214

قرآن کی وجہ تسمیہ

[”نقطۂ نظر”کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

خدا کی طرف سے جو کتابیں انسانوں کی رشد و ہدایت کے لیے مختلف زمانوں میں بھیجی گئیں ان کا کوئی نہ کوئی نام یقیناًرہا ہو گا۔ لیکن آج یہ معلوم کرنا ناممکن ہے کہ وہ نام کیا تھے۔ جن مذہبی کتابوں کے نام محفوظ رہ گئے ہیں ان میں تورات، زبور اور انجیل ہیں جو بالترتیب حضرت موسیٰ، حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام کو دی گئی تھیں۔ ان کتابوں کے یہ نام قرآن میں آئے ہیں۔ تورات کے معنی کتاب یعنی شریعت، زبور کے معنی مناجات اور انجیل کے معنی بشارت کے ہیں۔ یہ نام ان کی معنوی خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں۔ تورات میں شرائع کا ذکر ہے، انجیل میں آخری رسول کی آمد کی بشارت دی گئی ہے اور زبور میں خدا کی حمد پر مشتمل نغمات ہیں۔ حضرت داؤد بڑے خوش الحان تھے۔ جب زبور کی تلاوت کرتے تو ان کے دلی جوش، جذبۂ صادق اور خوش آوازی کی وجہ سے شجر و حجر اور پرندے تک وجد کرنے لگتے تھے۔ (سورۂ سبا۔ ۱۰)

ان آسمانی صحائف کی طرح آخری صحیفۂ ہدایت کا بھی نام رکھا گیا اور وہ قرآن ہے۔ بہت سے اہلِ علم کا خیال ہے کہ ابتدا میں اس کتاب کا نام کچھ اور تھا۔ روایت ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق نے قرآن مجید جمع کرایا تو اس کے نام کے بارے میں صحابہ سے مشورہ کیا۔ کسی نے کہا کہ اس کے پاروں کو انجیل کہا جائے، لیکن اس رائے کو پسند نہیں کیا گیا۔ کسی نے کہا کہ اس کو یہود کے سِفر ہاے پنجگانہ کی طرح سِفر کہا جائے۔ یہ بات بھی قابلِ قبول نہ ٹھہری۔ آخر کار عبداللہ ابن مسعودؓ نے کہا کہ حبشہ کی مہاجرت کے زمانے میں ،میں نے ایک کتاب دیکھی جس کا نام مصحف تھا۔ اس خیال کو سب نے پسند کیا اور قرآن مجید کا نام مصحف ۱؂ رکھ دیا گیا ۲؂ ۔

اگرچہ اس روایت کی اسناد منقطع ہیں لیکن اس مضمون کی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جمعِ قرآن سے پہلے اس کا کوئی نام نہیں تھا۔ مجموعۂ وحی متفرق سورتوں کی شکل میں تھا اور جب ان کو جمع کیا گیا تو اس کا نام مصحف رکھا گیا ۳؂ ۔ راقم کو اس خیال سے اتفاق نہیں ہے۔ قرآن میں اس امر کے شواہدکثرت سے موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا نام شروع سے قرآن تھا۔ اس سلسلہ میں درج ذیل آیاتِ حجّت قطعی کی حیثیت رکھتی ہیں:

(۱) شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِِ الْقُرْاٰنُ. (سورۂ بقرہ: ۱۸۵)

(۲) وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ. (توبہ: ۱۱۱)

(۳) قُلْ لَّءِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ. (اسرائیل: ۸۸)

(۴) اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا. (سورۂ محمد: ۲۴)

(۵) فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا. (سورۂ جن: ۱)

(۶) فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ. (سورۂ نحل: ۹۸)

(۷) یٰسٓ وَالْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ. (سورہ یٰسنٓ: ۱، ۲)

(۸) فَاقْرَءُ وْا مَاتَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ. (سورۂ مزمل: ۲۰)

یہ نام یعنی قرآن، نہ صرف اہلِ ایمان کے درمیان معروف تھا بلکہ کفار مکہ بھی اس کو اسی نام سے جانتے تھے جیسا کہ اس آیت سے بالکل واضح ہے:

قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا اءْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ. (سورۂ یونس: ۱۵)

”وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے (تم سے) کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی قرآن لاؤ یا اس میں تبدیلی کرو”

