477

قرآن اور علوم القرآن: ایک مختصر تعارف

تحریر : شعبان بیدار صفوی

قرآن کی لغوی تشریح:
علماء کرام قرآن پاک کی تشریح میں مختلف الخیال ہونے کے باوجود اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ” قرآن“ اسم ہے،نہ فعل ہے نہ حرف ہے۔ البتہ اسم کے جمود و اشتقاق میں ان کی آراء مختلف ہیں۔ کچھ لوگوں کے نزدیک قرآن غیر مہموز اسم جامد ہے امام شافعی اور ابن کثیر جیسے بزرگ یہی خیال رکھتے ہیں دوسرے لوگ اسے مشتق تسلیم کرتے ہیں مگر کس سے مشتق ہے اس میں دو باتیں ہیں۔
۱۔ایک خیال یہ ہے کہ وہ ”قرنت الشئی بالشئی“ سے مشتق ہے جیسا کہ عرب بولتے ہیں ”قرن بین البعیرین“ اور یہ بات تو باشعور عوام بھی جانتے ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کو ایک احرام میں جمع کرنے کو” قِران“ بولتے ہیں۔
۲۔ دوسرا نقطہٴ نظریہ ہے جو فرّاء اور ان کے ہم نواوٴں کا ہے کہ قرینہ کی جمع قرائن سے مشتق ہے کیونکہ قرآن پاک کی بعض آیتیں بعض سے مشابہ ہیں۔
اب اگر ”ہمزہ“ کے حوالے سے بات چیت کی جائے تو یہاں بھی خوبصورت آراء کا تنوع نظر آئے گا کہتے ہیں کہ قرآن پاک کا ہمزہ اصلی ہے لیکن ہمزہ اصلی کی بحث بھی دو خانوں میں منقسم ہے لحیانی وغیرہ کی نظر میں قرآن مصدر مہموز غفران کے وزن پر ہے اور قرء بمعنی تلا سے مشتق ہے اور اسی لفظ سے ”مقروء“ کا نام رکھا گیا ہے۔ فرمایا (ان علینا جمعہ و قرآنہ) مگر زجاج جیسے افراد کا نظریہ یہ ہے کہ قرآن مخلان کے وزن پر وصف ہے۔ اور قرء سے مشتق ہے جس کا معنی جمع کرنے کے ہیں جیسا کہ عربوں کا قول ہے( قرأ الماء فی الحوض اذا جمعہ) ابن کثیر اس مناسبت سے بیان فرماتے ہیں کہ قرآن کو قرآن اس بنا پر کہتے ہیں کہ اس کے اندرقصص،اوامر ونواہی، وعدو وعید کو جمع کر رکھا ہے اور سورتیں و آیتیں آپس میں ملی ہوئی ہیں۔ قریب قریب ایسی ہی بات علامہ شبلی نے سیرت النبی میں لکھی ہے کہ قرآن قرء الحیض سے ہے کیونکہ یہ تمام علوم و معارف کا گنجینہ ہے۔
مذکورہ معانی کو دیکھیں تو ایک بھی معنی قرآن کی بوقلمونی سے الگ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی لفظی جامعیت بہت بلند ہے یہ واقعہ ہے کہ قرآن بہت مربوط ہے اور ملا ہوا ہے، قرآن شریف کی بعض آیتیں بعض سے مشابہ ہیں اس کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا، قرأت و تلاوت سے قرآن پاک کا جتنا گہرا رشتہ ہے وہ کسی دوسری کتاب کا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور بات اگر اسرار ورموز، علوم ومعارف کی کی جائے تو یہ ہماری اور آپ کی جرأت ہی کہی جاسکتی ہے کہ اسے ناپ سکیں۔
قرآن کی اصطلاحی تعریف:
قرآن کی اصطلاحی تعریف میں عموماً جو بات بتائی جاتی ہے وہ یوں ہے: اللہ کا کلام جو محمد عربیﷺ پر بواسطہ جبریل نازل ہوا اور ہم تک تواتر سے پہنچا۔مصاحف میں منقول ہے سورہ فاتحہ سے شروع اور سورہ ناس پر ختم ہے۔
