نازل ہوا(بحار الانوار۔ ج۱۲۔ ص۷۵)

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ارشاد ہے کہ:صحف ِابراہیم (علیہ السلام) ماہِ رمضان کی پہلی رات کو نازل ہوا تھا(وسائل الشیعہ ج۷۔ ص۲۲۵)

اسلام سے پیشتر بھی، ماہِ رمضان کی فضیلت و بزرگی کی ایک اور دلیل یہ ہے کہ رسول کریمؐ اپنی بعثت سے قبل بھی ماہ ِرمضان کا خاص احترام کیا کرتے تھے، اس کے خاص تقدس کے قائل تھےآپؐ ہر سال ماہ ِمبارک رمضان میں کوہ ِحرا کی چوٹی پر تشریف لے جاتے، وہاں غارِ حرا میں معتکف ہو کر عبادتِ الٰہی انجام دیتے، اس مہینے کے اختتام پر کوہ ِحرا سے اتر کر سب سے پہلے ”بیت اللہ“ جاتے، سات مرتبہ اس کے گرد چکر لگاتے، اور اس کے بعد اپنے درِ دولت واپس تشریف لاتے(سیرۃ ابن ہشام۔ ج ۱۔ ص ۲۵۱، ۲۵۲)

رسولِ کریمؐ ماہ ِرمضان کے علاوہ کسی اور مہینے میں بھی عبادت کیلئے کوہِ حراپر تشریف لے جاسکتے تھےآخر کیا وجہ تھی کہ آپؐ نے اس مقصد کے لئے ماہ ِرمضان ہی کا انتخاب کیا؟ آنحضرت ؐ کا ماہ ِرمضان کو منتخب کرنا، یقیناً دوسرے مہینوں پر اس ماہ کے خصوصی امتیاز کا اظہار ہے۔
۳۔ رمضان، ماہِ نزولِ قرآن
ماہِ رمضان کے سوا سال کے کسی اور مہینے کا نام قرآنِ مجید میں نہیں آیا ہےقرآنِ کریم میں اس مہینے کا ”نزولِ قرآن“ کے مہینے کے طور پر ذکر کیا گیا ہےسورہ بقرہ کی آیت نمبر ۱۸۵میں ارشادِ الٰہی ہے کہ :

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ، فَمَنْ شَهِدَ مِنْکُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ

ماہ ِرمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے، جو لوگوںکے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیںلہٰذا جوشخص اس مہینے کو پائے، اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے۔

مذکورہ بالا آیت کے علاوہ بھی قرآنِ مجید میں اور متعدد آیات موجود ہیں، جو ماہِ رمضان اور شب ِ قدر میں نزولِ قرآن پر دلالت کرتی ہیںجیسے سورہ قدر کی پہلی آیت اور سورہ ٔدخان کی تیسری آیت۔

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیْلَة الْقَدْرِ

بے شک ہم نے اسے (یعنی قرآن ِمجید کو) شب ِ قدر میںنازل کیا ہے(سورہ قدر۹۷۔ آیت۱)

اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ فِیْ لَیلٍَ مُّبٰرَکٍَ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ

ہم نے اس (قرآن) کو ایک مبارک رات میں نازل کیا ہے، ہم بے شک عذاب سے ڈرانے والے تھے(سورہ ٔدخان۴۴آیت۳)

ان آیاتِ قرآنی سے بخوبی یہ بات روشن ہے کہ قرآنِ مجید، پیغمبر اسلامؐ پرماہِ مبارک رمضان میں نازل ہوا ہےالبتہ اس مہینے میں آنحضرتؐ پر نزولِ قرآن کی کیفیت کیا تھی؟ اس بار ے میں ایک علیحدہ گفتگو کی ضرورت ہے، جس کا یہاں موقع نہیں۔

لہٰذا ماہ ِرمضان میں قرآنِ مجید کا نازل ہونا، اس مہینے کی فضیلت اور بزرگی پرایک اور دلیل ہےقرآنِ مجید جو حق اور باطل کو واضح کرتا ہے، جو تزکیہ و تعلیم کاذریعہ اور انسان کے رشد و کمال کا موجب ہے۔
۴۔ماہ ِرمضان میں شب ِقدر کا وجود
دوسرے تمام مہینوں پر ماہِ رمضان کی فضیلت اور بزرگی کی ایک علامت یہ ہے کہ شب ِ قدر اسی مہینے میں ہے، وہ رات جس کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے کہ:

لَیْلَُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْر

شب ِقدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے(سورہ قدر ۹۷آیت۳)

ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا: اس سے کیا مراد ہے کہ: شب ِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے؟ امام ؑنے جواب دیا: اس سے مراد یہ ہے کہ اس رات میں انجام دیا جانے والا نیک عمل، ایسے ہزار مہینوں میں انجام دیئے جانے والے نیک عمل سے بہتر ہے، جن میں شب ِ قدر نہیں ہوتی(فروع کافی۔ ج ۴ص ۱۵۸)

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ شب ِ قدر، اسلام کے بعد کی تاریخ سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ یہ اسلام سے پہلے بھی موجود تھیجیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے:

کتابِ خدا میں، خدا کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہےآسمانوں اور زمین کی خلقت کے آغاز سے اب تک اورجب مہینوں کاآغاز ہوا اس وقت سے ماہِ رمضان موجود رہا ہے اور قلب ِ ماہِ رمضان شب ِ قدر ہے(وسائل الشیعہ ج۷ص۲۵۸)
۵۔خدا کا مہینہ اور شفاعت کرنے والا مہینہ
احادیث میں پیغمبر اسلامؐ اورائمہ معصومین ؑکی زبانی، ماہ ِرمضان کے لئے متعدد نام ذکر ہوئے ہیںمثلاً ماہ ِتوبہ، ماہ ِمواسات، ماہ ِانابہ، ماہ ِمحوِ سیئات، ماہ ِصبر، ماہِ مغفرت، ماہ ِضیافۃاللہ، ماہِ قیام، ماہ ِاسلام، ماہِ طہور، ماہِ تمحیص (ماہ ِتصفیہ)(۱) وغیرہ۔ ۔ لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ مہینہ ”شھر اللّٰہ“ (اللہ کا مہینہ) ہےجیسے کہ پیغمبر اسلام ؐنے خطبہ شعبانیہ کے آغاز میں فرمایا ہے کہ:

اَیُّهَا النّٰاسُ! اِنَّةُ قَدْ اَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَهرُ اللّٰهِ

اے لوگو! بے شک، اللہ کا مہینہ، تمہاری طرف آرہا ہے(عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص ۲۹۵)

یعنی خدا وند ِعالم نے زمانے کے اس حصے کو اپنے آپ سے نسبت دی ہےاور یہی نسبت جسے ”اضافہ تشریفیہ“ کہتے ہیں، ماہِ رمضان کے غیر معمولی شرف اور اسکی منزلت کو نمایاں کرتی ہے۔

ایک اور موضوع قیامت میں ماہِ رمضان کے درخشاں چہرے کے ساتھ ظاہر ہونے کا موضوع ہےماہِ رمضان، میدانِ حشر میں بہترین اورخوشنما ترین صورت میںسامنے آئے گا اور جن لوگوں نے اس کا احترام کیا ہوگا ان کی شفاعت کرے گاخداوندِ عالم اس درخشاں چہرے کو جنتی لباس دے گا، سچے مومن اس کے نزدیک آئیں گے اور دنیا میں جس قدر انہوں نے اس کی اطاعت کی ہوگی ان لباسوں میں سے اسی قدر لباس حاصل کریں گےاور روایات کے الفاظ میں: فَیُشَرِّفُھُمُ اللّٰہُ بِکَراٰماتِہِ (اس طرح خدا وندِعالم اپنی کرامات کے ذریعے انہیں افتخار اور منزلت بخشتا ہےبحار انوارج ۳۷ص۵۳)

۱ان ناموں میں سے بعض کا ذکر صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر ۴۴ میں آیا ہے۔
۶۔ماہِ رمضان کا مخصوص تقدس
دوسرے مہینوں پر ماہِ رمضان کو حاصل مخصوص تقدس کو جو امور واضح کرتے ہیں، ان میں سے ایک امر یہ ہے کہ اس مہینے میں کئے گئے گناہوں کی سزا، دوسرے مہینوں میں کئے گئے گناہوں کی سزا سے کہیں زیادہ شدید ہوگیلہٰذا روایت کی گئی ہے کہ جب حضرت علی ؑکے شیعوں میں سے ”نجاشی“ نام کے ایک شاعر نے ماہ ِرمضان میں شراب پی، تو حضرت علی ؑ نے شراب نوشی کی حد کے طور پرا سے اسی کوڑے لگائےاسکے بعد اسے ایک رات کے لئے قید خانے میں ڈالوایا، اور اگلے دن مزید بیس کوڑے اسے لگائےاس نے عرض کیا: اے امیر المومنین ؑ! آپ نے شراب نوشی کی حد کے طو رپرمجھے اسّی کوڑے مارے، پس اب یہ بیس کوڑے مجھے کیوں مارے گئے ہیں؟

حضرت ؑنے جواب دیا:

هٰذٰا لِتَجَرِّیکَ عَلیٰ شُرْبِ الْخَمْرِ فی شَهرِ رَمضٰان

یہ بیس کوڑے، ماہِ رمضان میں شراب نوشی کی جسارت کی وجہ سے تمہیں مارے گئے ہیں(فروع کافی۔ ج۷ص۲۱۶)
۷۔احادیث کی رو سے ماہ ِرمضان کی فضیلت
پیغمبر اسلامؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے کلام میں، مختلف تعبیروں کے ذریعے ماہِ رمضان کی بزرگی اور فضیلت کو بیان کیا گیا ہےان تعبیروں میں سے ہر تعبیر دوسرے مہینوں پر اس مہینے کی عظمت کی نشاندہی کرتی ہےیہاں آپ کی خدمت میں چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔

۱:- پیغمبر اسلامؐ نے ماہ ِشعبان کے آخری جمعے کو، جبکہ ماہِ رمضان کی آمد آمد تھی، مسجدنبوی میں اس مہینے کی فضیلت اور شان میں ایک خطبہ ارشاد فرمایااس خطبے کے ہر حصے میں ماہِ رمضان کی کسی فضیلت کو بیان کیا گیا ہےکیونکہ یہ کافی طویل خطبہ ہے، اس لئے ہم اس کا صرف ابتدائی حصہ یہاں نقل کر رہے ہیں۔

اَیُّهَا النّٰاسُ اِنَّهُ قَدْ اَقْبَلَ اِلَیْکُمْ شَهرُ اللّٰهِ بِالْبَرَکَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ، شَهرٌ هُوَ عِنْدَاللّٰهِ اَفْضَلُ الشُّهُورِ، اَیّٰامُهُ اَفْضَلُ الاَیّٰامِ، وَلَیاٰلِیهِ اَفْضَلُ اللَّیاٰلِی، وَ ساٰعٰاتُهُ اَفْضَلُ السّٰاعٰاتِ، هُوَ شَهرُدُعِیتُمْ فیهِ اِلیٰ ضِیٰافَةِ اللّٰهِ، وَ جُعِلْتُمْ فیهِ مَنْ اَهلِ کَرَامَةِ اللّٰهِ، اَنْفٰاسُکُمْ فیهِ تَسْبیحٌ، وَنَوْمُکُمْ، فیهِ عِبٰادَةٌ وَ عَمَلُکُمْ فیهِ مَقْبُولٌ، وَ دُعاؤُکُمْ فیهِ مُسْتَجٰابٍ

اے لوگو! بے شک خدا کا مہینہ (ماہ ِرمضان) اپنی برکت، رحمت اور مغفرت لئے، تمہاری طرف رواں دواں ہےیہ مہینہ خدا کے نزدیک بہترین مہینہ ہے، اس کے دن بہترین دن ہیں، اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں، اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیںیہ وہ مہینہ ہے جس میں تمہیں خدا کے یہاں ضیافت پر مدعو کیا گیا ہے اور تم اس مہینے میں خدا کی کرامت کے اہل ہوئے ہو۔

اس مہینے میں تمہاری سانسیں تسبیح کا ثواب رکھتی ہیں اور تمہارا سونا عبادت کا اجر رکھتا ہے، اس مہینے میں تمہارے اعمال درگاہ ِالٰہی میں مقبول اور تمہاری دعائیں قبول ہیں(عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص۲۹۵)

خطبے کے اس حصے میں پایا جانے والا قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ ماہِ رمضان میں مومن انسان کا سانس لینا بھی خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتا ہےحالانکہ سانس کے ذریعے انسانی بدن کے اندر کی آلودہ ہوا خارج ہوتی ہےاگر یہ ہوا خارج نہ ہو تو انسان کا دم گھٹ جائے اور اسکی موت واقع ہوجائےاس کے باوجود یہی سانس ماہ ِرمضان میں خدا کی تسبیح کا ثواب رکھتی ہےاسی طرح یہاںاس مہینے میں انسان کا سونا بھی عبادت قرار دیا گیا ہےجبکہ صورت یہ ہے کہ عبادت کے لئے نیت اور ہوش و حواس کا ہونا ضروری ہے، نیز اسے اختیارکے ساتھ انجام دیا جانا چاہئےجبکہ نیند کے عالم میں نیت، ہوش اور اختیار و ارادے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاپھر بھی ماہِ رمضان میں یہی نیند درگاہ ِالٰہی میں عبادت تسلیم کی جاتی ہے۔

۲:-صحیفہ سجادیہ میں امام زین العابدین علیہ السلام ایک دعا کے ایک حصے میں اس بات کا شکر ادا کرنے کے بعد کہ خداوند ِعالم نے ماہ ِرمضان کو حق تک پہنچنے کا ایک راستہ قرار دیا ہے، فرماتے ہیں:

فَاَبٰانَ فَضِیلَتَهُ عَلیٰ ساٰئِرِ الشُّهُورِ بِماٰ جَعَلَ لَهُ مِنَ الْحُرُماٰتِ الْمَوْفُورَةِ، وَالْفَضاٰئِلِ الْمَشْهُوْرَةِ

چنانچہ (اللہ نے) دوسرے مہینوں پر اس ماہ کی فضیلت اور برتری کو اس کے انتہائی تقدس اور اس کی آشکارا فضیلتوں کی وجہ سے واضح فرمایا(صحیفہ سجادیہدعا ۴۴)

۳:- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک کلام میں فرمایاہے:

مُحَمَّدٌ فی عِباٰدِ اللّٰهِ کَشَهرِ رَمَضاٰن فِی الشُّهُورِ

بندگانِ خدا کے درمیان محمد کی حیثیت ایسی ہی ہے، جیسی مہینوں کے درمیان ماہِ رمضان کی حیثیت( بحار الانوارج۳۷ص۵۳)

