366

کیا یہ عورت کا قصور ہے؟

ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس مسلمان کی تین بیٹیاں ہوں، وہ ان پر خرچ کرتا ہو، حتی کہ ان کی شادی کرادے یا وہ مر جائیں تو وہ باپ کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب ہوں گی۔ کسی نے عرض کیا اگر دو بیٹیاں ہوں؟ فرمایا، اگر دوبیٹیاں ہوں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ ( طبرانی) نیز یہی بشارت ایک بیٹی کے سلسلہ میں بھی مرو ی ہے کہ جس شخص نے ایک بیٹی کی شادی کرائی قیامت کے دن الله تعالیٰ اس کے سر پر بادشاہت کا تاج سجائیں گے، اسی عمل پر ایسے آدمی کے لیے جو اپنی دو یا تین بیٹیوں یا بہنوں کی پرورش میں حسن سلوک اور احسان کرے اور بالغ ہونے پر ان کی شادیاں کرائے اسے جنت میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی اس طرح معیت کی بشارت ہے، جیسے یہ دو انگلیاں ہیں (آپ صلی الله علیہ وسلم نے اشارہ سے دکھلایا)۔ ( ابن حبان وطبرانی) بیٹی کی پیدائش پر اس کی ضروریات کو پوری کرنے والے کے لیے تا قیامت معاونت ربانی کی بھی عظیم خوش خبری ہے۔ چناں چہ ارشاد فرمایا کہ جب کسی کے یہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے تو الله تعالیٰ فرشتوں کو بھیجتے ہیں جو زمین پر آکر کہتے ہیں : ” السلام علیکم اے گھر والو اس لڑکی کو اپنے پَروں تلے ڈھانپ لیتے ہیں او ربچی کے سر پر اپنے ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں کمزو رجان کمزور سے پیدا ہوئی ہے، جو شخص اس بچی کا انتظام چلاتا ہے اس کی قیامت کے دن تک معاونت کی جاتی ہے ۔“ (طبرانی)

یہ او ران جیسی بیسیوں احادیث میں انسانی معاشرے کے لیے عموماً او رمسلم معاشرے کے لیے خصوصاً یہ پیغام پر مسرت اور مژدہٴ جان فزا ہے کہ اے بیٹی کی پیدائش پر منھ لٹکانے والے بھاگے بھاگے پھرنے والے باپ! خوش ہو جا کہ تیری بیٹی کا وجود تیرے لیے ننگ وعار، ذلت وبے عزتی اور بد شگونی وبد فالی نہیں ہے، بلکہ وہ بیٹی تیرے لیے سراپا رحمت ہی رحمت ہے ۔ اس کے سلسلے میں کبھی زحمت کا گمان بھی نہ کر، بلکہ ہمیشہ رحمت کا خزانہ سمجھنا، کیوں کہ یہ تیری دنیا بھی سنوارے گی، باعث برکت ہو گی او راس کی پرورش اور دیکھ بھال تجھے بڑی آسانی کے ساتھ جنت تک پہنچائے گی او رجہنم سے سد سکندری کی طرح آڑ بن جائے گی، نیز وہ لڑکی کا باپ اور میں قیامت کے دن اس طرح ہوں گے جیسے میرے ہاتھ کی دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔

ایک طرف عرب دورِ جاہلیت کا وہ معاملہ تھا ،جو لڑکی کی پیدائش کو اپنے لیے باعث ننگ وعار سمجھتے ہوئے اسے زندہ در گور کر دیا کرتے تھے اور دوسری طرف بیٹی کی پیدائش پر اس کی تربیت وپرورش کے حوالے سے یہ بشارتیں او رتیسری طرف ہمارا ماحول اور لڑکیوں کے سلسلے میں موجود ابتر صورتِ حال ہے، جو ہر سلیم الفطرت انسان کو اس کی سنگینی پر بے چین کر چھوڑتی ہے۔ آج یہ خیال صدفی صد غلط ثابت ہو رہا ہے کہ لڑکی کی پیدائش کو منحوس، باعث ننگ وعار سمجھنا یہ جاہلیت کے دور کی دین ہے یا سماجی جہالت ہے، جب جب تعلیمی سدھار ہوتا جائے گا اور علم کی روشنی پھیلے گی تو جنس کی بنیاد پر فرق وامتیاز خود بہ خود مٹتا چلا جائے گا، لیکن موجودہ اعداد وشمار اس تصور کے برخلاف ہیں، کیوں کہ اس وقت یہ رسم جاہلیت، یعنی دختر کشی کا رحجان معیاری گھرانوں، بہترین کالونیوں میں رہنے والے خاصے پڑھے لکھے او راچھا کمانے والوں میں بھی موجود ہے، چناں چہ یونی سیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق پیدائش سے پہلے یا بعد تقریباً پانچ کروڑو بچیوں کو بے رحمی سے ختم کر دیا گیا ہے۔ 1991ء سے 2011ء تک بیس سال کے عرصے میں ایک کروڑ پچاس لاکھ بچیوں کو پیدائش سے پہلے مار ڈالا گیا ہے۔ (بحوالہ راج:18/ ستمبر2011ء)

اس سے آگے بڑھیں تو اور بھی حیرت واستعجاب ہو گا،26/ ستمبر2011ء کو یہ خبر شائع ہوئی کہ کیرل میں یہ قانون پاس ہونے جارہا تھا کہ تیسری مرتبہ ماں کے پیٹ میں بچہ آتے ہی باپ کو جیل جانا پڑے گا دس ہزار روپے جرمانہ دینا یقینی ہے، اس میں مذہبی اور سیاسی لحاظ سے کوئی چھوٹ نہ ہو گی، بلکہ گورنر کی طرف سے بھی پابندی لگا کر قانون کو او رمضبوط کیا جائے گااور نہ جانے کیا کیا ہتھکنڈے دختر کشی یا بالفاظ دیگر فیملی پلان کے نام پر مردوں کی نس بندی وغیرہ کے ذریعہ کیے گئے اور کیے جارہے ہیں؟ ( العیاذبالله) اس عمل کا محرک جہاں حکومت وقت کی پالیسی یا اسلام دشمنی پر مبنی خیالات کو عام کرنا ہے، وہیں سیدھی سی بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ جوں جوں رحم میں جنس کی تشخیص کی میڈیکل سہولت عام ہوتی گئی ویسا ہی قتل کا تناسب زیادہ ہوتا گیا، اس لیے کہ عموماً والدین، خاندان اور سسرال کے دیگر احباب حتی الامکان ہمیشہ یہ چاہتے ہیں کہ آخری بچہ یا پہلا ہر حال میں لڑکا ہی ہو، اس لیے وہ ڈاکٹر او رجدید میڈیکل جانچ وغیرہ کا سہارا لے کر پیٹ میں پلنے والی لڑکی کو دنیائے آب وگل میں آنے سے پہلے ہی بن بلایا مہمان سمجھ کر ختم کرکے نہ صرف ملک وسماج کو خراب، بلکہ اپنے ایمان وآخرت کو برباد کر رہے ہیں۔ یہ سب کچھ فیملی پلاننگ کی دین ہے ، اگر یہ فیملی پلاننگ کا حربہ اور نظام، سماج اور ملک میں نہ ہوتا تو انسان کبھی بھی لڑکی کو مارنے کے بارے میں نہیں سوچتا، بلکہ یہ خیال کرتا کہ جو بھی بچہ آرہا ہے، آنے دو،ا بھی مواقع بہت ہیں، آگے کبھی بھی لڑکا ہو سکتا ہے، جس سے اپنی نسل چل جائے گی، کوئی فکر کی بات ہی نہیں ہے، جس کی مثال آج سعودی عرب ودیگر متدین اسلامی ممالک میں موجود ہے، لیکن اس کے برخلاف فیملی پلاننگ کا قانون در حقیقت لڑکیوں کے لیے سم قاتل ہونے کے علاوہ او رکچھ نہیں۔ خوب سمجھ لیں۔