ان آیات کی موجودگی میں ایک لمحہ کے لیے بھی یہ گمان مشکل ہے کہ جمعِ وحی کے وقت اس کے نام کے متعلق صحابہ کے درمیان کوئی اختلاف واقع ہوا تھا۔ مذکورہ روایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا نام مصحف اس کی سورتوں کی جمع و ترتیب کے اعتبار سے رکھا گیا تھا۔ چنانچہ جب حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں قرآن کو دوبارہ جمع کیا گیا اور اس کی نقلیں تیار کرا کے ممالکِ مفتوحہ میں بھیجی گئیں تو اس کا نام ‘مصاحفِ عثمانی’پڑ گیا۔ اس کے علاوہ جن صحابہ نے ذاتی طور پر اپنی تلاوت کے لیے اس کو لکھا اور اپنے پاس رکھا ان کے نسخوں کا نام بھی ان کے نام کی طرف منسوب ہو کر مصحف کہلایا، مثلاً مصحفِ ابی بن کعب وغیرہ۔

لیکن روایت کرنے والے نے اس کو اس طرح بیان کیا گویا جمعِ قرآن سے پہلے اس کا کوئی نام ہی نہ تھا۔ بہرحال اوپر کی گفتگو سے معلوم ہو گیا کہ آخری صحیفۂ ہدایت کا نام ابتدا سے قرآن تھا اور یہی اس کا اصلی نام ہے۔

مادۂ اشتقاق اور لغوی معنی

جہاں تک قرآن کے مادۂ اشتقاق اور اس کے لغوی معنی کا تعلق ہے، اس کے بارے میں بہت پہلے سے اختلاف چلا آ رہا ہے۔ عبداللہ ابن عباسؓ (م۶۸ھ) کا ایک قول ہے کہ قرآن ‘رجحان’ کے وزن پر قرأت (قرء یقرء) سے مصدر ہے، پڑھنے کے معنی میں۔ اور دوسرا قول ہے کہ اسم ہے، یعنی وہ چیز جو پڑھی جائے (مایقرأ)۔

قتادہ جو تابعین کے طبقۂ دوم سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا قول ہے کہ قرآن مصدر ہے قَرءَ سے (باب نصر و فتح)، جس کے معنی جمع کرنے کے ہیں۔ عرب جب کسی چیز کو یکجا کرتے اور ایک حصے کو دوسرے حصے کے ساتھ ملا کر اس میں مقداری اضافہ کرتے تو کہتے تھے: قرأت الشئ قرآنا ”میں نے اس میں کچھ اضافہ کیا۔ عمر بن کلثوم تغلبی (م۴۰ق ھ) جو عہد جاہلی کا ایک مشہور شاعر ہے، اپنے معلقہ میں کہتا ہے:

ذراعیْ عیطلٍ إدماءَ بکرٍ

ھِجٰان اللّون لم تقرأ جنینا

”میرے دونوں بازو خوبصورت اور سفید ہیں، اس جوان اونٹنی کے دست و بازو کی طرح جس نے ابھی تک (اپنے رحم میں) کسی جنین کو جمع نہیں کیا ہے (یعنی اس نے ابھی تک کوئی بچہ جنا نہیں ہے، خوب فربہ ہے)۔”

لیکن اکثر علما اور مفسر ین نے ابن عباسؓ کے پہلے قول کو ترجیح دی ہے، یعنی قرآن بمعنی قرأت ہے۔ اس سلسلے میں علما لغت اور فقہاء و متکلّمین نے جو کچھ لکھا ہے اس کو مختصراً یہاں لکھا جاتا ہے۔

زجّاج (م ۳۱۱ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن مہموز ہے اور ‘فعلان’ کے وزن پر (مثل غفران) القَرْء سے مشتق ہے اور اس کے معنی جمع کرنے کے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں: قْرء الماءُ فی الحوض ”حوض میں پانی جمع ہو گیا۔” جوہری (م ۳۹۳ھ) اور اس سے پہلے سفیان بن عینیہ (م ۱۹۸ھ) نے بھی قرآن کے یہی معنی بیان کیے ہیں ۴؂ ۔