۴:- نیز آنحضرت ؐہی کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اِخْتاٰرَ مِنَ الأَیّاٰمِ الْجُمُعَةَ، وَ مِن الشُّهُورِ شَهرَ رَمَضاٰن، وَ مِنَ اللَّیاٰلِی لَیْلَةَ الْقَدْرِ

بے شک خدا نے دنوں میں سے جمعے کے دن کو منتخب کیا ہے، مہینوں میں سے ماہِ رمضان کو چُنا ہے اورشبوں میں سے شب ِ قدر کا انتخاب کیا ہے( بحار الانوار۔ ج ۳۶ص۳۷۲ اور۲۹۶)

۵:-حضرت سلمان فارسیؓ کہتے ہیں کہ :پیغمبر اسلام ؐ نے اپنی ایک گفتگو کے دوران فرمایا: جبرئیل مجھ پر نازل ہوئے، اور کہا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:

شَهرُ رَمَضاٰن سَیّدُ الشُّهُورِ، وَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ سَیِّدَ ةٌاللَّیاٰلی، وَالْفِرْدَوْسُ سَیِّدُ الْجَناٰنَ

ماہ ِرمضان مہینوں کا سردار، شب ِ قدر شبوں کی سردار ہے اور فردوس جنت کے باغات کی سردار ہے(بحار الانوار۔ ج۴۰ص۵۴)

ایک دوسری گفتگو میں آپؐ نے فرمایا:

جمعہ دنوں کا سردار، رمضان مہینوں کا سردار، اسرافیل فرشتوں کا سردار، آدم انسانوں کے سردار، میں پیغمبروں کا سردار اور علی اوصیاء کے سردارہیں(بحار الانوار۔ ج۴۰ص۴۷)

۶:-امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنی ایک گفتگو کے دوران فرمایا:

عِزُّالشُّهُورِ شَهرُ اللّٰهِ شَهرُ رَمَضاٰن، وَقَلْبُ شَهرُ رَمَضاٰنَ لَیْلَةُ الْقَدْرِ

مہینوں کی عزت، خدا کا مہینہ رمضان ہے اور ماہِ رمضان کا دل شب ِ قدر ہے( تہذیب الاحکام۔ ج ۱۔ ص ۴۰۶)

۷:-پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ شعبانیہ کے ایک حصے میں ماہِ مبارک رمضان کی شان میں فرمایا:

اَنَّ أَبْواٰبَ الْجَناٰنِ فی هٰذَا الشَّهرِ مُفَتَّحَةً فَاسْئلُوا رَبَّکُمْ اَنْ لاٰ یُغْلِقَهاٰ عَلَیْکُمْ، وَ اَبْواٰبَ النِّیرانِ مُغَلقَةٌ فَاسئَلوُا رَبَّکُمْ أَنْ لاٰ یَفْتَحَهاٰ عَلَیْکُمْ، وَ الشّیاٰطینَ مَغْلُولَةٌ فَاسْئَلوُا رَبَّکُمْ اَنْ لاٰ یُسَلِّطَهاٰ عَلَیْکُمْ

بے شک اس مہینے میں جنت کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے اوپر بند نہ کرے اوراس مہینے میں جہنم کے دروازے بند ہیں، خدا سے دعا کرو کہ ان دروازوں کو تمہارے لئے نہ کھولےاور شیطانوں کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے، پروردگار سے دعا کرو کہ انہیں تم پر مسلط نہ کرے(عیون اخبار الرضا۔ ج۱ص۲۹۵)
ماہِ رمضان سے استفادہ
آخر میں پہلے تو خود اپنے آپ سے اور پھر محترم قارئین سے وعظ و نصیحت کے عنوان سے انتہائی خلوص کے ساتھ عرض ہے کہ:

ماہِ رمضان اس قدر فضیلت، برکت اور رحمت کی وجہ سے کیا واقعی ہماری گہری فکری اور عملی توجہ کا مستحق نہیں؟

خداوند ِعالم نے اس قدر برکت، لطف اور رحمت کا مہینہ ہمیں نصیب کیا ہےاس سے لا تعلقی یا اس پر شعوری اور سنجیدہ توجہ نہ دینا، کیا ایک اہم موقع ضائع کردینے کے مترادف نہیں ہے؟

وہ مہینہ جس میں خدا نے ہمیں اپنی رحمت کے دسترخوان پر مدعو کیا ہے، اور ہمیں اپنے خوانِ نعمت کا مہمان بنایا ہے، کیا مناسب نہیں کہ ہم اس دعوت کوقبول کریں اور اس دسترخوان کی معنوی برکات سے استفادہ کریں؟

کیا ہمیں پیغمبر اسلام ؐکا یہ فرمان یاد نہیں ہے کہ: اِنَّ الشَّقِیَّ مَنْ حُرِّمَ فی هٰذا الشَّهْرِالْعَظیِمِ(بے شک وہ شخص بدقسمت ہے جو اس عظیم مہینے کی برکات سے محروم رہے۔ عیون اخبار الرضاج ۱۔ ص۲۹۵)

اس مہینے کی معنوی برکتیں اس قدر زیادہ ہیں کہ بقول رسولِ کریم ؐ:

جو کوئی اس مہینے میں ایک مومن کی دعوت ِافطار کرے، تویہ ایسا ہے جیسے اس نے ایک غلام کو آزاد کیا ہواور ایسے شخص کے تمام گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔

اس موقع پر ایک شخص نے سوال کیا:اے اللہ کے رسولؐ !ہم سب لوگ اس بات کی قدرت نہیں رکھتے کہ کسی کو افطار کرائیں پیغمبر ؐنے اسے جواب دیا:

اِتَّقُوا النّٰارَ وَ لَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ اِتَّقُوا النّٰارَ وَلَوْبِشَرْبَةِماٰءٍ

آتش دوزخ سے بچو، چاہے پیاسے کو تھوڑے سے پانی کے ذریعے سیراب کرکے(عیون اخبار الرضا۔ ج۱ص۲۹۵)

یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس مہینے میں، اہم ترین بات یہ ہے کہ انسان گناہوں سے پرہیز کرےلہٰذا جب حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس مہینے کے سب سے افضل عمل کے بارے میں سوال کیا، تو آنحضرت ؐ نے جواب دیا:

أَفْضَلُ الَأ عْماٰلِ فی هَذَا الشَّهرِ اَلْوَرَعُ عَنْ مَحاٰرِمِ اللّٰهِ

اس مہینے میں بہترین عمل، ان کاموں سے پرہیز کرنا ہے جنہیںخداوند ِعالم نے حرام قرار دیاہے(عیون اخبار الرضاج۱ص۲۹۵)

قرآن سے اُنس ورغبت اور اس سے استفادے کی بہار
ماہ ِرمبارکِ رمضان، قرآنِ مجید کی ولادت، اُس سے اُنس، اُس کی بہار، اُس کی معرفت اور اُس سے فکری اور عملی استفادے کا مہینہ ہے۔

وہ مہینہ جس کی شب ِ قدر میں قلب ِ پیغمبرؐ نے امینِ وحی سے پورا کا پوراقرآن اخذ کیا اور قرآنِ مجید لوح محفوظ سے رسولِ مقبول ؐ کے وسیع اور نورانی قلب پر منعکس ہوا۔

وہ مہینہ جس میں ہم سب روزے، عبادت وپرستش اور دعا و مناجات کے ذریعے معنوی تیاری و آمادگی کے ساتھ قرآنِ کریم کا استقبال کرتے ہیں، او رچاہتے ہیں کہ خالص اللہ کے لئے روزے کے پُربرکت آثار کے سائے میں اور عبادتوں اور دعائوں کے ہمراہ قرآنِ کریم سے اپنے ربط و تعلق کو مضبوط سے مضبوط تر بنائیں۔

قرآن، ماہِ رمضان کے پیکر میں ڈالی جانے والی روح ہے، جس نے اس مہینے کی عظمت اور اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیاہے۔

قرآن ماہِ رمضان کا قلب ہے، اور اس قلب اور اس کی دھڑکنوں کے بغیر روزہ داروں کی معنوی حیات کی رگوں میں حقیقت کا جوہر رواں دواں نہیں ہوسکتا۔

قرآن، دلوں کی بہار اور ماہِ رمضان، قرآن کی بہار ہےلہٰذا امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا ہے:

لِکُلِّ شَیْ ءٍ رَبیعٌ، وَ رِبیعُ القُرآنِ شَهرُ رَمَضان

ہر چیز کی بہار ہے اور قرآن کی بہار ماہ ِرمضان ہے۔

( بحار الانوارج۹۶۔ ص۳۸۶)

قرآنِ مجید کی شان اور عظمت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

وَ تَفَقَّهُوا فِیهِ فَاِنَّهُ رَبیعُ الْقُلوبِ

اوراس (قرآن) میں غور و فکر کرو، کہ (یہ) دلوں کی بہار ہے۔

( نہج البلاغہ۔ خطبہ۱۱۰)

نیز امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کے مطابق:

قَلْبُ شَهُرِ رَمَضان لَیْلَةُ الْقَدْرِ

ماہ ِرمضان کا دل، شب ِقدر ہے( بحار الانوار۔ ج۹۶ص۳۸۶)

لہٰذا یہ بات کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ماہِ رمضان کی برکتوں کا بڑا حصہ قرآنِ کریم سے وابستہ ہےاس مہینے میں ہمیں اپنے دلوں کی کھیتی میں قرآن کے نورانی احکامات کا بیج بوناچاہئے تاکہ وہ ٹھیک ٹھیک نشو ونما پائےہمیں اپنی روح کی غذا کے لئے اس ماہ میں قرآنی پھلوں سے استفادہ کرنا چاہئے اور اس مہینے میںقرآنی برکات کے زیر سایہ اپنے قلب کی قوت کو بڑھانا چاہئے۔

قرانِ کریم سے اس قسم کا استفادہ، اس سے حقیقی اُنس و رغبت کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
قرآنِ مجید سے اُنس ورغبت
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے:

مَنْ اَنَسَ بِتَلاوَةِ الْقُرآنِ، لَمْ تُوحِشْهُ مُفارَقَةُ الاِخْوانِ

جو شخص قرآن کی تلاوت سے اُنس ورغبت رکھتا ہے، وہ اپنے بھائیوں کی جدائی سے وحشت زدہ نہیں ہوتا(عزرالحکم)

امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا ہے:

لَوْماتَ مِنْ بِیْنِ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغرِبِ لَما اسْتَوْحَشْتُ، بَعْدَ اَنْ یَکُونَ الْقُرْآنُ مَعِی

اگر مشرق و مغرب کے درمیان پائی جانے والی تمام موجودات نابود ہوجائیں اور میں تنہا رہ جائوںلیکن اس موقع پر قرآن میرے ہمراہ ہو، تو مجھے ذرّہ برابر وحشت محسوس نہ ہوگی( اصول کافی ج۲۔ ص۶۱۰)

اس مقام پریہ سوال ضرور سامنے آتا ہے کہ قرآنِ کریم سے اُنس و لگائو آخرہے کیا چیز، جو انسان کو اس قدر مضبوط اور پختہ کر تاہے اور اس سے ہر قسم کے اضطراب اورتنائو کو دور کر دیتاہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ: اُنس کے معنی دراصل کسی چیزسے رغبت، پیاراوراس کا ہمدم و ہمنشین ہوجانا ہےجیسے شیرخوار بچے کا اپنی ماںکی آغوش سے اُنسیت رکھناکبھی کبھی کسی چیز سے اُنس اتنا شدید ہوجاتا ہے کہ وہ ماں کی آغوش سے بچے کے اُنس سے بھی زیادہ بڑھ جاتا ہے جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے انہیں موت سے ڈرانے والے منافقین سے، فرمایا تھا کہ:

وَاللّٰهِ لاَ بْنُ اَبِی طاٰلِبٍ اَنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْیِ اُمِّهِ

خدا کی قسم ابو طالب کے بیٹے (علی ؑ) کو موت سے اس سے بھی زیادہ اُنسیت ہے، جتنی اُنسیت شیرخوار بچے کو اپنی ماں کی آغوش سے ہوتی ہے(نہج البلاغہ۔ خطبہ۵)

سچا عارف وہ ہے، جو خدا اور اس کے کلام سے اُنس والفت رکھتا ہو۔ لہٰذا حضرت علی علیہ السلام نے آیت قرآن: یٰاَیُّهَاالْاِنْسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ (اے انسان تجھے کس چیز نے اپنے رب سے دھوکے میں رکھا ہےسورہ انفطار۸۲آیت ۶) کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاہے کہ: وَکُنْ للّٰهِ مُطیعاً وَ بِذِکْرِهِ اَنِساً (خداوندِعالم کے مطیع وفرمانبردار بنو اور خدا کی یاد سے اُنس و رغبت پیدا کرونہج البلاغہ خطبہ۲۲۳)

لہٰذا اُنس کا حقیقی اور واقعی مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے عشق میں مبتلا ہوجائے اور اس کے ساتھ شدید اور اٹوٹ تعلق کے ساتھ اُس کا ہمدم و ہم جان ہوجائےیہ جذبہ اُس چیز سے انسان کے تعلق اور بندھن کو محکم اور مضبوط کرتا ہے جس سے اسے اُنس ہوتا ہے۔

خدا اور کلامِ خدا سے ایسا ہی اُنس، اولیائے الٰہی اور ہر عارف اورسچے مومن کے اوصاف میںسے ہےلہٰذا میر المومنین حضرت علی علیہ السلام، بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:

اَللّٰهُمَّ اِنِّکَ اَنَسُ الاَ نِسِینَ لاَ وْلِیاٰئکَ اِنْ اَوْ حَشَتْهُمُ الْغُرْبَةُ اَنَسَهُمْ ذِکْرُکَ

بارِ الٰہا! تو اپنے دوستوں کے ساتھ، تمام اُنس رکھنے والوں سے زیادہ مانوس ہے۔ ۔ اگرتنہائی سے ان کا دل گھبراتا ہے تو تیرا ذکر ان کا مونس و ہمدم ہوتا ہے(نہج البلاغہ۔ خطبہ۲۲۴)
ماہ ِرمضان میں نورِقرآن کی تابانی
کیونکہ ماہ ِرمضان، ماہِ نزولِ قرآن، ماہ ِخدا اور ماہ ِتزکیہ و تہذیب ِ نفس ہے اور قرآنِ مجید اسی مہینے میں واقع شب ِقدرمیں قلب ِپیغمبرؐ پر نازل ہوا ہےلہٰذا ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ماہ ِرمضان، قرآنی نور کی تابانی اور قرآنِ کریم سے اُنس ورغبت کا مہینہ ہے۔