دختر کشی یا لڑکی کی پیدائش پر ناخوش ہونا الله کے نظام قدرت اور فطرت کے ساتھ کھلواڑ ہے اور جب جب ایسا ہو گا تو اس کے مضر اثرات دنیا میں ضرور ظاہر ہو کر رہیں گے، آج پوری دنیا میں یہ فکر عام ہو چکی ہے اور اکثر جگہوں پر حکومتوں کی سربراہی میں الله کے نظام کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، اس تشویش ناک صورت حال کی وجہ صرف اور صرف زمانہ جاہلیت کا تصور اورمغربی تہذیب کی تقلید ہے، جاہلیت قدیمہ او رجاہلیت جدیدہ میں صرف فرق یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں پیدائش کے بعد بچی کو زندہ درگور کیا جاتا تھا او راب بے رحم اور ظالم سنگ دل ماں باپ رحم مادر ہی میں مختلف طریقوں سے اسقاطِ حمل کراکے دختر کشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

یاد رکھیے! بچی الله تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم نعمت ہے، وہ خالق نسوانیت ہے او رحضور نبی کریم صلی الله علیہ سلم محسن نسوانیت ہیں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ عورت کا وہ بطن قابل مبارک باد ہے جس سے پہلی اولاد لڑکی ہو، الله ہی اولاد عطا کرنے والا ہے، وہی ان کو رزق دینے والا ہے اور پوری دنیا کا نظام چلارہا ہے، اشرف المخلوقات انسان سے لے کر حیوانات اور کیڑے مکوڑوں تک وہی تخلیق وربوبیت کا اختیار رکھتا ہے، اگر انسان اس کے نظام قدرت کے ساتھ کھلواڑ کرے گا تو اس کے نقصانات پورے معاشرے پر مرتب ہو کر رہیں گے، خاندانی نظام منتشر ہو جائے گا، جس کے برے نتائج اس وقت مغربی دنیا بھگت رہی ہے، جہاں مستحکم وپاکیزہ خاندان کا کوئی تصور نہیں ہے، لہٰذا انسانی بنیادوں پر حکومتوں، جماعتوں، تنظیموں ، مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد اور بطور خاص میڈیکل شعبہ سے جڑے ڈاکٹروں اور علمائے ربانین کی ذمہ داری ہے کہ اس خطرناک سوچ اور اس کے مضر اثرات ونقصانات سے ہر خاص وعام کو آگاہ کریں، عوام بھی اپنی توجہ صرف لڑکوں کے بجائے لڑکیوں پر بھی مرکوز کریں، جو الله جل شانہ کی عظیم نعمت اور دنیا وآخرت میں باعث برکت ہے، سسرال والے اپنی بہوؤں کو، شوہر اپنی بیویوں کو اورخاندان کے رشتہ دار اپنی خاندانی لڑکیوں کو اس سلسلے میں کوئی ٹھیس نہ دیں، انہیں تکلیف دہ باتوں کے ذریعے یا زبان وہاتھ کے ذریعہ ہر گز کوئی تکلیف نہ دیں، کیوں کہ اس میں اس کے کسی عمل کوکچھ بھی دخل نہیں ہے، یہ تو رب العالمین کی قدرت کی کرشمہ سازی ہے، وہ جسے چاہے جو چاہے دے او رچاہے نہ دے، جب ہمارا یہ ایمان ہے تو اس کے خلاف یا عدم وقوع پر اشکال اعتراض کیوں؟ لڑکی کی پیدائش پر بہو، بیوی یا خاندانی لڑکی پر لعنت وملامت کیوں؟ کیا یہ عورت کا قصور ہے؟ بعض لوگ صرف لڑکوں کی پیدائش پر بھی اظہارِ افسوس اور بظاہر ناخوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