یہ تعریف غلط تو نہیں کہی جاسکتی تاہم قرآن کے بجائے مصحف قرآن کے لیے یہ تعریف زیادہ موزوں ہے۔ قرآن کی مختصر تعریف یوں ہوسکتی ہے۔ ”کلام اللہ المنزل علی محمد رسول اللہﷺ“اللہ کا کلام جو محمد رسول اللہﷺ پر نازل ہوا۔
قرآن پاک جیسی عظیم کتاب کا اتنا سا تعارف بہر حال کافی نہیں لیکن اس سے زیادہ کا موقع بھی نہیں۔ چنانچہ یہ سمجھنا چاہئے کہ قرآن پاک علم و عمل کا داعی ہے اور علم کی حد بندی اور اس کے مزاج کی تشریح کرتا ہے۔ عمل کے ضابطے مقرر کرتا ہے قرآن پاک انسان کی موجودہ اور ماقبل و مابعد کی زندگی سے کھلی بحث کرتا ہے۔ مذہب کے بارے میں قرآن پاک کا تصور روایتی نہیں ہے بلکہ قرآن پاک مذہب کو دستور العمل کی حیثیت دیتا ہے قرآن پاک کی سوچ کے آگے ہر سوچ فرسودہ نظر آتی ہے۔ مسائل حیات کے حل کے لئے قرآن نے زمینی حقیقتوں سے کام لیا ہے اور آخری مضمون توحید تعالی ہے بلکہ قرآن کا کوئی نقطہ ایسا نہیں ہے۔ جو کسی نہ کسی حوالے سے توحید ہی کی تشریح نہ کرتا ہو۔
اس کی وجہ بھی ہے قرآن کا بیان ہے کہ انسان کو محض اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے جب مقصد تخلیق عبادت ہے تو رہنمائی کا صحیفہ بھی بنیادی طور سے اسی مقصد کی آبیاری اور تکمیل سے بحث کرے گا۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے جگہ جگہ پہاڑوں ،درختوں، سمندروں، جانوروں، نباتات وغیرہ کے پیدا کئے جانے کا ذکر ہے اور یہ توحید ربوبیت ہے پھر جگہ جگہ یہ بات بھی بیان کی گئی ہے کہ قابل عبادت ذات اسی رب کی ہے یہ توحید الوہیت ہے پھر مختلف مقامات پر رحیم، رحمن، قدوس، وغیرہ کا بیان ہے جو توحید اسماء وصفات ہے۔
ذکر جہنم توحید سے منحرف ہونے والوں کی سزا اور ذکر جنت توحید کے مطیعین کا بدلہ ہے۔ قبر، حشر ونشر وغیرہ توحید کے تئیں جذباتی وابستگی کا ذریعہ ہیں مردود اقوام کا ذکر، توحید سے ہٹنے والوں کا بیان ،صالحین کا تذکرہ ،عاملین کا بیان ہے۔ اوامر و نواہی اور احکامات توحید کے تقاضے ہیں الغرض سب کچھ توحید ہے اور قرآن اسی توحید کے لیے نازل ہوا ہے۔
علوم القرآن:
علوم القرآن کا پہلا جزء علوم ہے جو علم کی جمع ہے۔
قرآن کے تصور میں علم غیر مادی اور حقیقی ہے مثلاً (الرحمن۔ علم القرآن۔خلق الانسان۔ علمہ البیان) یہاں تعلیم قرآن تخلیق انسان پر اس حقیقت کے باوجود مقدم ہے کہ تخلیق انسانی نزول قرآن سے پہلے کا واقعہ ہے گویا تخلیق انسانی کے مقاصد صحیح ترین ادراک تعلیم قرآن کے بغیر ہرگز ممکن نہیں۔