روزہ دار اس مہینے میں خدا کے مہمان ہوتے ہیں اورقرآنِ کریم کے بابرکت دسترخوان کے گرد بیٹھتے ہیںلہٰذا انہیں اس ماہ میں قرآنِ کریم کی تلاوت سے خاص رغبت کا ثبوت دینا چاہئے اور آیاتِ قرآنی میں غوروفکر اور قرآنی مفاہیم سے فکری اور عملی استفادے کے ذریعے اپنے معنوی رشد و کمال میں اضافہ کرنا چاہئے۔

اسی بنیاد پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برس ماہِ شعبان کے آخری جمعے کو اپنے معروف خطبہ شعبانیہ میں ارشاد فرمایا کہ:

هُوَ شَهرُ دُعِیتُمْ فیه اِلیٰ ضِیاٰفَةِ اللّٰهِ وَ مَنْ تَلافِیهِ آیَةً مِنَ الْقُرآنِ کانَ لَهُ مِثْلُ اَجْرِ مَنْ خَتَمَ الْقُرآنَ فِی غَیْرِهِ مِنَ الشّهُورِ

ماہ ِرمضان وہ مہینہ ہے، جس میں تمہیں خدا نے اپنا مہمان مدعو کیا ہےتم میں سے جو کوئی اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا اس کا اجر دوسرے کسی مہینے میں پورے قرآن کی تلاوت کے ثواب کے برابر ہے(عیون اخبار الرضا۔ ج۲۔ ص۲۹۵)

ماہِ رمضان کی دعائوں میں، ہدایت ورہنمائی کی کتاب کے طور پر قرآن اور اس سے اُنس کا بکثرت تذکرہ آیا ہےماہِ رمضان کے ہر دن کی دعائیں، جو رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل ہوئی ہیں، ان میں سے دوسرے دن کی دعامیں ہے کہ:

اَللّٰهُمَّ وَ فِقْنی فِیهِ لِقَرا ئَةِ آیاٰتِکَ

بارِ الٰہا! اس دن مجھے آیاتِ قرآن کی قراءت کی توفیق عطا فرما۔

جبکہ بیسویں دن کی دعا میں ہے کہ:

اَللّٰهُمَّ وَ فِّقْنی فِیهِ لِتِلاٰوَةِ الْقُرآنِ

بارِ الٰہا! مجھے آج کے دن تلاوتِ قرآن کی توفیق عطا فرما۔

دعائوں کی صورت میں ذکر ہونے والی ان دو عبارتوں میں قرآنِ کریم کی تلاوت، اور اسے کھول کر پڑھنے کی توفیق بھی طلب کی گئی ہے اور تدبر کے ساتھ اور عمل کے ہمراہ قراءت کی توفیق بھی چاہی گئی ہےکیونکہ تلاوت کا لفط دراصل ”تِلو و تالی“ سے ماخوذ ہےجس کے معنی ہیں بغیر کسی فاصلے کے کسی کے پیچھے پیچھے چلنا، اس کی پیروی کرنا۔

واضح ہے کہ اس قسم کی توفیق قرآنِ مجید سے حقیقی اُنس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیقرآنِ کریم سے اُنس درحقیقت تین بنیادوں سے تشکیل پاتا ہےیہ بنیادیں درج ذیل ہیں:

۱:-آیاتِ قرآن کو پڑھنا۔

۲:- قرآن کی معرفت اور اس میں غور وفکر۔

۳:- قرآنی احکام اور فرامین پر عمل۔

اسی بنیاد پر امام محمد باقر علیہ السلام نے ایک مختصر تجزیہ و تحلیل کرتے ہوئے فرمایا ہے:

قُرّاءُ الْقُرآنِ ثَلاثَةٌ، رَجُلٌ قَرَءَ الْقُرآنَ فَاتَّخَذَ بِضاعَةً، وَ اسْتَدَرَّبِهِ الْمُلوکَ، وَاسْتطالَ بِهِ عَلَی النّاسِوَرَجُلٌ قَرَءَ الْقُرْآنَ فَحَفِظَ حُرُوفَهُ وَضَیَّعَ حُدُودَهُ، وَ اَقاٰمَهُ اِقاٰمَةَ الْقِدْحِ، فَلا کَثَّرِ اللّٰهُ هٰؤُلاٰءِ مِنْ حَمَلَةِ الْقُرْآنِوَ رَجُلٌ قَرَءَ الْقُرآنَ، فَوَضَعَ دَواءَ الْقُرْآنِ عَلی داٰء قَلْبِهِ، فَاَشهَرَ بِهِ لَیْلَةُ، وَ اَظْمَأ بِهِ نَهاٰرَهُ، وَ قاٰمَ بِهِ فَی مَساٰجِدِهِ، وَ تَجاٰفیٰ بِهِ عَنْ فِراشِهِ، فَبِاوُلئٰکَ یَدْفَعُ اللّٰهُ الْعَزِیزُ الْجَبّٰارُ الْبَلاءََ

قرآن پڑھنے والے لوگ تین قسم کے ہیں:ایک قسم ان لوگوں کی ہے جو قرائتِ قرآن کو اپنے لئے مال ودولت کمانے کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔ قرائت قرآن کے ذریعے بادشاہوں سے فائدے اٹھاتے ہیں اور لوگوںکے سامنے اپنی بڑائی جتاتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس کے حروف (اور اس کی تجوید) کا خیال رکھتے ہیں لیکن قرآن میں بیان شدہ حدود و احکام کو ضائع کرتے ہیں۔

(ایسے حاملانِ قرآن کسی صورت قرآن سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے اور اس کے ذریعے نجات حاصل نہ کرسکیںگے)

تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو قرآن پڑھتے ہیں اور اس سے اپنے قلب کے امراض کا علاج کرتے ہیں اور اس کی تلاوت (یعنی اسے پڑھنے اور اس پر غور وفکر) کے لئے راتوں کو جاگتے ہیں، اور دن کو بھوکے پیاسے رہتے ہیں اس کے ذریعے مساجد میں کھڑے رہتے ہیں، اورذکرِ الٰہی کے لئے اپنے بستر سے دور رہتے ہیںیہی وہ لوگ ہیں جن کے وجود کی برکت سے اللہ رب العزت مصیبتیں ٹال دیتا ہے، بلائوں کو دور کرتا ہے، دشمن کی شر انگیزیوں سے محفوظ رکھتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے۔

آخر میں امام ؑفرماتے ہیں:

فَوَ اللّٰهِ لَهٰؤلاٰءِ فِی قُرّاء الْقُرآنِ اَعَزُّ مِنَ الْکِبْریتِ الاَحْمَرِ

خدا کی قسم، قرآن پڑھنے والوں میں، اس قسم کے لوگ سرخ گندھک سے بھی زیادہ کامیاب ہیں(اصول کافی ج۲ص۶۲۷)

امام زین العابدین علیہ السلام ختمِ قرآن کے موقع پر ایک دعا کی تلاوت فرماتے تھے، اس دعا کے ایک حصے میں ہے کہ:

اَللّٰهُمَّ فَاِذا اَفَدْتَنَا الْمَعُونَةَعَلیٰ تِلاٰوَتِهِ وَ سَهَّلْتَ جَو اسِیَ اَلْسِنَتِناٰ بِحُسْنِ عِباٰرَتِهِ، فَاجْعَلْنٰا مِمِّنْ یَرْعاٰهُ حَقَّ رِعاٰیَتِهِ

بارِ الٰہا! جبکہ تو نے (قرآن کی) تلاوت کے سلسلے میںہماری مدد کی، اور اسے اچھے انداز میں پڑھنے کیلئے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیںپس ہمیں ایسے لوگوں میں قرار دے جو اس (قرآن) کے حق کا ایسا لحاظ رکھتے ہیں جیسا اسے لحاظ رکھنے کا حق ہے(صحیفہ سجادیہدعانمبر۴۲)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آیت ِ قرآن: یَتْلُوْنَهُ حَقَّ تِلَاوَتِه (اور مومنین اس کتابِ الٰہی کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں، جیسا اس کی تلاوت کا حق ہےسورہ بقرہ ۲۔ آیت۱۲۱) کی تفسیر میں فرمایا: یَتَّبِعُونَهُ حَقَّ اِتَّباٰعِهِ (جیسا قرآن کی پیروی کا حق ہے، ویسی اس کی پیروی کرتے ہیںتفسیر درالمنثورج۱ص۱۱۱)

ایک دوسرے مقام پر آنحضرتؐ نے فرمایاہے:

رُبَّ تالِ الْقُرآنَ، وَ الْقُرآنُ یَلْعَنُهُ

کتنے ہی قرآن پڑھنے والے ایسے ہیں، جن پر قرآن لعنت کرتا ہے( بحار الانورج۔ ۹۲ص۱۸۴)

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہارعلیہم السلام کے یہ کلمات اور اس بارے میں آپ حضرات کے ایسے دسیوں ارشادات یہ بات ظاہر کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی ایسی ہی تلاوت اہمیت اور قدر و قیمت رکھتی ہے جو آیاتِ قرآنی میں غور و فکر اوراس کے احکام و فرامین پر عمل کے عزم کے ساتھ ہونیز قرآن سے حقیقی اُنس و لگائو اس میں تدبر و تفکر اور اس پر عمل سے وابستہ ہےوگرنہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خونخوار دشمن نہروان کے خوارج سب کے سب قاریانِ قرآن تھےلیکن قرآن کی صرف ”ق“ سے آشنا تھایہی وجہ تھی کہ سراپا توحید حضرت علی علیہ السلام کو(نعوذباللہ) کافر قرار دے کر ان سے مصروفِ جنگ تھے۔
اولیائے خدا کے، قرآن سے اُنس و لگائو کے نمونے
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ائمہ معصومین علیہم السلام اور اولیائے الٰہی، قرآنِ کریم سے بہت زیادہ اُنس ورغبت رکھتے تھے اور اس کے ظاہری و باطنی فیوضات سے مستفیض ہوتے تھے۔

یہ ہستیاں، آیاتِ قرآنی کی صرف ظاہری تلاوت پر اکتفا نہیں کرتیں تھیں، بلکہ قرآنی آیات پر غور وفکر، تدبرو تفکر کے ساتھ اس کتاب ِہدایت کی تلاوت میں مشغول ہوتی تھیںٹھہر ٹھہر کر، خوبصورت اور پُرکشش آواز میں، قرآن کے معانی و مفاہیم پرتوجہ کے ساتھ، اور اس پر عمل کے عزم کے ہمراہ اسے پڑھتی تھیں۔

مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں سینکڑوں مرتبہ ”یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“ آیا ہےحضرت امام رضا علیہ السلام جب بھی قرآنِ مجید کی تلاوت کے دوران اس جملے پر پہنچتے، اور اسے پڑھتے، فوراً کہا کرتے تھے کہ: لَبَّیْکَ اَللّٰهُمَّ لَبَّیْکَ (حاضر ہوں، بارِ الٰہا!حاضر ہوںبحار الانوارج۸۵ص۳۴)

آپ ؑ کا یہ طرزِ عمل اس حقیقت کا اظہار ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام توجہ اور تدبر کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت فرماتے تھے اوراس تلاوت کے ہمراہ فرامینِ الٰہی پر عمل کا عزم کرتے تھے۔

اب ہم ائمہ اطہارؑاور اولیائے الٰہی کے قرآنِ کریم سے اُنس ورغبت کے کچھ واقعات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

۱:- امام حسین علیہ السلام کو قرآنِ کریم سے اس قدر اُنس اور الفت تھی کہ جب کربلا میںنویں محرم کے دن، عصر کے وقت، دشمن نے آپ ؑ اور آپ ؑکے اصحاب کے خیام پر حملے کا قصد کیا، تو آپ ؑ نے حضرت عباس علیہ السلام سے فرمایا: بھائی! آپ دشمن کے پاس جائیے اور ان سے کہیے کہ وہ ہمیں آج رات کی مہلت دیدیں، کیونکہ: هُوَ یَعْلَمُ اَنِّی اُحِبُّ الصَّلاةَ لَهُ وَ تِلاوَةَ کِتاٰبِهِ (خدا جانتا ہے کہ مجھے نماز اور تلاوتِ قرآن کس قدر عزیز ہےتاریخ طبری ج۶ص۳۳۷، نفس المہمومص۱۱۳)

۲:-امام زین العابدین علیہ السلام جب کبھی سورہ حمدپڑھتے ہوئے اس کی آیت ”مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ“ پر پہنچتے تو اس آیت کو ایک خاص خضوع کے ساتھ دہراتے، یہاں تک کہ محسوس ہونے لگتا کہ ابھی آپ کی روح پرواز کر جائے گی(اصول کافی ج۲ص۶۰۲)

آپ ؑ اس قدر خوبصورت اور پیاری آواز میں قرآنِ کریم پڑھا کرتے تھے کہ قریب سے گزرنے والے سقّے (پانی لانے والے) یہ دلنشین آواز سننے کے لئے وہیں ٹھہرجاتے تھے(اصول کافی۔ ج۲ص۶۱۶)

۳:-امام جعفرصادق علیہ السلام دورانِ نماز ایک ایسی خاص ملکوتی حالت کے ساتھ آیاتِ قرآنی کی تلاوت فرماتے تھے کہ آپؑ پر ایک غیر معمولی کیفیت طاری ہوجاتی تھیایک روز، ایسا ہونے کے بعد جب آپؑ کی حالت معمول پر آئی تو وہاںموجود لوگوں نے پوچھا:آپ ؑ پر یہ کیسی کیفیت طاری ہو گئی تھی؟ حضرت ؑنے جواب دیا: ماٰ زِلْتُ اُکَرِّرُ آیاٰتَ الْقُرْآنِ حَتَّی بَلَغْتُ اِلیٰ حاٰلٍ کَاَنَّنِی سَمِعْتُها مُشافِهَةً مَمَّنْ اَنْزَلَهاٰ (میں مسلسل آیاتِ قرآنی دُہرارہا تھا یہاں تک کہ میری حالت یہ ہو گئی کہ گویا میں ان قرآنی آیات کو براہِ راست، قرآن کے نازل کرنے والے کی زبانی سن رہا ہوںبحار الانوار۔ ج۸۴ص۲۴۸)

۴:-حضرت امام علی رضا علیہ السلام، قرآنِ کریم سے اس قدر اُنس و رغبت رکھتے تھے کہ ہر تین روز میں ایک پورا قرآن ختم کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ:اگر میں چاہوں تو تین دن سے بھی کم مدّت میں قرآن ختم کرسکتا ہوں، لیکن میں نے کبھی قرآن کی کوئی آیت اس کے معنی میں غوروفکر اور اس بارے میں سوچے بغیر نہیں پڑھی ہے کہ یہ آیت کس موضوع کے بارے میںہے، اور کس وقت نازل ہوئی ہےیہی وجہ ہے کہ میں تین دن میںایک پورے قرآن کی تلاوت کرتا ہوں، بصورت ِدیگرتین دن سے بھی کم میں پورا قرآن ختم کرلیتا(مناقب ابن شہر آشوب۔ ج ۴۔ ص۳۶۰)