لحیانی (م۲۱۵ھ) نے لکھا ہے کہ قرآن مصدر مہموزی ہے، رجحان اور غفران کے وزن پر اور ‘قرء’ سے مشتق ہے، بمعنی ‘تلا’ یعنی پڑھنا۔ چوں کہ مفعول کو مصدر بھی کہہ دیے ہیں، مثلاً مکتوب کو جو لکھا ہوتا ہے کتاب کہا جاتا ہے، اسی طرح ‘مقروء’ سے قرآن ہو گیا ۵؂ ۔

فراء (م۲۰۷ھ) کا قول ہے کہ قرآن قرائن سے جو قرینہ کی جمع ہے، مشتق ہے، اس لیے کہ ایک پارہ کی آیات دوسرے پارہ کی آیات سے مشابہت رکھتی ہیں۔ اور یہ لفظ دراصل بغیر ہمزہ کے ہے۔ قرطبی (م۶۷۱ھ) اس قول کے حامی ہیں لیکن زجاج اور ابوعلی فارسی (م ۳۷۷ھ) اس قول کے منکر ہیں۔

بعض دوسرے علما لغت نے بھی اسے بغیر ہمزہ کے مانا ہے لیکن اسے ‘قری’ سے مشتق بتایا ہے، بمعنی ضیافت و مہمانی، یعنی قرآن اللہ تعالیٰ کا بچھا ہوا خوانِ نعمت ہے کہ ہر شخص بقدر ظرف و استعداد اس سے بہرہ مند ہو۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: انّ ھذا القرآن مائدۃ فخذوا منہ ”یہ قرآن ایک بچھا ہوا دستر خوان ہے، اسے لے لو” ۶؂

خطیب بغدادی (م۴۶۳ھ) نے لکھا ہے کہ امام شافعی (م ۲۰۴ھ) اسماعیل بن قسطنطین (معروف بہ قسط) سے قرآن پڑھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ لفظ قرآن اسم ہے، مہموز نہیں، یعنی یہ قرأت سے مشتق نہیں ہے۔ اگر قرأت سے مشتق ہوتا تو جو کچھ پڑھا جا چکا ہوتا وہی قرآن کہلاتا۔ امام بیہقی (م ۴۵۸ھ) نے بھی لکھا ہے کہ امام شافعی قرآن کو اسمِ غیر مہموز قرار دیتے تھے، یعنی یہ کسی لفظ سے مشتق نہیں، بلکہ کلام الہٰی کا ایک خاص نام ہے۔ علامہ ابن کثیر (م ۷۷۴ھ) اور امام جلال الدین سیوطی ؒ (م۹۱۱ھ) اسی خیال کو درست سمجھتے تھے ۷؂ ۔

امام اشعری (۳۲۴ھ) اور ان کے متّبعین کا کہنا ہے کہ لفظ قرآن ‘قرن’ سے مشتق ہے۔ عرب جب کسی چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑتے تھے یعنی ضمیمہ کرتے تھے تو کہتے تھے: قرنت الشئ بالشء۔ اس لحاظ سے سورتوں اور ان آیات کی جمع و تالیف کو بھی قرآن کہتے ہیں، بالفاظ دیگر جب آیات قرآن کو ایک دوسرے کے ساتھ مقرون کرتے ہیں تو اس کے مجموعہ یا اس کے اجزاء کو قرآن کہتے ہیں ۸؂ ۔ اس میں نون لفظ کے اصلی حروف کا جزء ہو گا اور ہمزہ ممدودہ زائدہ۔ اس صورت میں قرآن کا تلفّظ بغیر ہمزہ کے کیا جائے گا ۹؂ ۔

قرآن میں اس لفظ کے استعمالات

قرآن کی مختلف سورتوں میں یہ نام یعنی قرآن نحوی اعتبار سے ۶۸ مرتبہ آیا ہے، پچاس بار بصورت معرفہ یعنی الف لام تعریف کے ساتھ اور سولہ بار بغیر تعریف کے۔ ان مقامات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا مادہ ‘قرء’ ہے جس کے اصل معنی تو جمع کرنے کے ہیں لیکن ثانوی معنی پڑھنے کے ہیں۔ پڑھنے کا عمل دراصل حروف و کلمات اور جملوں کو جمع کرنے کا عمل ہے۔ ان کو ایک دوسرے سے ملائے بغیر پڑھا نہیں جا سکتا ہے۔ اسی ثانوی معنی میں فرمایا گیا ہے: اَقمِ الصّلوٰۃ لدلوکِ الشمس الیٰ غسقِ الّیل وقراٰن الفجران قران الفجر کان مشھودا. (بنی اسرائیل: ۷۸) ”نماز قائم کرو زوالِ آفتاب کے وقت سے لے کر شب کے تاریک ہونے تک اور خاص کر فجر کی قرأت کا (اہتمام کرو)، بے شک فجر کی قرأت میں (دل و دماغ کی) حضوری ہوتی ہے” اسی معنی میں حسان بن ثابتؓ کی طرف یہ شعر منسوب ہے:

ضحَوا بأشمط عنوان السجودِیہ

یقطَع اللیل تسبیحا و قرآنا

اس شعر میں واضح طور پر قرآن کو پڑھنے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن ”قرء” کے اصلی معنی جیسا کہ اوپر ذکر ہوا، جمع و تالیف کے ہیں۔ متعدد علماءِ لغت و نحو کے اقوال سے جیسا کہ پہلے بیان ہوا، اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔ اس بارے میں قرآن کی ایک آیت بڑی اہمیت رکھتی ہے جس میں جمع و قرآن کے الفاظ ایک ساتھ استعمال کیے گئے ہیں، فرمایا ہے:

لَاتُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ. اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَقُرْاٰنَہٗ. فَاِذَا قَرَاْنَہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہٗ. ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ. (سورۂ قیامہ: ۱۶۔۱۹)

عام طور پر علماء و مفسرین نے اس آیت کے فقرہ ‘جمعہ’ میں جمع سے ایک سورہ میں آیتوں کو جمع کرنا مراد لیا ہے ۱۰؂ ، لیکن راقم کو اس سے اختلاف ہے۔ اس آیت کا پہلا فقرہ ”لا تحرک بہٖ لسانک لتعجل بہ” بتاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نزول وحی کے وقت اپنی زبان کو اس لیے جلدی جلدی گردش دیتے تھے کہ اسے یاد کر لیں، اس وحی کو ان کے سینے میں جمع کر دینا ہماری ذمہ داری ہے، پھر وہ اس کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ چنانچہ ایک دوسری جگہ فرمایا گیا ہے: سنقرئک فلا تنسیٰ. الا ماشاء اللّٰہ.(سورۂ اعلیٰ: ۶)

اسی طرح اکثر علماء نے ‘قراٰنہ’ میں قرآن کو پڑھنے کو معنی میں لیا ہے، جس کی وجہ غالباً سورۂ بنی اسرئیل کی آیت ۷۸ ہے جس میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے اور ا س کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ حیرت تو یہ ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے بھی یہی معنی لکھے ہیں: ۱۱؂

وقراٰنہ یعنی توفیق دہیم قرآء امت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم را و عوام ایشان را بر تلاوت آن تا سلسلۂ تواتر از ہم گسستہ نشود، خدائے تعالیٰ می فرمایند کہ درفکر مباش کہ قرآن از دل تو فراموش شود و مشقت تکرار آن مکش ۱۲؂

”اور ‘قراٰنہ’ کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتؐ کی امت کے قاریوں اور عام لوگوں کو اس کی تلاوت کی توفیق عطا کریں گے تاکہ سلسلۂ تواتر ٹوٹنے نہ پائے۔ اور خداتعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اس کی ذرا بھی فکر نہ کرو کہ قرآن تمہارے دل سے فراموش ہو جائے گا۔ اس لیے اس کی تکرار کی مشقت نہ اٹھاؤ”

‘قراٰنہ’ کی یہ تشریح محلِ نظر ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ قرآن کی آیات مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کی گئی تھیں۔ ان متفرق آیات کو ایک سلسلۂ نظم میں پرونا بہت بڑا مسئلہ تھا۔ اسی مسئلہ کے حل کے لیے ‘قراٰنہ’ کا فقرہ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متفرق آیات کو ایک سورہ میں ایک خاص نظم و ترتیب سے اکٹھا کر دینا کہ کہیں سے کوئی ادنیٰ معنوی خلل واقع نہ ہو، خدا کی ذمّہ داری ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ثم اِنَّ علینا بیانہ ”پھر ہمارے ہی ذمّہ ہے اس کی وضاحت”، یعنی صرف متن کی حفاظت ہی اللہ کی ذمّہ داری نہیں بلکہ اس کے معنی کی وضاحت و تفصیل کر کے اس کو معنوی تحریف سے محفوظ رکھنا بھی اس کی ذمّہ داری میں داخل تھا۔ الحمدللہ، یہ تینوں وعدے اس طرح پورے ہوئے کہ آج دنیا اس کو دیکھ کر انگشت بدنداں ہے۔