فرمایا (اقراء باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق) آیت میں پڑھنے کو اسم رب سے مختص کیا گیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ جو تعلیم معرفت باری میں معاون نہ ہو وہ ذہنی عیاشی کے سوا کچھ اور نہیں اور اگر رکاوٹ ہے تو قطعی باطل ہے۔ قرآن میں اسی علم کی پذیرائی ہے جو حقائق کی کسوٹی پرپورا اترتا ہو۔ ارشاد ہے (مالھم بہ من علم الا اتباع الظن۔ النساء 157) قرآن پاک کا علمی تصور مجرد نظریہ نہیں ہوسکتا بلکہ عمل لازمی حیثیت رکھتا ہے (ان الذین امنواعملوالصٰلحٰت) ۔
قرآن اور علم کی جزوی تشریح کے بعد ہمیں معلوم کرنا چاہئے کہ علوم القرآن کیا چیز ہے۔
علوم القرآن دراصل مباحث قرآن سے متعلق بحث کرنے والے فن کا نام ہے۔ اس فن میں قرآن کے نزول، جمع و تدوین،ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ،مکی ومدنی، قراء ةو تفسیر کے اصولوں سے تفصیلی بحث کی جاتی ہے۔
تفسیر میں آسانی، دفاع عن القرآن میں سہولت، قرآن پاک کی عمومی اور بلند ترثقافت کی معرفت اور علمی مسائل کی تشریح علوم القرآن کے مقاصد میں شمار کی جاتی ہے۔
ایک چیز ضروری ہے کہ تفسیر اور علوم القرآن کا فرق واضح کر دیا جائے۔
۱۔ اسباب نزول، محکم و متشابہ وغیرہ کی تعین میں دونوں اگرچہ یکساں نظر آتے ہیں تا ہم ایسا نہیں ہے تفسیر میں ان مسائل کی تفصیل نہیں ہوتی اور علوم القرآن میں ان کے تمام پہلووٴں کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔
تفسیر میں آیات کی تشریح و توضیح، معانی، فوائدوحکم وغیرہ ہوتے ہیں بلکہ یہی تفسیر ہے جبکہ علوم القرآن میں یہ چیزیں نہیں مل سکتیں۔
۲۔ تفسیر حقیقت میں اصول وضوابط کی پابندی کے ساتھ عمل مفسر کو کہتے ہیں جب کہ علوم القرآن تفسیری عمل میں معاون اصولوں سے بحث کرتا ہے۔
علوم القرآن کی اصطلاح:
علماء سلف کے یہاں اگرچہ علوم القرآن سے متعلق تمام مسائل پوشیدہ نہ تھے لیکن اس اصطلاح کا ان کے یہاں کوئی رواج نہیں تھا۔ تیسری صدی ہجری کے اواخر اور چوتھی ہجری کی ابتداء میں محمد بن خلف مہرزبان نے اپنی کتاب کا نام رکھنے میں ”علوم قرآن“ کی اصطلاح کا استعمال کیا۔ کتاب کا نام ہے ”الحاوی فی علوم القرآن“ بعض اہل علم پانچویں صدی ہجری کی ابتداء کا ذکرکرتے ہیں کہ ابراہیم حوفی نے ”البرہان فی علوم القرآن“ نامی ایک کتاب تصنیف کی لیکن ابن مہرزبان کو اس میں سبقت حاصل ہے۔ واضح رہے کہ زرقانی وغیرہ نے لکھا ہے کہ کتاب کا اصل نام ”البرہان فی تفسیر القرآن“ ہے۔ جسے غلطی سے”البرہان فی علوم القرآن“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسی طرح اسے پانچویں کے بجائے ساتویں صدی ہجری میں تسلیم کیا گیا ہے۔واللہ اعلم
علوم القرآن کا ماخذ:
فنی حیثیت سے علوم القرآن کوئی ایسی چیز نہیں جو بالکل نئی ہو بلکہ اس کی بنیادیں عہد صحابہ سے ہی ملتی ہیں چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں”واللہ الذی لا الہ غیرہ ما نزلت سورة من کتاب اللہ الا انا اعلم أین نزلت ولا أنزلت آیة من کتاب اللہ الا انااعلم فیما انزلت واعلم احداً اعلم منی بکتاب اللہ تبلغہ الابل لرکبت الیہ“(صحیح البخاری/1۔ص80)