۵:- ”مستدرک الوسائل“ کے مئولف ”محدث نوریؒ“ معتبر سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ عالمِ ربانی و فقیہ ِصمدانی آیت اللہ العظمیٰ سید محمد مہدی بحر العلوم (م: ۱۲۱۲ھ ق) ایک روز امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی مرقدِ مطہر کی زیارت کے لئے آپؑ کے حرمِ مقدس میں داخل ہوئے، تو لوگوں نے دیکھا کہ آپ وجد کی حالت میں یہ شعر گنگنا رہے ہیں:

چہ خوش است صوتِ قرآن ز نو دلربا شنیدن

بہ رخت نظارہ کردن سخنِ خدا شنیدن

کچھ دیر بعد بعض لوگوںنے ان سے پوچھا کہ آپ حرم میں کس مناسبت سے یہ شعر پڑھ رہے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جب میں حرم میں داخل ہوا، تو میں نے حضرتِ حجت امامِ زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کو امیر المومنین ؑکی ضریح کے نزدیک پایاآپؑ بلند اور خوبصورت لہجے میں قرائت ِقرآن میں مشغول تھےمیں نے آپ کی دل نشین آواز سن کر یہ شعر پڑھاتھاجب میں حرم میں پہنچا تو آنجناب ؑ قرائتِ قرآن ختم کر کے حرم سے نکل گئے( جنۃ الماویٰ)

۶:-جنگِ صفین کے بعد امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے، ایک روز مسجدِکوفہ میں اپنے اصحاب کے سامنے ایک خطبہ ارشاد فرمایااس خطبے میں آپ ؑنے جنگِ صفین میں درجہ شہادت پر فائز ہونے والے اپنے چند خاص اصحاب کو انتہائی دکھ بھرے لہجے میں یاد کیا اور ان کے بارے میں فرمایا:

کہاں ہیں میرے وہ بھائی جو سیدھی راہ پر چلتے رہے، اور حق پر گزر گئے؟ کہاں ہیں عمار؟ اور کہاں ہیں ابن تیہان؟ اور کہاں ہیں ذوالشہادتین؟ اور کہاں ہیں ان جیسے اور دوسرے بھائی کہ جو جانبازی کا عہد و پیمان باندھے ہوئے تھے اور جن کے سروں کو (کاٹ کر) فاسقوں کے پاس روانہ کیا گیا۔

اس کے بعد حضرت ؑاپنی ریشِ مبارک پر ہاتھ رکھ کردیر تک روتے رہےاور پھر اپنے ان ساتھیوں کی چند صفات کا ذکر کیا، اور ان کی پہلی صفت ”تلاوتِ قرآن اور اس کے احکام پر عمل“ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

اَوِّهِ عَلَیٰ اِخْوانِیَ الَّذِیْنَ تَلَوُا الْقُرْاٰنَ فَاَحْکَمُوْهُ، وَتَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَاَقَامُوْهُ

آہ! میرے وہ بھائی جنہوں نے قرآن کو پڑھا تو اس پر کاربند ہوئےاپنے فرئض پر غوروفکر کیا تو انہیں ادا کیا(نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰)

۷:-ہم گفتگو کو مختصر کرتے ہوئے اسلامی جمہوری ٔایران کے بانی رہبر کبیر حضرت امام خمینیؒ کے قرآنِ کریم سے اُنس ورغبت کے بارے میں کچھ عرض کریں گے۔

امام خمینی علیہ الرحمہ، اپنے ظاہر وباطن میں، قرآنِ مجید پر انتہائی زیادہ اور بہت گہری توجہ دیتے تھےآپ کا قرآنِ کریم سے تعلق انتہائی عقیدت و احترام پر مبنی تھاآپ نے اس کتابِ ہدایت سے بکثرت فکری اور عملی استفادہ کیااپنے مقاصد کی پیشرفت اور اس سلسلے میں حصولِ قوت کے لئے قرآن ہی آپ کا سب سے زیادہ اطمینان بخش سہارا تھاآپ فرماتے تھے کہ:

اگر خدا نے قرآن میں طاغوتوں سے مقابلے پر مشتمل انبیا کی داستانوں کا ذکر کیا ہے، موسیٰ و فرعون، ابراہیم ونمرود وغیرہ۔ ۔ کا تذکرہ کیا ہے، تو اس کا مقصد داستان سرائی نہیں ہے، بلکہ طاغوتوں کے خلاف انبیا کے لائحہ عمل کا بیان مقصود ہے یعنی ہم جو قرآن کے پیروکار ہیں، ہمیں طاغوتوں کی نابودی تک ان کے خلاف جدوجہد کرنی چاہئے۔

آپ نے بارہا فرمایا کہ:قرآن ایک مکمل انسان ساز کتاب ہےیہ انسان سازی کے لئے نازل ہوئی ہے۔

امام خمینی علیہ الرحمہ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ، حتیٰ وہ دور بھی جب ایران پر عراق کی طرف سے مسلط کردہ جنگ جاری تھی اور وہ زمانہ بھی جب آپ اپنی آخری عمر میں سخت بیماری کے نتیجے میں صاحب ِفراش تھے، قرآن سے اُنس و رغبت کے ساتھ بسر ہواآپ آیاتِ قرآنی کی تلاوت اور ان میں تدبر کے ذریعے خداوندِ عالم سے تعلق اور رابطہ پیدا کرتے تھےآپ کے آفس کے ایک کا رکن کے مطابق:

ہر روز امام خمینی ؒکا ایک خاص منظم پروگرام ہوتا تھاآپ اپنے وقت کا ایک حصہ آیاتِ قرآن کی تلاوت میں گزارتے تھےآپ کے کام اس قدر منظم اور پروگرام کے مطابق ہوا کرتے تھے کہ معمولاً کبھی بھی ایک کام پر آپ کی توجہ، آپ کے دوسرے کام کے خراب ہونے کا موجب نہیں ہوتی تھی۔

امام خمینیؒ جب آدھی رات کو نمازِ شب کے لئے بیدار ہوتے، توکچھ دیر قران کی تلاوت کرتےحتیٰ عمر کے آخری دنوں میں جب آپ بہت زیادہ علالت کی باعث صاحب ِ فراش تھے، خفیہ کیمروں سے آ پ کی جو فلم بنائی گئی، اس فلم میں اکثر دیکھا گیاہے کہ آپ بستر سے اٹھتے او ربیٹھ کر قرآن ہاتھ میں لے کر آیاتِ قرآنی کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔

امام خمینی ؒ کو فراغت کا کوئی چھوٹا سا وقفہ بھی ملتا، تو آپ اسے قرآنِ کریم کی تلاوت میں گزارتےکہتے ہیں کہ جب گھر میں کھانے کیلئے دسترخوان چنا جا رہا ہوتا، تو اس چھوٹے سے وقفے میں بھی آپ قرآنِ کریم کھول کر پڑھنے لگتے۔

جس زمانے میں آپ نجفِ اشرف میں مقیم تھے، آپ کی آنکھوں میں کچھ تکلیف ہوئیآپ نے ڈاکٹر سے رجوع کیا، ڈاکٹر نے آپ کی آنکھوں کے معاینے کے بعد کہا کہ: آپ کچھ دن قرآن نہ پڑھئے گا، اور اپنی آنکھوں کوآرام دیجئے گایہ سن کر امام خمینیؒ مسکرائے اور ڈاکٹر سے کہا:میں قرآن پڑھنے ہی کیلئے توآنکھیں چاہتا ہوں، کیا فائدہ کہ میری آنکھیں تو ہوں لیکن میں ان سے قرآن نہ پڑھ سکوں؟ آپ کچھ ایسا کیجئے کہ میں قرآن پڑھ سکوں۔ نجفِ اشرف میں امام خمینیؒ کے ساتھ رہنے والے ایک صاحب کا کہنا ہے کہ: امام خمینیؒ ماہِ رمضان میں ہر روز قرآنِ مجید کے دس پارے پڑھتے تھےیعنی ہر تین دن بعد ایک قرآن ختم کرتے تھےیوں آپ ماہِ رمضان میں دس قرآن ختم کرتے تھے۔

روایات میں آیا ہے کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے ایک ممتاز شاگرد ”علی بن مغیرہ“ نے آپ ؑ سے عرض کیا: میں ا پنے والد کی طرح، ماہ ِرمضان میں چالیس قرآن ختم کرتا ہوں کبھی مصروفیات یا تھکن کی وجہ سے یہ تعداد کم ہوجاتی ہے اورکبھی فراغت اوربشاشت کی وجہ سے زیادہپھر (عید)فطر کے دن، ان میں سے ایک ختمِ قرآن کا ثواب پیغمبر اسلامؐ کو ہدیہ کرتا ہوںدوسرے ختمِ قرآن کا ثواب حضرت علی ؑ کو، تیسرے ختمِ قرآن کا ثواب حضرت فاطمہ ؑکو اور اسی طرح دوسرے ائمہ ٔاطہار ؑ کو۔ ۔ یہاں تک کہ آپؑ کوبھی شامل کرتا ہوںاس عمل سے مجھے کیا ثواب ملے گا؟

امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے فرمایا:

لَکَ بِذٰلِکَ أَنْ تَکُونَ مَعَهُمْ یَوْمَ الْقِیامة

تمہاری جزا یہ ہے کہ تم روز ِقیامت ان لوگوں کے ساتھ ہوگے۔

میں نے کہا: اللہ اکبر! سچ مچ کیا میرا یہ مقام ہوگا؟ امام ؑنے تین مرتبہ فرمایا: ہاں، ہاں، ہاں۔ (اصول کافی ج۲۔ ص۶۱۸)

اس گفتگو کی آخری سطور کو ہم تلاوتِ قرآن کے ثواب کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ کے ایک کلام سے زینت بخشتے ہیں آنحضرتؐ نے فرمایا:

جوشخص ہر رات قرآنِ کریم کی دس آیات پڑھے گا، اس کا نام ”غافلوں“ کے ساتھ نہیں لکھا جائے گااورجو کوئی ہر رات پچاس آیات پڑھے گا، اس کا نام ”ذاکرین“ میں لکھا جائے گا، اور جو کوئی سو آیات پڑھے گا، اس کا نام ”قانتین“ (مخلص اورعاجز بندگانِ خدا) میں، اورجو کوئی دو سو آیات پڑھے گااس کا نام خاشعین میں، اور جو کوئی تین سو آیات پڑھے گا، اس کا نام ”فائزین“ (کامیاب افراد) میں ثبت کیا جائے گااورجو شخص پانچ سو آیات کی تلاوت کرے گا، اس کا نام ”مجتہدین“ (راہِ حق کے متلاشی افراد) میں، اورجو کوئی ایک ہزار آیات پڑھے گا، اس کیلئے نیکیوں کا قنطار ہوگا۔ اور ہر قنطار پندرہ ہزار مثقال سونے کے برابرہوگا اور اس میں کا ہر مثقال چوبیس قیراط کا ہوگا اور اس کا سب سے چھوٹا قیراط کوہ ِاحد کے برابر ہوگا اور سب سے بڑا قیراط زمین سے آسمان کی بلندی جتنا ہوگا(اصول کافی۔ ج۲۔ ص۶۱۸)

قرآن کا اصل مقصد، اس کے احکام پر عمل

البتہ اس جانب متوجہ رہنے کی ضرورت ہے کہ قرآن کے حوالے سے ہماری اہم ترین ذمے داری یہ ہے کہ ہم اس کی تعلیمات اوراس کے احکام پر عمل کریںیعنی قرآنِ مجید ہماری زندگی کے انفرادی اور اجتماعی معاملات میں ہمارا دستور ِعمل ہواور عملاً گمراہی کی تاریکیوں سے ہدایت کی روشنی کی جانب انسانیت کا رہنما ہوجیسا کہ خود قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اس اہم مسئلے پر روشنی ڈالی گئی ہےسورہ یونس میں ہے کہ :

یٰاَ یُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ تْکُمْ مَّوْعِظٌَ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ وَ هُدًی وَّ رَحْمٌَ لِّلْمُؤُمِنِیْنَ

اے لوگو! تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا کا سامان اور ہدایت اور صاحبانِ ایمان کے لئے رحمت (قرآن) آچکا ہے(سورہ یونس۱۰۔ آیت۵۷)

لہٰذا قرآنِ مجید کو ہمارے لئے وعظ و نصیحت ہونا چاہئےیعنی اسے ہمیں غفلتوں اور لاپرواہیوں سے نکالنا چاہئے اور ہمارے کمال کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرکے، ہماری ترقی اور کمال کی راہ ہموار کرنی چاہئے۔

اسی طرح اس نسخہ ٔشفا کو ہماری معنوی بیماریوں کا مداوا بھی کرنا چاہئے، اسے ہمارے دلوںکی صفائی اور پاکیزگی کا ذریعہ بھی بننا چاہئےنیز اسے کمال کی جانب ہماری ہدایت و رہنمائی کا وسیلہ اور مومنین کے لئے باعث ِرحمت ہونا چاہئے۔

پس اگر قرآنِ کریم ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں یہ بنیادی کردار ادا نہ کررہا ہو، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن ہمارے درمیان متروک اور مہجور ہےسورہ ابراہیم کی پہلی ہی آیت میں ہے کہ:

كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ

یہ کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے، تاکہ آپ لوگوں کو خدا کے حکم سے تاریکیوں سے نکال کر، نور کی طرف لے آئیں(سورہ ابراہیم ۱۴آیت ۱)

امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ نے تاکید فرمائی ہے کہ:

اللّٰهَ اللّٰهَ فِی الْقُرْاٰنِ لَا یَسْبِقُکُمْ بِالْعَمَلِ بِه غَیْرُکُمْ

قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرے اس پر عمل میں تم پر سبقت لے جائیں(نہج البلاغہ مکتوب ۴۷)

ہر چیز کے چار وجود ہوتے ہیں: وجودِ ذہنی، وجودِ لفظی، وجودِ تحریری اور وجودِ عینی و خارجی۔

مثلاً اگر انسان پیاسا ہو، تو کتنا ہی وہ زبان سے پانی، پانی، پانی، کہتا رہے، اس کی پیاس نہیں بجھے گیاور کتنا ہی وہ پانی، پانی لکھتا رہے، اس کی تشنگی جوں کی توں رہے گیاور کتنا ہی وہ ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا خیال اپنے ذہن میں لائے، پیاسا کا پیاساہی رہے گاصرف اسی صورت میں اس کی تشنگی ختم ہوگی، اس کی پیاس بجھے گی، جب وہ واقعی پانی کی جستجو کرے اور اس کا گلاس اٹھا کر پی جائے۔