تاریخ کی شہادت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عام اُمّتیوں کی طرح قرآن مجید کو حفظ کرنے کی مشقت نہیں اٹھائی۔ ادھر جبرئیل ؑ نے وحی سنائی اور ادھر وہ لوح حافظہ پر نقش کا لحجر ہو گئی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام کی ہدایت کے مطابق متفرق آیات کو سورتوں کے اندر اس درجہ منظم صورت میں رکھا گیا کہ کہیں سے کوئی معنوی بے ربطی پیدا نہیں ہوئی۔

تیسرا وعدہ یعنی ‘ان علینا بیانہ’ اس طرح پورا ہوا کہ آج قرآن دنیا کی واحد مذہبی کتاب ہے جو اپنے متن کی خود شارح ہے۔ اس میں دین کے اساسی موضوعات سے متعلق مجمل آیات کی تفصیل اور مشکل مضامین کی توضیح اور تشریح طلب الفاظ کی معنوی شرح کا عجیب و غریب اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن متن اور شرح کے اختلاط کے باوجود نظم کلام میں کہیں بھی کسی نوع کا انتشار پیدا نہیں ہوا ہے اور یہ بلاشبہ قرآن کا اعجاز بلکہ بہت بڑا اعجاز ہے۔

‘جمعہ و قرانہ’ کی اس معنوی وضاحت کے مطابق سورۂ قیامہ کی زیرِ بحث آیات کا صحیح مفہوم یہ ہو گا کہ ”اے نبی تم وحی کو یاد کرنے کی غرض سے اپنی زبان کو جلدی جلدی گردش نہ دو، اس کو جمع کرنا (یعنی تمہارے سینے میں اس کو جمع کرنا، یاد کرا دینا) اور اس کی ترتیب و تالیف (یعنی متفرق آیات کو ایک سورہ کے اندر حکیمانہ طور پر مرتب کر دینا) ہمارے ذمّہ ہے۔ پس جب ہم اس کو ایک ترتیب سے اکٹھا کر دیں تو تم اس جمع و ترتیب کی پیروی کرو، (یعنی اسی کے مطابق اس کی تلاوت کرو اور مومنین بھی کہ اس کی تلاوت کریں اور اس کو حفظ کریں)، اور ہمارے ہی ذمّہ ہے اس کی تفصیل و وضاحت۔”

قرآن کے مادۂ اشتقاق کی مذکورہ بالا تفصیلی بحث کی روشنی میں ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ آخری صحیفۂ ہدایت کا نام قرآن اس لیے رکھا گیا کہ اس کے اندر حروف و کلمات، آیات اور سورتیں ایک خاص نظم و ترتیب کے ساتھ جمع ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ آسمانی صحیفوں کے اندر جو خدائی احکام اور حقائق و معارف پراگندہ یا محرف حالت میں تھے یا جن کو ان کے حاملین نے بھلا دیا تھا، ان سب کو اس آخری مجموعۂ ہدایت کے اندر محفوظ کر دیا گیا ہے۔ (مائدہ۔ ۴۸)۔ اس کے علاوہ آیندہ نسل انسانی کو جو ضروری ہدایات درکار تھی وہ بھی اس میں فراہم کر دی گئی ہیں۔

اس پہلو سے دیکھیں تو اس کتاب کا نام ہی اس کے اعجاز کی دلیل ہے۔ آیات کا مختلف اوقات میں نجماً نجماً نازل ہونا اور پھر ان کو ترتیب نزولی کا لحاظ کیے بغیر ایک سورہ کے اندر اس طرح رکھ دینا کہ ہر آیت دوسری آیت سے گہری معنوی مناسبت رکھتی ہو، کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ تمام مذہبی صحیفوں کی بنیادی تعلیمات کو پوری صحت کے ساتھ اس کے اندر محفوظ کرنا بھی انسانی قدرت سے خارج ہے۔ اور ایک اُمی انسان سے تو اس کی توقع ہی نہیں کی جا سکتی۔

