173

ماہِ رمضان کیسے گزاریں؟

کسی بھی موقِع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے متعلق بہتر انداز میں حکمت عملی بنائی جائے۔ جس طرح دنیوی معاملات میں بہتر حکمت عملی بنانے سے مقصد کو حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے، اسی طرح اخروی معاملات کے لیے بھی اگر بہتر حکمت عملی بنائی جائے اور اس پر عمل بھی کیا جائے توان شا اللہ اخروی مقصد کو پانا بھی آسان ہو جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ماہِ رمضان کی صورت میں ایک عظیم تحفہ عنایت فرمایا ہے، جسے نیکیاں کمانے کا سیزن کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ اس با برکت ماہ میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کے لیے ضروری ہے کہ مکمل حکمت عملی کے ساتھ وقت کا صحیح استعمال کیا جائے۔ اس ماہ سے بھر پور فائدہ حاصل کرنے کے لیے ذیل میں کچھ تجاویز دی جا رہی ہیں۔

1۔ روزہ ایک ایسی عظیم عبادت ہے کہ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ بندے کو خود عطا فرمائیں گے۔ لہٰذا بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ بالکل بھی نہ چھوڑیں۔ آج ہمارے سادہ مسلمان بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ چھوڑنے کے عادی بن چکے ہیں حالانکہ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ چھوڑنا سخت گناہ ہے۔ در اصل یہ ایمان کی کم زوری کی نشانی ہے۔

2۔ لغو اور فضول باتوں سے اجتناب کرتے ہوئے گناہوں سے پرہیز کریں۔ گناہوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ گناہوں میں مبتلا کرنے والے اسباب سے بچا جائے۔ موجودہ دور میں گناہوں میں مبتلا ہونے کا ایک بڑا سبب انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا ہے۔ جس کا بے مقصد استعمال وقت کے ضیاع کے ساتھ ساتھ کئی گناہوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جس میں موسیقی، بد نظری وغیرہ جیسے سخت گناہ شامل ہیں۔

3۔ اپنے دنیوی معاملات کو مختصر کر لیں۔ جتنا ہو سکے اپنا وقت عبادت میں گزاریں۔ خود کو صرف ایک ختم القرآن تک محدود نہ رکھیں بلکہ زیادہ سے زیادہ تلاوتِ قرآنِ کریم کا اہتمام کریں۔ ہر نماز کے بعد تلاوت کی ایک مقدار مقرر کر لیں اور پا بندی کے ساتھ اس پر عمل کریں۔

4۔ فرائض و نوافل کے ساتھ ساتھ تلاوتِ قرآن اور ذکر و اذکار کا اہتمام کرنا چاہیے۔ اپنے ساتھ ایک تسبیح ضرور رکھیں، کیوں کہ اس کی موجودگی آپ کو ذکر و اذکار میں مشغول رکھنے کا سبب بنے گی۔

5۔ فرائض کے ساتھ نوافل کا بھی خصوصی اہتمام کریں۔ یہاں تک کہ اشراق، چاشت اور اوابین پڑھنے کا بھی معمول بنا لیں۔ سحری کے وقت کھانے سے کچھ دیر قبل اٹھ جائیں اور تہجد پڑھ لیں۔

6۔ فحش گوئی اور گالی گلوچ سے پرہیز کریں۔ اپنی نگاہوں کی حفاظت کریں اور تقویٰ اختیار کریں۔

7۔ نبی کریم ﷺ دوسرے مہینوں کی نسبت رمضان المبارک میں زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ رمضان المبارک میں صدقات و خیرات کا خصوصی اہتمام کریں۔ اپنے آس پاس موجود غربا و مساکین کا خصوصی خیال رکھیں۔ بعض لوگ ضرورت ہونے کے با وجود ہاتھ نہیں پھیلاتے، راشن وغیرہ کی صورت میں ایسے لوگوں کی مدد کر کے ان کی دعاؤں کے مستحق بنیں۔

8۔ دعاؤں کا خصوصی اہتمام کریں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ روزہ دار کی دعا رد نہیں کی جاتی۔ اپنی قیمتی دعاؤں میں پوری امتِ مسلمہ اور خصوصًا پاکستان کو ضرور یاد رکھیں۔

9۔ رمضان ٹرانسمیشن کے نام پر نیکیاں کمانے کا جو شارٹ کٹ متعارف کروایا گیا ہے، اس سے اجتناب کریں۔ اس قسم کے اکثر پروگراموں کے ذریعے اسلام کو الگ طریقے پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو سراسر غلط ہے۔

10۔ گھر والوں اور بچوں کی تربیت کے لیے ایک وقت مقرر کر لیں جس میں ان کو ماہِ رمضان کی فضیلت کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات کے متعلق بھی آگاہی فراہم کریں۔

ہماری یہ زندگی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی ہوئی ایک عظیم نعمت ہے۔ لہٰذا ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و تابع فرمانی میں گزاریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

رحمت اللہ شیخ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.