بالکل اسی طرح قرآنِ کریم کے الفاظ، تحریر اور اس کی آیات کو ذہن میں لانا نجات و کامیابی کا باعث نہیں بن سکتا، محض یہ عمل انسان کی معنوی ضروریات کی تسکین نہیں کرسکتابلکہ جو چیز باعث ِ نجات ہوگی وہ قرآن سے واقعی وابستگی ہےیعنی اپنی زندگی کو قرآنی تعلیمات کے سانچے میں ڈھالنا، اپنے اعمال کو قرآن کے مطابق انجام دینا، زندگی کے تمام میدانوں میں قرآنی احکام و فرامین کا نفاذ کرنا۔

پہلے تین وجود (ذہنی، لفظی اورتحریری) اس وقت قابلِ قدر ہیں جب وہ قرآن سے شناسائی اور اس پر عمل کا مقدمہ ہوں۔

مثلاً ایک ویٹ لفٹر کو ذہن میں رکھئےوہ شروع شروع میں صرف بیس کلو وزن اٹھا پاتا ہےلیکن مسلسل مشق اور بار بار پریکٹس کے نتیجے میں، وہ اپنے اندر دوسو کلو تک وزن اٹھانے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے جی ہاں، عمل انسان میں اتنی قوت پیدا کر دیتا ہے۔

تاریخ میں امِ عقیل نامی ایک بادیہ نشین خاتون کا ذکر آیا ہےاس خاتون نے دل کی گہرائیوں سے اسلام قبول کیا، اور سچے ایمان کے ساتھ اس پر عمل پیرا ہوئیںایک دن ان کے یہاں دو مہمان آئےمہمانوں کی خاطر تواضع کے دوران اچانک انہیں پتا چلا کہ ان کا بچہ اونٹوں کے نزدیک کھیل رہا تھا، کہ اونٹوں نے اسے کچل کر مار دیاامِ عقیل نے مہمانوں کو اس سانحے سے مطلع کئے بغیر، اس واقعے کی خبر لانے والے سے درخواست کی کہ وہ مہمانوں کی خاطر مدارت میں ان کی مدد کرےکھانا پکنے کے بعد جب مہمان اسے تناول کر چکے تب انہیں امِ عقیل کے بیٹے کی موت کا پتا چلاانہیں اس عورت کے صبر، حوصلے اور بلند ہمتی پر بڑاتعجب ہوا۔

مہمانوں کے چلے جانے کے بعد چند مسلمان امِ عقیل کے پاس تعزیت و تسلیت کی غرض سے آئےامِ عقیل نے ان سے کہا: کیا تم میں آیاتِ قرآنی جاننے والاکوئی شخص موجودہے، جو تلاوتِ قرآن کے ذریعے میرے دل کو تسلی دے؟ حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا: ہاں، میں ہوںاور پھر اس نے درج ذیل آیات کی تلاوت کی:

وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ

اور آپ ان صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجئے، جو مصیبت پڑنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں، ان (لوگوں) کے لئے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے، اوریہی ہدایت یافتہ ہیں( سورہ بقرہ۲آیت۱۵۵تا۱۵۷)

ان مسلمانوں کو رخصت کرنے کے بعد امِ عقیل نے وضو کیا اوردست ِدعا اٹھا کے بارگاہ ِالٰہی میں عرض کیابارِ الٰہا! تو نے صبر کا جو حکم دیا تھا، میں نے اسے انجام دیا، اب تو (صبر کی جزا کے سلسلے میں) اپنا وعدہ پورا فرما۔

یوں اس خاتون نے قرآن سے سبق لیا، اور سخت ترین حالات میں اس پر عمل کیا، نتیجے کے طو رپر سکون و اطمینان کی دولت حاصل کی۔
بارگاہِ الٰہی میں دعا ومناجات کاموسمِ بہار
ماہ ِرمضان، خود سازی اور تزکیہ نفس کا مہینہ ہےخداوندِ عالم نے گناہ کی آلودگیوں سے روح کی صفائی کے لئے اس مہینے میں تمام اسباب و وسائل فراہم کر دئیے ہیں اور اپنے مخصوص لطف و رحمت کے ذریعے تہذیب ِ نفس، صفائے باطن اور معنوی کمال کی راہ کے تمام دروازے کھول دئیے ہیں۔

یہ مہینہ انسانوں کے لئے ایک بہترین موقع ہے کہ وہ رحمت ِالٰہی کے وسیع اور رنگا رنگ دستر خوان سے مستفید ہوں اوراس پر موجود طرح طرح کی معنوی غذائوں کے ذریعے اپنی روح کو تقویت پہنچائیں۔

حدیث ِ قدسی میں آیا ہے کہ خداوندِ عالم نے اپنے نبی حضرت دائود علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ: اِنَّ لِلّٰهِ فِی اَیّٰامِ دَهْرِ کُمْ نَفَحاٰتٌ اَلاٰ فَتَرَ صَّدوُالَهاٰ (بے شک تمہاری زندگی میں خدا کے لئے سودمند لحظات پائے جاتے ہیںہوشیار رہوں اور ان لحظات کی تاک میں رہو اور ہوشیاری اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے استفادہ کروبحار الانوار۔ ج ۷۵ص ۱۶۸ )

ماہ ِرمضان اصلاحِ ذات، تہذیب ِنفس اور باطن کو آلودہ کردینے والے ہر قسم کے عوامل سے چھٹکارا پانے کا بہترین موقع ہےہمیں چاہے کہ نہ صرف خود کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کیلئے تیار کریں بلکہ لازم ہے کہ ہوشیاری کے ساتھ اس موقع کی تاک میں رہیں اور کسی صور ت اسے ہاتھ سے نہ نکلنے دیں۔ماہِ رمضان میں خود سازی اور تہذیب ِ نفس کا واحد ذریعہ صرف روزہ ہی نہیں، بلکہ اس مہینے میں مستحب قرار دیئے گئے اعمال میں سے ہر ایک عمل تہذیب ِنفس اور اصلاحِ کردار کے سلسلے میں خاص اثر رکھتا ہےیہ اعمال تلاوتِ قرآنِ مجید، خدا سے دعا و مناجات، یادِ ِخدا، یادِ قیامت، صبر و ثبات کا حصول اورمفلس و محروم افراد کو غذا کی فراہمی ہیں۔ان اعمال میں سے ایک عمل، جس کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ وہ خود سازی کے سلسلے میں انتہائی اہم کردار (Role) رکھتا ہے، اور ماہِ رمضان کو اس کا موسمِ بہار کہا گیا ہے، وہ بارگاہِ الٰہی میں ”دعا اور مناجات“ ہے۔

زیرِ نظر سطور میں ہم دعا کی اہمیت، اسکے صحیح طریقے اور اسکے آثار و اثرات کے بارے میں ایک مختصر گفتگو کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اسلام کی نظر میں دعا کی اہمیت اور اسکی تاکید
قرآنِ مجید، گفتارِ پیغمبر ؐ اور فرامینِ ائمہؑ میں بارگاہ ِالٰہی میں دعا اور خدا سے مناجات کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہےچند مثالیں حاضرِخدمت ہیں:

۱:-خدا وندِ عالم قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

قُلْ مَایَعْبَؤُابِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَادُعَآؤُکُمْ

آپ کہہ دیجیے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں، تو پروردگار تمہاری پروا بھی نہ کرتا۔

( سورہ فرقان ۲۵آیت ۷۷)

لہٰذا انسان کی شخصیت کا وزن اور اسکی اہمیت بارگاہ ِالٰہی میں دعا اور اس کے ساتھ تعلق سے وابستہ ہے۔

۲:-اللہ رب العزت فرماتا ہے:

وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْ خُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ

اور تمہارے پروردگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو، میں قبول کروں گا اور یقیناً جو لوگ میری عباد ت سے اکڑتے ہیں، وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جنم میں داخل ہو ں گے۔

( سورہ غافر ۴۰آیت ۶۰)

اس آیت میں دعا کے تعلق سے پانچ اہم نکات کی جانب اشارہ موجود ہے :

٭ دعا کرنا خدا کو پسند ہےوہ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اس سے دعا کریں اور اسکی بارگاہ میں دعا کرنے والے اور اس سے رازو نیاز کرنے والے بنیں۔

٭ دعا قبول کی جاتی ہےقبولیت ِ دعا کی شرائط فراہم کرکے، پروردگارِ عالم سے مثبت جواب پائیےخدا سے دعا کی استجابت اور قبولیت کی ایک شرط خود سازی اور اصلاحِ کردار ہے۔

٭ دعا، عبادت ہے اور عبادت کا ثواب رکھتی ہےنیز بندگی اور عبودیت کی علامت ہے، بلکہ بعض احادیث کے مطابق دعا بہترین عبادت ہے۔

معاویہ بن عمار نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا: آپ کے چاہنے والوں میں سے دو افراد مسجد میں آتے ہیں ان میں سے ایک شخص دیر تک نمازیں پڑھتا رہتا ہے اور دوسرا زیادہ وقت دعائوں میں مشغول رہتا ہےبتائیے ان میںسے کونسا شخص افضل ہے؟ امام ؑ نے انہیں جواب دیا : اکثرھُماٰ دُعاٰءً (جوشخص زیادہ دعا میں مشغول رہتا ہے، وہ افضل ہے۔ اصو ل کافی۔ ج ۲ص ۴۶۶)

٭ دعا ومناجات سے دور رہنے والے لوگ، مغرور اور متکبر ہوتے ہیں۔

٭ ذلت آمیزعذاب ِجہنم، دعا اور مناجات نہ کرنے والے لوگوں کا منتظر ہے۔

رسولِ کریم ؐ اور ائمہ معصومین ؑ کے کلمات و فرمودات میں، دعا کی اہمیت کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔

ایک کلام میں پیغمبرؐ فرماتے ہیں :

الدُّعاٰ ئُ سَلاٰحُ الْمُؤْمِنِ، وَ عَموُدُ الدِّینِ، وَ نُورُ السَّماٰواٰتِ وَ الْاَ رْضِ

دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

تفسیر مجمع البیانج ۸ص ۵۲۹

یعنی دعا مومن کی تقویت کا باعث، اسکے دین اور عقیدے کے استحکام کا موجب اور ہر جگہ اسکی روح کی نورانیت کا سبب ہےنہایت واضح بات ہے کہ ان خصوصیات کا حامل ہونا خود سازی اور تہذیب ِ نفس کی بنیادی علامات میں سے ہے۔

پیغمبراسلامؐ نے اپنے ایک دوسرے کلام میں فرمایاہے:

الدُّعاٰئُ مُخُّ الْعِباٰدَةِ وَلاٰیَهلِکُ مَعَ الدُّعاٰءِ اَحَدٌ

دعا عبادت کا مغز (جوہر) ہے، دعا کرنے والوں میں سے کوئی ہلاک نہیں ہوتا۔

بحار الانوارج۹۳ص ۳۰۰

یعنی دعا، انسان کی فکر اور سوچ کو تقویت دیتی اور کھولتی ہے، نیز اسے شادابی اورتازگی بخشتی ہے اور جو لوگ دعا و مناجات سے لگائو رکھتے ہیں وہ ان کے نتائج سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیشہ عافیت میں رہتے ہیں اور ہر گز ہلاکت میں مبتلا نہیں ہوتے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :

الدُّعاءُ مَفاٰتِیحُ النَّجاٰحِ، وَ مَقا لِیدُالْفَلاحِ

دعا، کامیابی کی کنجیاں اور نجات کے خزانے ہیں۔

اصول کافی ج۲ص ۴۶۸
مکتب ِ دعا سے بہتر استفادے کیلئے آداب کا ملحوظ رکھنا
ہرعبادت کے کچھ آداب اورشرائط ہوتے ہیں، جن کے بغیر یہ عبادت بےاثر رہتی ہےلہٰذا ضروری ہے کہ ہم دعا کے آداب و شرائط کو جانیں اور انہیں ملحوظ رکھ کر دعا کریں، تاکہ ہماری دعائیں اثر بخش ہوںاسی صورت میں دعا تہذیب ِ نفس اوراصلاحِ کردار میں اپنا اثر دکھائے گیمثال کے طور پر گناہ سے کنارہ کش ہونے کا پختہ عزم، دل کو پاک کرنا، حلال غذا اور جائز کسب ِ معاش، امربالمعروف ونہی عن المنکراورعادل اور لائق قیادت کی رہبری قبول کرنا، دعا کی شرائط میں شامل ہیں۔

دعا کے آداب بھی متعدد ہیں جیسے:

۱:-خدا کے نام اور صفاتِ الٰہی کے تذکرے سے دعا کا آغاز کرنا۔

۲:-محمدؐ اور آلِ محمدؑ پر در ود اورسلام بھیجنا۔

۳:-دعا کے وقت اولیائےالٰہی، جیسے پیغمبراسلام اور ائمہاطہارؑ کو شفیع قرار دینا۔

۴:-اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا۔

۵:-دورانِ دعا بارگاہِ الٰہی میں گڑ گڑانا۔

۶:-دعا سے پہلے دو رکعت نمازِ حاجت ادا کرنا۔

۷:-دعا کو معمولی اور غیر اہم بات نہ سمجھنا۔

۸:-خدا کی عظمت و بزرگی کے سامنے اپنی خواہشات اور حاجات کو حقیر اور ناچیز سمجھنا۔

۹:-دعا میں عالی ہمتی اور بلند نظری کو پیش نظر رکھنا۔

۱۰:- اپنی دعا میں سب کوشامل کرنا۔

۱۱:-پوشیدہ دعا کرنا، جس کی اہمیت ستّرعلانیہ دعائوں کے مساوی ہے۔

۱۲:-قبولیت ِدعا کے سلسلے میں حسنِ ظن رکھنا۔

۱۳:-مناسب و مقدس جگہوں اور اوقات میں دعا کرنا۔

۱۴:-دعا کرتے ہوئے اصرار کرنا( میزان الحکمہ۔ ج ۳ص ۲۶۰ تا ۲۶۷سے ماخوذ)

واضح رہے کہ ان آداب و شرائط میں سے ہر ایک، خدا سے مضبوط تعلق کے قیام اور خود سازی کے سلسلے میں مثبت کردار رکھتے ہیں اور انسان کو پاکیزگی، اصلاح اور کمال کی جانب اسکی صحیح اور ثابت قدمی کے ساتھ حرکت کیلئے زیادہ سے زیادہ تیار کرتے ہیںلہٰذا دعائے کمیل کے الفاظ ہیں کہ :

اَللّٰهُمَّ اِغْفِرْلِیَ الذُّنُوبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعاٰ

بارِ الٰہا! میرے ان گناہوں کو بخش دے، جو دعائوں کی قبولیت اور ان کی تاثیر میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔

اسی طرح ماہِ رمضان کی دعائوں اور ان کے علاوہ پڑھی جانے والی دعائوں میں ہم اکثر فکر و عمل کی پاکیزگی، گناہ اور گمراہی سے پرہیزاور ہر قسم کی برائیوں اور نجاستوں سے دوری طلب کرتے ہیں اور کلی طور پر دعائوں کے مضامین خودسازی کا رجحان لئے ہوتے ہیں۔

مثلاً ماہِ رمضان کی صبحوں میں پڑھی جانے والی دعا ”دعائے ابوحمزہ ثمالی“ کا ہر جملہ تہذیبِ نفس، اصلاحِ کردار اور صفائے باطن کا ایک مکتب ہےمثلاً اس دعا کے ایک حصے میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

اَللّٰهُمَّ طَهِّرْقَلْبِی مِنَ النِّفاٰقِ، وَ عَمَلِی مِنَ الرِّیاٰءِ، وَلِساٰنِی مِنَ الْکِذْبِ، وَ عَیْنِی مِنَ الْخِیاٰنَةِ

بارِ الٰہا! میرے دل کو نفا ق سے، میرے عمل کو ریا اور دکھاوے سے، میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک فرما۔

یہ تمام گفتگو اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آداب و شرائط کے ساتھ صحیح دعا خود سازی اور تعمیر کردار کی غرض سے رمضان کی روح سے استفادے کیلئے ایک مضبوط اور گہرا عامل ہےنیز مکتب ِ ماہِ رمضان، اپنے مختلف پہلوئوں میں، جن میں سے ایک خدا کے اس مہینے میں دعا بھی ہے پاکیزہ روح، قلب ِسلیم اور خالص نیت کی پرورش و نشوونما کیلئے ایک عالی ترین مکتب ہے۔

ہمیں اہلِ بیت ؑسے دعا کا سلیقہ اور بارگاہ ِالٰہی میں التماس کا ڈھنگ سیکھنا چاہئےدعا کے بنیادی اراکین میں سے ایک رکن یہ بھی ہے کہ ہماری دعائیں معقول، مناسب، پُرمعنی اور صحیح اور جچے تلے اصولوں کی بنیاد پر ہوں۔

پیغمبرؐ اورائمہ اطہار ؑ سے نقل ہونے والی، یا قرآنِ مجید میں نظر آنے والی دعائیں وضاحت کے ساتھ ہمیں اس بات کی تعلیم دیتی ہیں کہ دعائوں کے مضامین کو اعلیٰ معنی اور گہرائی کا حامل ہونا چاہیےمثال کے طور پربطل توحید حضرت ابراہیم خلیل اللہ(علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادوں کی تجدید کے بعد چند دعائیں کیں، جنہیں قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہےانہوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا:

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمًَّ مُّسْلِمًَ لَّکَ وَ اَرِنَامَنَا سِکَنَا وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُرَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلاً مِّنْهُمْ یَتْلُوْاعَلَیْهِمْ اٰیٰتِکَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمََ وَیُزَ کِّیْهِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ

پروردگار! ہماری محنت کو قبول فرما لے، کہ تو بہترین سننے والا اور جاننے والا ہےپروردگار! ہم دونوں کو اپنا مسلمان اور فرمانبردار قرار دیدے، اورہماری اولاد میں بھی ایک فرمانبردار امت پیدا کرہمیں ہمارے مناسک دکھلا دے، اور ہماری تو بہ قبول فرما کہ تو بہترین توبہ قبول کرنے والامہربان ہےپروردگار! ان کے درمیان ایک رسول کومبعوث فرما جو، ان کے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائےبے شک تو صاحب ِعزت اور صاحب ِ حکمت ہے( سورہ بقرہ ۲آیت ۱۲۷تا۱۲۹)

رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَاٰ مِنًاوَّاجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَرَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًامِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّه مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ رَبَّنَآ اِنِّیْ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍغَیْرِذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوَ فَاجْعَلْ اَفْئِدًَ مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْ اِلَیْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْکُرُوْنَرَبَّنَآ اِنَّکَ تَعْلَمُ مَانُخْفِیْ وَ مَانُعْلِنُ وَمَایَخْفٰی عَلَی اللّٰهِ مِنْ شَیْ ءٍ فَی الْاَرْضِ وَلاَ فِی السَّمَآءِ

پروردگار! اس شہر کو محفوظ بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائے رکھ، پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے، تو اب جو میرا اتباع کرے گا وہ مجھ سے ہو گا، اور جو میری معصیت کرے گا، اسکے لئے تو بڑا بخشنے والا اور مہربان ہےپروردگار! میں نے اپنی ذرّیت میں سے بعض کو تیرے محترم مکان کے قریب بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ دیا ہے، تاکہ نمازیں قائم کریںاب تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف موڑ دے اور انہیں پھلوں کا رزق عطا فرما، تاکہ وہ تیرے شکرگزار بندے بن جائیںپروردگار! ہم جس بات کا اعلان کرتے ہیں، یا جس کو چھپاتے ہیں، تو اس سب سے باخبر ہے اور اللہ پر زمین و آسمان میں کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی( سورہ ابراہیم ۱۴آیت ۳۵تا۳۸)

مدرسہ دعا کے تین اہم سبق

دعا اور خدا وندِ عالم سے التماس و استدعا، جسے ماہِ رمضان کے پروگرام کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور جو رمضان اور روزے کے مفہوم کی تکوین میں بنیادی کردار کی حامل ہے، وہ بارگاہِ الٰہی میں فقط حاجات و ضروریات کے پورا ہونےکی درخواست کا نام نہیں ہے، بلکہ اسکے تین پہلو ہیںواضح الفاظ میں عرض ہے کہ ہمیں مکتب ِ دعا سے تین عظیم اوراہم ترین سبق حاصل کرنے چاہئے، اور دعا کرے ہوئے ہمیں ان تینوں پر گہر ی توجہ رکھنی چاہئے۔

٭ دعا بلائوں کی دوری اور حاجات کی قبولیت کا ذریعہ ہےجیسا کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے ایک کلام میں فرمایا:

اِدْفَعوُااَمْوَاجَ الْبَلاءِ عَنْکُمْ بِالدُّعاٰءِ قَبْلَ وُرودِ الْبَلاءِ

بلائوں کے طوفان کو آنے سے پہلے، دعا کے ذریعے اپنے آپ سے دور کر دو( بحار الانوارج ۱۳ص ۲۸۹(

٭دعا کے ساتھ نالہ و فریاد، خضوع و خشوع اور راز و نیاز ہوتا ہےاور یہ خصوصیت انسان کے غرور کو توڑتی ہے اور قلب کو معنوی نعمتوں کی قبولیت کیلئے تیار کرتی ہےاسکے نتیجے میں دلی سکون، قوتِ قلب اور عالی ہمتی انسان کو ملتی ہےخداوند ِعالم کا قول ہے :

اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَّ خُفْیًَ

تم اپنے رب کو گڑگڑا کر اور خاموشی کے ساتھ پکاروسورہ اعراف۷آیت ۵۵

٭ان سب سے اہم ترین چیز پیغمبر اسلامؐ اورائمہ معصومین ؑسے منقول دعائوں کے بلند معارف اور گہرے اور پُر معنی نکات سے مالا مال مضامین کی جانب ہمار ی توجہ ہے، جو درحقیقت انسان سازی کی عظیم درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیںمثال کے طور پر صحیفہ ٔ سجادیہ کی پہلی دعا اور اسی طرح نہج البلاغہ کا پہلا خطبہ، دونوں میں یکساں طور سے عالی ترین سطح پر معارف ِاسلامی کو بیان کیا گیا ہے اور معارف اور حقیقی عرفان کے سود مند ترین درس ہمیں دیئے گئے ہیں۔

دعائوں کے مضامین پر گہرا غور و فکر انسان کی معلومات اور معرفت کی سطح بلند کرنے کا باعث ہے اورعالی درجہ تعمیری اور تکامل بخش مفاہیم و اقدار، جن میں سرِ فہرست توحید اور اسکے مختلف پہلو ہیں، کے بارے میں انسان کی شناخت و معرفت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

کچھ لوگوں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: ہم دعا کرتے ہیں لیکن وہ قبول نہیں ہوتی، اسکی کیا وجہ ہے؟ امام ؑنے انہیں جواب دیا :

لِاَنَّکُمْ تَدْعوُنَ مَنْ لاٰتَعْرِفوُنَهُ

وجہ یہ ہے کہ تم ایسی ہستی کو پکارتے ہو، جس کی معرفت نہیں رکھتے(بحار الانوار۔ ج ۹۳۔ ص۳۶۸)

یعنی دعا کرتے ہوئے خدا کی معرفت و شناخت اور اصولِ تکامل پر بھی توجہ ہونی چاہئے۔
روزے کے وجوب کا فلسفہ
خداوند ِحکیم نے انسان کو آزاداور خود مختار خلق کیا ہے، اسے خیر و شر کے انتخاب کا اختیار دیا ہے، اور اپنے انبیاؑ کے ذریعے حق اور باطل کے راستے اس کے لئے متعین اور واضح کئے ہیں۔

ایسے لوگ جنہوں نے اﷲ رب العزت کے احکام و فرامین سے ماخوذ زندگی کی صحیح راہ قبول کی ہے، انہوں نے درحقیقت اپنی فطرت سے اٹھنے والی آواز کا مثبت جواب دیا ہے، انبیاؑ کے مکتب کی پیروی کی ہے، اوراپنے آپ کو حیوانات کی سرشت ”مطلق آزادی“ سے محفوظ رکھ کر، خدا کے مقرر کردہ فرائض اور ذمے داریوں کی قبولیت کے اعزاز سے سرفراز ہو کر، اﷲ کے اس عہد نامے پر دستخط کئے ہیں کہ :

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ اِنَّه لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌوَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ

اولادِ آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی اطاعت نہ کرنا، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے، اور میری عبادت کرنا کہ یہی صراط مستقیم اور سیدھا راستہ ہےسورہ یٰسن ۳۶- آیت ۶۰، ۶۱

آیاتِ قرآنی اوراحادیث ِمعصومین ؑسے پتا چلتا ہے کہ رُستگار اور نجات یافتہ لوگ فقط خدا پرست اورفرائضِ الٰہی کے پابند افراد ہیںجبکہ اِن کے سوا دوسرے انسان، انسانیت کے شرف و فضیلت سے محروم لوگ ہیں۔

”روزہ“ دین اسلام کے بلند اور ارفع احکام میں سے ایک حکم ہے، جو دنیا و آخرت کی سعادت، تزکیہ نفس، تعمیر کردار اور جسمانی سلامتی کا ضامن ہےجو خدا کی ایک ایسی عظیم نعمت ہے، جسے اﷲ رب العزت نے اپنے بندوں پر واجب کر کے ان پر احسان کیا ہے۔

روزہ، انسان کو گناہ سے باز رکھنے اور سرکش نفس کو سرکوب کرنے والا عامل ہےروزہ، نفس کی اصلاح، اسکی تربیت اورنفسانی خواہشات اور حیوانی غرائز کے کنٹرول میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔

ماہِ مبارک رمضان نزدیک آنے پر مردِ مسلمان اس الٰہی فریضے کی انجام دہی اور خدائی ضیافت سے استفادے کیلئے خود کوآمادہ کرتا ہے اور سب ہی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس پُر فیض اور انتہائی بابرکت مہینے سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہوں۔

ماہِ رمضان کی برکتوں بالخصوص روزے کے متعلق زیادہ سے زیادہ جاننے کے لئے ہم آیاتِ قرانی اور احادیث ِ معصومین ؑکی روشنی میں، روزے کے وجوب کے فلسفے اور حکمت کے بارے میں گفتگو کریں گےذیل میں ہم چار پہلوئوں سے روزے کے وجوب کا جائزہ لیں گے۔

۱:-معنوی اور روحانی پہلو

آیات و روایات کے مطابق، روزے کے فلسفے کا معنوی، روحانی اور اخلاقی پہلو دو رخ اور دو ابعاد سے قابل بحث و تحقیق ہے۔

الف : تقویٰ کے رخ سے

ب : بندوں کے خلوص کا امتحان

۲:-روزے کا اُخروی پہلو (قیامت کی یاد دہانی)

۳:- اجتماعی پہلو، عدالت ِ اجتماعی کے قیام کی جانب ایک قدم

۴:-جسمانی پہلو، جسم کی صحت وسلامتی

معنوی اور روحانی پہلو

آیات و روایات کے مطابق، روزے کے فلسفے کا معنوی، روحانی اوراخلاقی پہلو دو رخ اور دو ابعاد سے قابل بحث و تحقیق ہے۔

الف : تقویٰ کے رخ سے

اسلام میں تقویٰ، بنیادی اخلاقی قدر ہے اوراسے اسلامی احکام وضع کرنے کا مقصد قرار دیا گیا ہےبعض عبادات، بلکہ بنیادی طور پر بذات خود عبادت کا مقصد، یہ ہے کہ انسان عبادی اعمال کی انجامدہی کے ذریعے متقی بنیں۔

خداوندِ عالم، قرآنِ مجید میں فرماتا ہے کہ :

یٰاَ یُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ

اے ایمان والو! تم پر روزے اسی طرح فرض کر دیئے گئے ہیں، جس طرح تمہارے پہلے والوں پر فرض کئے گئے تھے، شاید تم اسی طرح متقی بن جائوسورہ بقرہ ۲- آیت ۱۸۳

یہ آیہ شریفہ، اس انسان ساز عبادت کا فلسفہ، ایک مختصر لیکن انتہائی پُر معنی جملے ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ (شاید تم اسی طرح متقی بن جائو) میں بیان کرتی ہے۔

روزہ، انسانی زندگی کے تمام میدانوں اور تمام پہلوئوں میں، تقویٰ اور پرہیز گاری کی روح کی پرورش کا ایک موثر عامل ہے۔

روزہ، مختلف رخ اور جہات رکھتا ہے، جن میں سے سب سے اہم ترین اسکا معنوی، اخلاقی اور تربیتی پہلو ہےروزہ انسان کی روح اور ارادے کو قوی کرتا ہے اوراسکی نفسانی خواہشات کو متوازن بناتا ہے۔

روزہ دار کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ روزے کی حالت میں کھانے پینے اور اسی طرح جنسی لذت سے پرہیز کرے اورعملاً یہ بات ثابت کرے کہ وہ حیوان نہیں ہے جواپنی خواہشات کی تسکین کیلئے اِدہر اُدہر منھ مارتا پھرتا ہےبلکہ وہ اپنے سرکش نفس کو لگام دے سکتا ہے، اور اپنی نفسانی خواہشات پر غلبہ پا سکتا ہےدرحقیقت روزے کا سب سے بڑا مقصد، اسکا یہی روحانی اور معنوی اثر ہے۔