۱؂ کتب سماویہ کے لیے قرآن مجید میں جو مشترک لفظ استعمال ہوا ہے وہ ‘صحف’ ہے جو صحیفہ کی جمع ہے، مثلاً صحفِ ابراہیم و موسیٰ (النجم: ۳۶)، صحفِ اولیٰ (طٰہ: ۱۳۳)، صحف مکرّمہ (عبس: ۱۳)، صحفِ مطھّرہ (سورۂ بیّنۃ: ۲) اور صحف منشَرہ (مدثر: ۵۲)۔ صحیفہ اس چیز کو کہتے ہیں جو پھیلی اور کشادہ ہو۔ اسی لیے صفحہ کو بھی جس پر لکھا جاتا ہے، صحیفہ کہتے ہیں۔ نامہ کو بھی صحیفہ کہا جاتا ہے (سنن ابی داؤد، باب الزکوٰۃ، ومسند ابن حنبل ۴/۱۸۱)۔ مجموعہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، چنانچہ حضرت ابوہریرہ کے مجموعۂ حدیث کو جسے ھمام بن منبہ (متوفی ۱۰۱ھ) نے نقل کیا ہے، صحیفۂ ابوہریرہ کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ لکھے ہوئے صحائف کے مجموعہ کو جو دو جلدوں میں ہو مصحف کہا جاتا ہے اور اس کی جمع مصاحف ہے۔ لیکن بعض اہل علم کی رائے میں مصحف اور صحیفہ ہم معنی ہیں، یعنی لکھی ہوئی چیزوں کے مجموعہ کو مصحف یا صحیفہ کہا جاتا ہے۔ شعرائے جاہلیت نے اپنے کلام میں اسفارِ نصاریٰ کو مصاحف کے نام سے موسوم کیا ہے۔ مثلاً امرأ القیس کہتا ہے:

اتت حجج بعدی علیہ فاصبحت

کخط زبور فی مصاحف رہبان

۲؂ الاتقان فی علوم القرآن، امام جلال الدین سیوطی، ج۱، ص ۱۸۴، و تاریخ الرسل والملوک، طبری، ص۱۹۱۹

۳؂ تفسیر طبری (جامع البیان)، محمد بن جریر طبری، ج۱، ص۲۰، مزید دیکھیں، بخاری (فضائل القرآن)

۴؂ البرہان فی علوم القرآن، علامہ بدر الدین زرکشی، ج۱، ص۲۷۷، والاتقان فی علوم القرآن، ج۱، ص۵۱

۵؂ تفسیر طبری، ج۱، ص۳۳

۶؂ سنن دارمی (فضائل القرآن)، ص۱

۷؂ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی، ج۲، ص۶۲، البرہان فی علوم القرآن، ج۱، ص۲۷۸، الاتقان فی علوم القرآن، ج۱، ص۵۱

۸؂ قرآن، مقارنت اور وصل کے معنی میں ہے۔ جس وقت دو ستارے ایک برج میں جمع ہو جاتے ہیں تو اس اجتماع کو علم النجوم کی اصطلاح میں قران کہا جاتا ہے۔ فقہ میں حج و عمرہ کو ایک ساتھ جمع کرنے کو حجِّ قران کہتے ہیں۔ اسی طرح نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد کسی دوسری سورہ کے ملانے کو بھی قران کہا جاتا ہے۔

۹؂ تفصیل کے لیے دیکھیں، تاریخ قرآن، ڈاکٹر محمود رامیار، ص۹ تا ۲۰

۱۰؂ شاہ صاحب نے لکھا ہے: ان علینا جمعہ آن ست کہ لازم است وعدۂ جمع کردن قرآن برما در مصاحف، ”ان علینا جمعہ کے معنی یہ ہیں کہ مصاحف میں قرآن کو جمع کرنے کا وعدہ ہم پر لازم ہے۔” (ازالۃ الخفاء، ج۱، ص۳۹)

۱۱؂ ازالۃ الخفاء، ج۱،ص۳۹

۱۲؂ اس اقتباس کے آخری دو جملوں کا تعلق در اصل ‘ان علینا جمعہ’ سے ہے جسے شاہ صاحب نے ‘قرانہ’ سے جوڑ دیا ہے جو ظاہر ہے کہ صحیح نہیں ہے۔

http://www.al-mawrid.org سے لیا گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.