وجہ استدلال: پورے سیاق و سباق کو سامنے رکھتے ہوئے بکتاب اللہ کا مفہوم ہے بعلوم کتاب اللہ کیونکہ شان نزول کی بحث علوم قرآن کی بحث ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:”سلونی فواللہ لا تسئلونی الا اخبرتکم عن کتاب اللہ فواللہ مامن آیة الا انا اعلم ام بلیل نزلت أم بالنھار“ (الاتقان/2۔ص187)
وجہ استدلال: عن کتاب اللہ کو عن علوم کتاب اللہ کا مفہوم دینا۔
ایک صحابی کا قول ہے”ھل تعرف الناسخ والمنسوخ فقال لا: فقال ھلکت او اھلکت“۔
وجہ استدلال: نا سخ ومنسوخ نہ جاننے پر ہلاکت کی بات۔
عہد صحابہ کے بعد تابعین کرام کا زمانہ آتا ہے یہاں مختلف تفسیری مدارس تھے۔ مدرسہ ابن عباس، مدرسہ ابی ابن کعب، مدرسہ عبداللہ ابن عباس۔ ان مدارس میں تفسیر کے تمام متعلقات بھی مثلاً غریب القرآن، اسباب النزول، مکی ومدنی وغیرہ شرح وبسط سے پڑھائے جاتے تھے بعد میں یہی چیزیں منفرد حیثیت سے علوم القرآن کی بنیاد بن گئیں۔ چنانچہ دوسری صدی ہجری میں قتادہ بن دعامہ بن الدوسی نے ”الناسخ والمنسوخ“ لکھی اور ابن قتیبہ نے تیسری صدی میں تاویل ”مشکل القرآن“ لکھی۔
مختلف صدیوں میں علوم القرآن کے سلسلے:
دوسری اور تیسری صدی ہجری میں پوری اصطلاح وجود نہ پاسکی لیکن چوتھی صدی سے اس اصطلاح کی شروعات ہوئی۔ درج ذیل ترتیب میں ایک جھلک دکھائی جا رہی ہے۔
چوتھی صدی ہجری
الحاوی فی علوم القرآن (محمد بن خلف المہرزبان)
پانچویں صدی ہجری
البرھان فی علوم القرآن(علی بن ابراہیم بن سعید الحوفی)
چھٹی صدی ہجری
المجتبی فی علوم القرآن(ابن الجوزی)
ساتویں صدی ہجری
المرشد الوجیزالی علوم تتعلق بالکتاب العزیز(ابوشامہ المقدسی)
آٹھویں صدی ہجری
البرھان فی علوم القرآن(علامہ زرکشی)
نویں صدی ہجری
الفوائد الجملیہ علی الآیات الجلیلہ(ابو علی حسین الشوشاوی)
دسویں صدی ہجری
الاتقان فی علوم القرآن(جلال الدین السیوطی)
گیارھویں صدی ہجری
الزیادة والاحسان فی علوم القرآن(ابن عقیلہ)
بارہویں صدی ہجری
کفایة المستفید فی علم التجوید(عبدالغنی)
تیرہویں صدی ہجری
الناسخ والمنسوخ(ابن حمید)
چودہویں صدی ہجری
تفسیر ومفسرین(الذھبی)
چودہویں صدی ہجری
مناہل العرفان فی علوم القرآن(علامہ زرقانی)
واضح رہے مذکورہ بعض صدیوں کی کتابیں اسی انداز کی ہیں جس انداز کی دوسری اور تیسری صدی ہجری کی ہیں۔
مصادر ومراجع:
دراساة۔18-19
سیرة النبی۔
مناہل۔1ص29
دراساة۔29-30
الاتقان1۔ص7
الاتقان1۔ ص127
دراساة 41۔ 32
فہرست ابن ندیم 214
علوم القرآن صبحی صالح۔167
مناھل 1۔ص36
دراساة42-43

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.