ایسے انسان جو طرح طرح کی لذیذ غذائوں اور ٹھنڈے میٹھے مشروبات تک دسترس رکھتے ہیں، اور جوں ہی انہیں بھوک یا پیاس محسوس ہوتی ہے، بے دریغ ان اشیا سے استفادہ کرتے ہیں، وہ نہروں کے کنارے اگنے والے درختوں کی طرح ہیںناز و نعم میں پرورش پانے والے یہ درخت ذرا سی سختی پر پژمردہ ہو جاتے ہیں اگر انہیں صرف چند دن پانی نہ ملے تو مرجھا کر خشک ہو جاتے ہیںلیکن صحرائوں، سنگلاخ پہاڑوں اور خشک میدانی علاقوں میں اگنے والے درخت جو ابتدا ہی سے جلتے سورج، تیز وتند ہوائوں اور سخت سردیوں کا سامنے کرتے ہیں اور طرح طرح کی محرومیوں کے ساتھ نشو و نما پاتے ہیں، وہ مضبوط، سخت جان اور دیر تک قائم رہنے والے ہوتے ہیں۔

روزہ بھی انسان کی روح کے ساتھ یہی عمل انجام دیتا ہےاور وقتی اور عارضی پابندیوں کے ذریعے اسے سخت کوش اور مضبوط قوت ِارادی کا مالک بناتا ہے، اوراسے مشکلات کے خلاف مقابلے کی طاقت فراہم کرتا ہے اور سرکش خواہشاتِ نفسانی کوکنٹرول کرکے انسانی قلب کو نور اور پاکیزگی بخشتا ہے۔

روزہ، ایک انتہائی اہم عبادت ہےاگر مخصوص آداب و شرائط کے ساتھ، اور جس طرح اللہ رب العزت چاہتا ہے اُس طرح انجام پائے تو تعمیر کردار اور تزکیہ و تہذیب ِنفس کے سلسلے میں بہت زیادہ تاثیر کاحامل ہے۔

روزہ، انسانی نفس کو گناہوں اوراخلاقِ بد سے پاک کرنے اور اسے معنوی و انسانی ارتقا اور نشو و نما کے لئے آمادہ کرنے کے سلسلے میں بنیادی کردار کا حامل ہے۔

روزہ رکھنے والا انسان گناہوں کو ترک کرنے کے ذریعے، نفس امارہ کو لگام دے کر، اسے کنٹرول کر کے، اپنے اختیار میں لیتا ہے۔

روزہ داری کے ایام، گناہوں کو ترک کرنے اور ریاضت ِ نفس کا زمانہ ہیں، جہاد بالنفس اور پرہیز گاری کی مشق کادور ہیں اس زمانے میں انسان اپنے نفس کو گناہوں اور غلاظتوں سے پاک کرنے کے علاوہ جائز لذتوں، جیسے کھانے پینے سے بھی اجتناب برتتا ہے اور اس عمل کے ذریعے اپنے نفس کو جِلا اور نورانیت بخشتا ہےکیونکہ بھوک باطن کی جِلا اور خدا کی جانب توجہ کا باعث ہوتی ہےانسان اکثر بھوک کے عالم میں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے، جبکہ پیٹ بھرا ہونے کی صورت میں، وہ اس کیفیت سے عاری ہوتا ہے۔

اسلام نے پُرخوری کی مذمت کی ہے اور انسان کو کم خوری کی تاکید کی ہےکیونکہ انسان شکم سیری کی حالت میں دعا و مناجات کی لذت نہیں اٹھا پاتاجبکہ بھوک کی حالت میں عبادات و مناجات میں زیادہ لذت محسوس کرتا ہے۔

رسولِ مقبول صلی اﷲ علیہ و الہ وسلم کا ارشاد ہے:

لاتشبعوا فیطفی نورالمعرفة من قلوبکم

پُرخوری نہ کرو، کیونکہ اس سے تمہارے قلب میں معرفت کا نوربجھ جاتا ہے(مستدرک الوسائل – ج ۳- ص ۸۱)

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے:

نعم العون علی اسرالنفس و کسرعا دتها التجوع

بھوک، نفس کی بہترین مددگار اور اسکی عادتوں کا خاتمہ کرتی ہے(حوالہ سابق)

حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے کہ: خداوند ِعالم نے شب ِمعراج رسول اﷲ (صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) سے فرمایا:

یا احمد! لوذقت حلاوةالجوع، والصمت، والخلوة، وماورثوامنها قال:یارب!ما میراث الجوع؟ قال: الحکمة، وحفظ القلب، والتقرب التی، والحزن الدائم، وخفّة بین الناس، و قول الحق، ولا یبالی عاش بیسر او بعسر

اے احمد! کاش آپ بھوک، خاموشی، تنہائی اور ان کے آثار کی مٹھاس کو چکھتےرسول اﷲ ؐنے عرض کیا : بارِالٰہا! بھوک کا فائدہ کیا ہے؟ فرمایا: حکمت، قلب کی حفاظت، میرا تقرب، دائمی حزن، کم خرچی، حق گوئی اور سختی میں ہو یا آسانی میں بیباکیمستدرک الوسائل۔ ج۳۔ ص۸۲

علامہ محمد حسین طباطبائی ؒ آیہ شریفہ ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ (سورہ بقرہ۲- آیت ۱۸۳) کی تفسیر میں فرماتے ہیں :اسلام کی تعلیمات ِعالیہ اور اسکے بیانات ِوافیہ سے پتا چلتا ہے کہ پاک پروردگار کی ذات اس بات سے منزہ ہے کہ اسے کسی چیز کی احتیاج و نیاز ہواوروہ ہر قسم کے نقص اور کمی سے مبرا ہےپس عبادات کا فائدہ صرف اور صرف بندے کوہوتا ہے، خدا کونہیں، اور گناہوں کا بھی یہی حال ہےخداوندِ عالم قرآنِ مجید میں فرماتا ہے: اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَ نْفُسِکُمْ وَاِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا (اب تم نیک عمل کرو گے، تواپنے لئے اور بُرا کرو گے، تو اپنے لئےسورہ بنی اسرائیل ۱۷- آیت ۷)

پس اطاعت یا معصیت کے اثرا ت خود انسان پر عائد ہوتے ہیں جو صرف اور صرف نیاز اور تہیدستی کی خصوصیت کا حامل ہے: یٰاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَی ﷲِ وَاللّٰهُ هُوَا لْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (اے انسانو! تم سب بارگاہِ الٰہی کے فقیر ہو، اور اﷲ صاحب ِ دولت اور قابلِ حمد و ثنا ہے سورہ فاطر ۳۵- آیت ۱۵)

روزے کے بارے میں ارشادِ الٰہی ہے ”لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ“ یعنی یہ حکم اس لئے وضع کیا گیا ہے کہ تم پرہیز گار بن جائو، اس لئے نہیں کہ پروردگار کو تمہارے روزے کی ضرورت ہے۔

البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ روزے کے ذریعے حصولِ تقویٰ کی امید کی جا سکتی ہےکیونکہ انسان فطرتاً یہ بات محسوس کرتا ہے کہ اگر کوئی عالمِ طہارت اور قدس سے تعلق پیدا کرنا چاہے اور کمال و روحانیت کے مرتبے پر پہنچنے کا خواہشمند ہو اور چاہتا ہو کہ معنوی ارتقا کے درجات طے کرے، تواس کے لئے سب سے پہلے جو چیز ضروری ہے، وہ یہ ہے کہ وہ بے لگامی اور خواہشات ِنفسانی سے پرہیز کرے، سرکش نفس کو کنٹرول کرے اور اسے بے لگام ہو کر جہاں دل چاہے منھ مارنے کی اجازت نہ دے، مادی زندگی کے مظاہر میں ڈوب جانے اور انہی سے دل لگانے سے خود کو پاک رکھے۔

مختصر یہ کہ جو چیز اسکے اور خدا کے درمیان رکاوٹ ہو، اس سے دور رہےاور یہ تقویٰ شہوتوں پر قابو پانے اور نفسانی خواہشات سے دور رہنے کے ذریعے حاصل ہوتا ہےاورجوچیز عام لوگوں کے حال سے مناسب ہے، وہ یہ ہے کہ جن امور کی تمام ہی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے، جیسے کھانا پینا اور جائز شہوات کی جانب میلان، تو ان پر کنٹرول سے کام لیں، تاکہ اس مشق کے ذریعے انہیں قوتِ ارادی حاصل ہو، اور ناجائز نفسانی خواہشات سے بھی دور رہ سکیں اور تقربِ الٰہی کی سمت بڑھیںکیونکہ جوشخص جائز اور مباح امور(کو چھوڑنے کے سلسلے) میں خدا کی بات مانتا ہے وہ ناجائز اور حرام امور (کو چھوڑنے کے سلسلے) میں اسکی بہتر اطاعت اور فرمانبرداری قبول کرے گا(تفسیر المیزان ج ۳۔ ص۹)

ایسا شخص جو ماہِ رمضان میں روزے رکھے، اور اس ایک مہینے میں ارتکاب ِگناہ اور برے اخلاق و کردار سے اجتناب کرے، وہ ماہِ مبارکِ رمضان کے بعد بھی ترکِ گناہ اور اخلاقِ بد سے پرہیز کی اس حالت کو باقی رکھ سکتا ہے۔

روزہ، ایک ایسی عبادت ہے جس میں جائز لذتوں کو چھوڑنے اور گناہوں سے دوری کی باعث، روزہ دار شخص کا دل پاک ہو جاتا ہے اوروہ خدا کے سوا کسی اور کے ذکر اور فکر سے آزاد رہتا ہے۔

روزے کا اہم ترین فلسفہ تقویٰ کا حصول ہےاخلاقی خوبیوں اور انسانی خصلتوں کا حصول، خدا کی طرف سے واجب کئے گئے اس حکم کا لازمہ ہےکیونکہ (روزے کے عبادت ہونے سے قطع نظر) بھوک انسان کو ان میلانات اور کششوں سے بازرکھتی ہے جو اسے سرکشی اور گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں اور اسکے اندر انسانی خُلق وخُو کو زندہ کرتی ہےلہٰذا تقویٰ، اپنی اصلاح کرنے والے انسان کی بلند ترین خصوصیت ہے۔

تقویٰ کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے :

فَاءِنَّ تَقْوَیٰ ﷲِ دَوَاُ دَاءِ قُلُوبِکُمْ، وَ بَصَرُ عَمَیٰ أَ فْئِدَتِکُمْ، وَشِفَاءَ مَرَضِآ اَجْسَادِکُمْوَصَلَاحُ فَسَادِ صُدُورِکُمْ، وَطُهُورُ دَنَسِ أَنْفُسِکُمْ، وَ جِلَاءُ غَشَاءِ أَبْصَارِکُمْ، وَأَمْنُ فَزَعِ جَأْشِکُمْ، وَ ضِیَائُ سَوَادِ ظُلْمَتِکُمْ

بے شک تقویٰ تمہارے قلوب کی بیماری کی شفا بخش دوا، فکر و شعور کی تاریکیوں کے لئے اجالا، جسموں کی بیماریوں کے لئے شفا، سینے کی تباہ کاریوں کے لئے اصلاح، نفس کی کثافتوں کے لئے پاکیزگی، آنکھوں کی تیرگی کے لئے نور، دل کی دہشت کے لئے ڈھارس اور جہالت کے اندھیروں کے لئے روشنی ہے(نہج البلاغہ – خطبہ ۱۹۶)

ب : بندوں کے خلوص کا امتحان

اخلاص کا شمار، معنوی ارتقا و کمال کے اعلیٰ ترین مراحل میں ہوتا ہےاخلاص کے اثر سے قلب نورِ الٰہی کی ضیا پاشیوں کا مرکز بن جاتا ہے اور حکمت و دانش، دل سے نکل کر زبان پر جاری ہو جاتے ہیں۔

حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ہے : فَرَضَ اللّٰهُ وَ الصِّیَامَ اَبْتِلَاءً لِا خْلَاصِ اَلْخَلْقِ (اﷲ نے روزہ واجب کیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے لوگوں کا اخلاص آزمائےنہج البلاغہ – کلمات قصار ۲۵۲)

حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے معروف خطبہ فدک میں ہے کہ :۔۔۔ فرض ﷲ الصیام تثبیتاً للاخلاص (خداوندِ عالم نے اخلاص کے ثبوت کیلئے روزہ واجب کیا ہےبحارالانوار – ج ۹۳- ص ۳۶۸)

ان روایات سے، روزے اور اخلاص کے درمیان پائے جانے والے ایک خاص تعلق کاپتا چلتا ہےبندوں کا اخلاص جانچنے کی خاطر روزہ واجب کرنا، اخلاص کی اہمیت کی بھی علامت ہے۔

ایسا انسان جو نفسانی خواہشات سے پرہیز کرتا ہے اور ایک ماہ کے عرصے پر محیط ایک خاص زمانے میں، اپنے آپ کو فقہی اور اخلاقی احکامات ملحوظ رکھنے کا پابند بناتا ہے، اگر اسکے اعمال اخلاص کے ساتھ نہ ہوں تو وہ کسی خاص معنوی قدر و قیمت کے حامل نہیں ہوں گے۔

لہٰذا ایک ایسا انسان جو روزے کی سختیاں اور مشکلات برداشت کرتا ہے، اسے اخلاص کا مالک ہونا چاہئےیعنی اسکے اعمال صرف اور صرف خدا کی رضا اور خوشنودی کے لئے ہونے چاہئیں۔

احادیث میں ملتا ہے کہ اس عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں جس میں اخلاص نہ ہوحتیٰ روزہ بھی جو اس قدر اہمیت اور فضیلت رکھتا ہے کہ خدا کو مطلوب ہے اور اسکے بارے میں خود خداوند ِ عالم نے فرمایا ہے کہ : الصوم لی وانا اجزی بہ (روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اسکی پاداش دیتا ہوںوسائل الشیعہ – ج۷- ص ۲۹۲)

وہی عبادت درگاہِ خداوندی میں قبولیت کا شرف پاتی ہے اور قرب و کمال کا سبب بنتی ہے جو ہر قسم کے دکھاوے، خود پسندی اور خود نمائی سے پاک ہو اور جسے صرف اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کے لئے انجام دیا گیا ہو۔

اخلاص، عمل کی قدر وقیمت اور قبولیت کا پیمانہ ہےجس قدر اخلاص زیادہ ہو گا، اُسی قدر عمل بھی مکمل ہو گا۔