مگر در حقیقت خوشی ہی ہوتی ہے، بہرحال اس امر پر ناراضگی یا اظہارِ افسوس کرنا بھی بالکل کوئی معقول بات نہیں ہے، نیز یہ مسئلہ پہلے مسئلے کے مقابلہ میں بہت ہی خفیف ہے اور عام طور سے اس کا کوئی زیادہ چرچا بھی نہیں ہوتا، لیکن یہاں بھی وہی تقدیر پر راضی رہنے والی بات ہے، جس کے آگے سر تسلیم خم کرنا ہی ایک مؤمن کی شان ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنا گویا تقدیر پر عدم رضا مندی کے مترادف ہو گا، جو ایک مؤمن کی شان کے سراسر خلاف ہے۔

تیسرا طبقہ جن کے یہاں ملی جلی اولاد یعنی لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہیں، وہ ہر اعتبار سے مطمئن اور بے فکر ہوتے ہیں اور نہ ہی خاندان وسماج کی طرف سے ان پر کوئی حرف گیری ہوتی ہے، اس لیے وہ طبقہ خارج از بحث ہے۔

آخر میں وہ طبقہ آتا ہے جن کے یہاں اولاد تو ہوتی ہے، مگر بہ تقدیر الہٰی یا تو مردہ پیدا ہوتی ہے یا پیدا ہونے کے چند دن بعد انتقال کر جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وہ والدین یقیناًاظہارِ ہم دردی کے ضرور مستحق ہیں کہ الله تعالیٰ نے ان کی سونی گود ہری بھری ہوتے ہی پھر سے سونی کر دی، مگر ساتھ ہی وہ اس بشارت کے بھی مستحق ہیں جو اولاد کے انتقال کر جانے پر حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایسے والدین کو دی ہے۔ چناں چہ ایک روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس کی اولاد دنیا میں زندہ نہ رہے یا کسی کی ایک آدھی اولاد بعد ولادت انتقال کر جائے یا مردہ ہی پیدا ہو تو وہ اولاد آخرت میں اپنے والدین کی نجات کا ذریعہ بنے گی، بلکہ یہاں تک ارشاد فرمایا کہ وہ اولاد اپنے والدین کی نجات کے سلسلے میں الله تعالیٰ سے حجت کرے گی او رہر حال میں ان کی سفارش کرکے اگر وہ اپنے اعمال کی وجہ سے مستحق جہنم ہیں تو ان کو نجات دلاکر اپنے ساتھ جنت میں لے جائے گی اور الله تعالیٰ بھی ان کی سفارش قبول فرمائیں گے۔

یقینا دنیوی اعتبار سے یہ والدین تعزیت اور اظہارِ ہم دردی کے مستحق ہیں، مگراخرو ی اعتبار سے یہ چیز انتہائی مبارک، بلکہ ذریعہ نجات ہے اور اس معاملہ میں بھی نہ عورت کا کوئی قصور ہے اور نہ ہی اس کے کسی عمل کا کچھ دخل، بلکہ یہ سارا نظام قدرت خداوندی کے تابع ہے، لہٰذا ان تمام اُمور میں ایک بندہٴ مؤمن کو تقدیر کے ہر فیصلے پر بلاچوں چرا راضی رہنا چاہیے او رہر چیز کو خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا یا مردہ ہو کر پیدا ہو یا پیدا ہو کر انتقال کر جائے ہر صورت کو، خدائی حکم سمجھ کر مان لینا چاہیے، یہی ایک مسلمان کے ایمان کا تقاضا ہے اور ایسے ہی لوگ کام یاب ہیں، کیوں کہ ایمان کا ایک شعبہ”والقدر خیرہ وشرہ من الله تعالی“ بھی ہے، اس لیے ان تمام معاملات میں عورت کو موردِ الزام ٹھہرانا یا اس کو قصوروار گرداننا نادانی، حماقت اور جہالت ہے، بلکہ یہ سارا معاملہ الله تعالیٰ ہی کی مرضی او رمشیت کے تابع ہے، جس کو قبول کرنا ہی عین ایمان، عبدیت وبندگی ہے، الله تعالیٰ ہمیں ان حقائق کا صحیح علم اور اس پر مکمل ایمان لانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.