درحقیقت تقویٰ کے حصول کی شرط ”اخلاص“ ہےاور یہ تو آپ جان ہی چکے ہیں کہ روزے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہےاگر کوئی شخص ماہ ِرمضان کی عبادتوں کو اخلاص کے ساتھ انجام دے، تو اس نے خداوندِ عالم کا حقیقی مہمان بن کر قرب ِالٰہی کے مقام اور معنوی و اخلاقی مقامات حاصل کر لئے ہیں۔

۲:-روزے کا اُخروی پہلو (قیامت کی یاد دہانی)
روزے کے واجب کئے جانے کا دوسرا قابلِ بحث وگفتگو پہلو، اسکا اُخروی پہلو ہےجو دراصل قیامت کے دن کی یاد دلانا ہےیعنی جو انسان روزہ رکھ کر بھوک اور پیاس کی سختیاں برداشت کرتا ہے، اسے روزِ قیامت کی بھوک اور پیاس کا خیال آتا ہے۔ قیامت کے دن کی سختیوں کی جانب اس کا یوں متوجہ ہونا، اسکے کردار اور عمل پر قابلِ لحاظ اثر مرتب کرتا ہے۔

اگر انسان اپنے اعمال و کردار کی جانب متوجہ رہے، خود کو وعظ و نصیحت کرتا رہے اور ہمیشہ یہ خیال اسکے دل میں رہے کہ اسے ایک دن اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے، اسکی ایک ایک حرکت اور ایک ایک سکوت کا حساب دینا ہے، تو اسکا یہ احساس اسکے مزاج اور اخلاق پر نہایت مثبت اثرات مرتب کرے گاجس کے نتیجے میں وہ بارگاہِ الٰہی سے زیادہ سے زیادہ اجر وثواب کا حقدار بن جائے گا۔

حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:

فان قال:فلم امروابالصوم؟ قیل لکی یعرفواالم الجوع، والعطش، فیستد لواعلی فقر الاٰخرة، ولیکون الصائم خاشعًا ذلیلاً مستکینًا ماجورًا محتسبًا، عارفًاصابرًالما اصابه من الجوع والعطش، فیستوجب الثوابمع مافیه من الانکسار عن الشهوات، و لیکون ذٰلک واعظًالهم فی العاجل، ورائضًا لهم علی اداء ما کلّفهم و دلیلاًلهم فی الاٰجل، ولیعرفواشدّة مبلغ ذٰلک علی اهل الفقروا لمسکنة فی الدّنیا، فیودّوا الیهم ما افترض ﷲتعالیٰ لهم فی اموالهم(بحارالانوار – ج ۹۳- ص ۳۶۹)

اگر کوئی پوچھے کہ روزے کا حکم کیوں دیا گیا ہے؟ تواسکا جواب یہ ہے: تاکہ انہیں معلوم ہوکہ بھوک اور پیاس کی تکلیف کیا ہوتی ہے، اور اس ذریعے سے وہ آخرت کے فقروفاقے کو محسوس کریں، نیز (اس کے ذریعے) ان میں خضوع وخشوع اور فروتنی پیدا ہو اور وہ اسکا اجر حاصل کریں، اور یہ سمجھیں کہ ان کا اجر خدا کے پاس ہے، انہیں خدا کی معرفت حاصل ہو، انہیں بھوک اور پیاس سے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کریں، تاکہ ثواب کے مستحق قرار پائیںاس کے ساتھ ساتھ (روزے کے ذریعے) ان میں موجود خواہشاتِ نفسانی کمزور ہوں، (روزہ) دنیا میں ان کیلئے وعظ و نصیحت کا موجب ہو اور فریضے کی انجامدہی کے لئے ایک مشق ہو، اور آخرت میں ان کے لئے رہنما ہو اورانہیں معلوم ہو کہ دنیا میں فقراو مساکین کس مشکل کا سامنا کرتے ہیں۔ خدا نے ان کے اموال میں فقرا ومساکین کا جو حق واجب کیا ہے وہ انہیں ادا کریں۔

یہ حدیث، جس میں امام رضا علیہ السلام نے روزے کے واجب ہونے کا فلسفہ بیان فرمایا ہے، اس میں روزے کے اُخروی پہلو، یعنی روزِ قیامت کی بھوک اور پیاس کی یاد دہانی کے علاوہ فقرا اور مساکین کی مشکلات کی جانب توجہ کابھی ذکر ہےجس کا تعلق روزے کے اجتماعی پہلو سے ہے، جس پر آئندہ سطور میں ہم روشنی ڈالیں گے۔

ایک دوسرے مقام پر امام رضا علیہ السلام ہی نے ارشاد فرمایا ہے کہ :

انما امروا بالصوم لکی یعرفوا الم الجوع والعطش فیستدلوا علی فقر الآخرة

لوگوں کو روزے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ وہ بھوک اور پیاس کو محسوس کریں، اور اس کے توسط سے آخرت کے فقر اور بے چارگی کو درک کریں( من لایحضرا لفقیہ ج ۲ص ۴۳)

پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے، خطبہ شعبانیہ میں فرمایا ہے :

وذکروا بجوعکم وعطشکم جوع یوم القیامۃ وعطشہ۔

اور روزے میں تمہاری بھوک اور پیاس کے ذریعے تمہیں قیامت کی بھوک اور پیاس یاد دلائے( بحار الانوارج ۹۶ص ۳۵۶)

اس باب میں بیان ہونے والی روایات سے مجموعاً جو بات سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان کو روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس برداشت کرا کے، اسے آخرت کی جانب متوجہ کیا جائے اور ایسا انسان جوروزے کی سختیاں اور مشکلات برداشت کرتا ہے، وہ اس موقع پر قیامت کے دن کے فقر اور مشکلات کی جانب متوجہ ہو۔
۳:- اجتماعی پہلو‘ عدالت ِ اجتماعی کے قیام کی جانب ایک قدم
روزے کا اجتماعی پہلو کسی سے پوشیدہ نہیںروزہ افرادِ معاشرہ کے درمیان مساوات اور برابری کا ایک درس ہےروزہ رکھ کر صاحب ِحیثیت افراد بھی معاشرے میں زندگی بسر کرنے والے بھوکے اور نادار افراد کی کیفیت محسوس کرتے ہیں، اور اپنی شبانہ روز کی خوراک میں کفایت شعاری کے ذریعے ان کی مدد کا اہتمام کر سکتے ہیں۔

البتہ بھوکے اور نادار افراد کی حالت بیان کر کے بھی شکم سیر افراد کو ان کے حال کی جانب متوجہ کیا جاسکتا ہےلیکن اگر یہ مسئلہ حسی اور عینی پہلو حاصل کر لے تو اسکا اثربڑھ جاتا ہےروزہ اس اہم سماجی مسئلے کو حسی رنگ دیتا ہےلہٰذا امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ایک معروف روایت میں آیا ہے کہ جب آپ ؑسے روزے کے وجوب کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ ؑ نے فرمایا :

اما العلة فی الصیام لیستوی به الغنی والفقیر، و ذٰلک لانّ الغنّی لم یکن لیجد مسّ الجوع، فیرحم الفقیر، لاّن الغنّی کلّما اراد شیئا قدر علیه، فاراد اﷲعزّوجلّ ان یستوی بین خلقه، و ان یذیق الغنیّ مسّ الجوع والالم، لیرقّ علی الضّعیف و یرحم الجائع

روزہ اس وجہ سے واجب کیا گیا ہے، تاکہ اسکے ذریعے امیر اور غریب برابر ہوجائیںکیونکہ دولت مند افراد نے بھوک کا ذائقہ نہیں چکھا ہوتاکہ (جس کے زیرِ اثر) وہ غریبوں پر رحم کریںکیونکہ دولت مندوں کے لئے ہر وہ چیز فراہم ہو جاتی ہے جو وہ چاہتے ہیںلہٰذا خدا نے چاہا کہ اپنے بندوں کے درمیان مساوات پیداکرے، اورصاحبانِ مال ودولت کو بھی بھوک اور اس کے درد و رنج کا ذائقہ چکھائے، تاکہ وہ کمزور و لاچارافراد پر مہربانی اور بھوکوں پر رحم کریں( بحارالانوار۔ ج ۹۶ص ۳۷۱)

حمزہ بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں تحریر کیا کہ: خداوندِ عزوجل نے روزہ کیوں فرض کیا ہے؟ اس کے جواب میں امام ؑنے مجھے تحریر کیا کہ : لیجد الغنیّ مسّ الجوع فیمنّ علی الفقیر (تاکہ صاحبانِ دولت بھوک کا مزہ چکھیں اورفقیر پر احسان کریں۔ بحارالانوار۔ ج۹۶۔ ۳۶۹)

ان روایات کے مجموعی مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ روزے کے وجوب کی وجوہ میں سے ایک وجہ، عدالت ِ اجتماعی کے قیام کے سلسلے میں ا قدام ہےتاکہ دولت مند اور صاحب ِ حیثیت افرادروزے کے ذریعے محروم اور مفلس افراد کی بھوک، غربت اور بے چارگی کا درد محسوس کریں اور فقرا اورمساکین کی مدد کریں۔

معاشرے میں بھوکے، غریب اور محتاج افراد ایک کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں، جبکہ دولت مند اور صاحب ِ ثروت افراد کی بھی کمی نہیں، کتنا اچھا ہو کہ دولت مند افراد، ماہِ مبارک رمضان میں محروم اور فقیر افراد کی فکر کریں، اور معاشرے میں عدلِ اجتماعی کے قیام کے لئے ایک قدم اٹھائیں اور حتیٰ الامکان ان لوگوں کی مدد کریں۔

ذرا بتایئے اگر دولت مند ممالک کے لوگ، سال کے صرف چند دن روزہ رکھ لیں اور بھوک کا مزہ چکھیں توکیا پھر بھی دنیا میں بھوک و افلاس باقی رہ سکتاہے؟
۴:-جسمانی پہلو‘ جسم کی صحت وسلامتی
آج اور اسی طرح قدیم طب میں بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں ”امساک“ کا معجزآسا اثر ثابت شدہ ہےبہت سی بیماریوں کی اصل وجہ حد سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانا ہےکیونکہ جسم کا حصہ نہ بننے والا اضافی غذائی مواد، بدن کے مختلف حصوں میں مزاحم چربی کی صورت میں، یا خون میں اضافی شوگر، یا کولیسٹرول کی شکل میں باقی رہ جاتا ہےیہ اضافی مواد، بدن کے مختلف حصوں میں دراصل مختلف جراثیم اور متعدی بیماریوں کی نشو و نما کے لئے بدبودار کیچڑ کی سی حیثیت رکھتا ہےان بیماریوں سے مقابلے کا بہترین راستہ، امساک (Control)اور روزے کے ذریعے اس کیچڑ کو بدن سے ختم کرنا ہے۔

روزہ اس کوڑے، اور بدن میں جذب نہ ہونے والے اضافی مواد کو جلا کردرحقیقت بدن کو جھاڑ پونچھ دیتا ہے۔

روزہ، نظامِ ہضم کے لئے ایک طرح کا آرام (Rest) اور اسکی سروس اور مرمت کاموثر عامل ہےکیونکہ یہ نظام سال بھر مستقل مصروف ِکار رہتا ہے، لہٰذا اس کیلئے یہ آرام ضروری ہے۔

اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ اسلام، روزہ دار انسان کو سحر اور افطار میں حد سے زیادہ کھانے پینے سے گریز کا حکم دیتاہےتاکہ جسمانی صحت وسلامتی کے سلسلے میں روزہ اپنا مکمل اثر دکھائےبصورتِ دیگر ممکن ہے اسکا بالکل الٹا نتیجہ برآمد ہو۔

پیغمبر اسلامؐ کی ایک معروف حدیث ہے: صوموا تصحوا (روزہ رکھو تاکہ تندرست ر ہوبحار الانوار – ج ۹۶- ص ۲۵۵)

ایک دوسرے مقام پر پیغمبر اسلام ؐفرماتے ہیں: المعدة بیت کل داء والحمیة راس کل داء (معدہ تمام بیماریوں کا گھر، اور امساک سب سے بہترین علاج ہے)

لہٰذا روزہ جسمانی صحت اور معدے کو آرام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہےبالخصوص سال میں ایک مہینے کے روزے، ان لوگوں کی صحت و سلامتی کے لئے بہت مفید ہوتے ہیں، جو پُرخوری کے عادی ہوں۔

روم سے تعلق رکھنے والے ایک عالم کے مطابق : سب سے پہلی بیماری کا تعلق پُرخوری سے ہے اور پہلا علاج بھی کھانے پینے سے پرہیز ہےاسی بات کو آج سے چودہ سو برس قبل، اسلام کے عظیم پیشوا، حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے وحی سے الٰہام لیتے ہوئے، دنیائے انسانیت کے سامنے، ان الفاظ میں بیان کر دیا تھا کہ: المعدة بیت کل داء و الحمیة راس کل داء۔

امریکہ سے تعلق رکھنے والا ”ڈاکٹر کارلو“ لکھتا ہے: بیمار شخص کو چاہئے کہ ہر سال کچھ عرصے کیلئے کھانے پینے سے پرہیز کرے، کیونکہ جب تک غذا جسم کو ملتی رہتی ہے، میکروب نشو و نما پاتے رہتے ہیںلیکن جب انسان کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے تو میکروب کمزور پڑنے لگتے ہیںوہ مزید کہتا ہے کہ: روزہ جسے اسلام نے واجب کیا ہے وہ جسم کی سلامتی کا سب سے بڑا ضامن ہے(تفسیر نمونہج۱ص ۶۳۲)

کتاب ”طب النبی ؐ“ میں پیغمبر اسلام ؐسے ایک حدیث نقل کی گئی ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:

لاتمیتوا القلب بکثرة الطعام والشراب، فان القلب یموت کا لزرع اذا کثر علیه الماء

اپنے دلوں کو زیادہ کھانے اور زیادہ پینے کے ذریعے نہ مارو، کیونکہ ایسے شخص کا دل (جس کا معدہ کھانے پینے کی اشیا سے بھرا ہوا ہو) مر جاتا ہےاس کھیتی کی مانند، کہ جب اس میں حد سے زیادہ پانی آجائے تو وہ برباد ہو جاتی ہے۔

مذکورہ گفتگو سے پتا چلتا ہے کہ شاید روزے کے وجوب کا ایک سبب جسمانی صحت وسلامتی ہےالبتہ جیسا کہ ہم نے ابتدا میں عرض کیا کہ روزے کا سب سے بڑا فلسفہ تقویٰ کا حصول، تہذیب ِ نفس اور معنوی کمالات اور اخلاقی صفات سے آراستہ ہونا ہےاور ان اعلیٰ مراتب تک پہنچنے کے لئے چند مقدمات سے گزرنا لازم ہے جن میں سے ایک جسمانی صحت وسلامتی بھی ہے اور اسلام نے اس نکتے پربھی توجہ دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.